غلاف کعبہ: مذہب اسلام کے مقدس ترین مقام سے ’کسوہ‘ کے ٹکڑے جیفری ایپسٹین کو بھیجنے کا تنازع

بی بی سی اردو  |  Feb 13, 2026

EPAکعبہ کو مذہب اسلام کا مقدس ترین مقام کہا جاتا ہے

دنیا بھر میں مسلمان ان دستاویزات پر اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذہب اسلام کے مقدس ترین مقام کعبہ کو ڈھانپنے والے کپڑے کے کئی ٹکڑے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کو بھیجے گئے تھے۔

30 جنوری کو امریکی محکمہ انصاف کی طرف سے جاری کردہ ایپسٹین فائلز کی قسط میں سنہ 2017 کی ایسی ای میلز ہیں، جن میں غلاف کعبہ (جسے ’کسوہ‘ کہا جاتا ہے) کے تین ٹکڑوں کی کھیپ کی نشاندہی کی گئی ہے، جن کو سعودی عرب سے کیریبیئن میں ایپسٹین کے گھر بھیجا گیا۔

ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’ذرا سوچیے کہ دنیا کے مقدس ترین مقام کا ایک حصہ گندی ترین جگہ پر بھیجا گیا۔‘

سنہ 2014 کی ایک تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایپسٹین ایک آدمی کے ساتھ زمین پر پڑے کپڑے کے ایک ٹکڑے کا معائنہ کر رہے ہیں، جو کعبہ کے دروازے کو ڈھانپنے والے ’کسوہ‘ کے سب سے زیادہ آرائشی حصے سے مشابہت رکھتا ہے۔

ایک اور ایکس صارف نے لکھا کہ ’یہ دیکھ کر میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا کہ کسوہ کو قالین کی طرح فرش پر بچھایا گیا۔‘

تاہم اس تصویر کا ان دستاویز سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا، جن سے پتہ چلتا ہے کہ کسوہ کے حصے سنہ 2017 میں ایپسٹین کو بھیجے گئے تھے۔

اور بھی یہ واضح نہیں کہ آیا تصویر میں موجود کپڑا اصلی ’کسوہ‘ کا حصہ ہے۔

Source: US Department of Justiceاس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایپسٹین ایک آدمی کے ساتھ زمین پر پڑے کپڑے کے ایک ٹکڑے کا معائنہ کر رہے ہیں، جو کعبہ کے دروازے کو ڈھانپنے والے ’کسوہ‘ کے سب سے زیادہ آرائشی حصے سے مشابہت رکھتا ہے’مسجد‘

غلاف کعبہ کو کالے رنگ کے جس ریشم سے تیار کیا جاتا ہے اس پر سنہری اور چاندی کے تاروں سے قرانی آیات کندہ کی جاتی ہیں۔

مکہ میں مسجد الحرام کے مرکز میں موجود کعبہ کی چاروں دیواروں کو ’کسوہ‘ سے ڈھانپا جاتا ہے۔

ہر سال سینکڑوں عازمین اس کو ہاتھ لگاتے ہیں اور نئے اسلامی سال کے موقع پر ایک تقریب میں اسے تبدیل کیا جاتا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کی آرکایئو کے مطابق سنہ 2017 میں ایپسٹین کے سٹاف اور ’عزیز الاحمدی‘ نامی ایک شخصیت کے درمیان ای میلز کا تبادلہ ہوا، جس میں ایپسٹین کو ’کسوہ‘ کے تین ٹکڑوں کی ترسیل کا بندوبست کیا گیا: ایک سبز رنگ کے ٹکڑے کو کعبہ کے اندر استعمال ہونے والے کپڑے کے طور پر بیان کیا گیا، بیرونی غلاف میں استعمال ہونے والا ایک کالا کپڑا اور اسی مواد سے بنا ہوا ایک کڑھائی والا کپڑا تاہم اسے استعمال نہیں کیا گیا تھا۔

یکم فروری 2017 کی ایک ای میل اشارہ کرتی ہے کہ ’احمدی‘ کہلانے والے کسی کے معاون نے ایپسٹین کے عملے کو بتایا کہ وہ ’مسجد کے لیے کعبہ کے کچھ ٹکڑے بھیجیں گے۔‘

یہ واضح نہیں کہ آیا وہ ’مسجد‘ ایپسٹین کی پراپرٹی کے کسی مقام کو کہہ رہے تھے۔

Reutersہر سال نئے اسلامی سال کے موقع پر ایک تقریب میں ’کسوہ‘ کو تبدیل کیا جاتا ہے

اب تک جن ایپسٹین فائلز کا جائزہ لیا گیا، ان میں جزیرے پر کسی مسجد کا ذکر نہیں تاہم امریکی محکمہ انصاف کی ویب سائٹ پر موجود دستاویز کے مطابق ایک چھوٹی عمارت ’مندر‘ کا حوالہ ملتا ہے۔

یہ واضح نہیں کہ ای میلز کے تبادلے میں اس کا مطلب کیا تھا۔

یہ ’لٹل سینٹ جیمز‘ جزیرے پر ایک مندر ہے، یہ جزیرے کے جنوبی حصے میں سنہری گنبد کے ساتھ ایک چھوٹی سی عمارت ہے۔

واضح رہے کہ دستاویز میں جس ’مسجد‘ کا ذکر کیا گیا، وہ مکہ کی مسجد الحرام نہیں جہاں پر کعبہ موجود ہے۔

دستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کارگو 4 مارچ 2017 کو ایپسٹین کے پالم بیچ میں موجود گھر پہنچا اور پھر اسے یو ایس ورجن آئی لینڈ میں سینٹ تھامس بھیج دیا گیا۔ یہ ایپسٹین کے نجی جزیرے ’لٹل سینٹ جیمز‘ سے قریب ہے جس کے بارے میں متعدد متاثرین نے الزام لگایا کہ انھیں وہاں سمگل کیا گیا اور ان کا جنسی استحصال ہوا۔

14 مارچ 2017 کی تاریخ کے ساتھ امریکی کسٹم کے ایک فارم پر اس سامان کو ’پینٹنگز، ڈرائنگز اور پیسٹلز‘ قرار دیا گیا۔

21 مارچ کی ایک ای میل میں ’ایپسٹین کے گھر‘ کسوہ کے ٹکڑے ڈیلیور ہونے کی تصدیق کی گئی۔

اس کے بعد احمدی کی جانب سے بھیجی گئی ایک ای میل میں ایپسٹین کو بتایا گیا کہ اس سیاہ ٹکڑے کو ’سنی، شیعہ اور دیگر فرقوں کے کم از کم ایک کروڑ مسلمانوں نے چھوا۔‘

ای میل میں کہا گیا کہ ’وہ کعبہ کے گرد سات بار چکر لگاتے ہیں۔ پھر ہر کوئی اسے چھونے کی کوشش کرتا ہے اور وہاس ٹکڑے پر اپنی دعائیں، خواہشات، آنسو اور امیدیں رکھتے ہیں۔‘

یہ واضح نہیں کہ آیا ایپسٹین نے ’کسوہ‘ کے ٹکڑے بطور تحفہ وصول کیے یا وہ اصلی بھی تھے۔

ایپسٹین فائلز میں ٹرمپ اور عمران خان سمیت کن معروف شخصیات کا ذکر ہے؟’خانہِ کعبہ کسی ہیرے کی مانند چمکتا نظر آ رہا ہے‘: خلا سے مسجدِ الحرام کی تصویر جس نے دنیا کو حیران کر دیاغلافِ کعبہ: سونے، چاندی اور ریشم کے دھاگوں سے بنے ’کسوہ‘ کی تبدیلی کی روایت جو صدیوں سے چلی آ رہی ہےخانہ کعبہ کا محاصرہ: 45 سال پہلے کیا ہوا تھا؟Source: US Department of Justiceای میلز میں کسوہ کے تین حصوں کی تفصیلات بتائی گئی ہیں

تاہم امریکی محکمہ انصاف کے ریکارڈ کے مطابق یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا کہ ایپسٹین کو سعودی عرب سے کوئی سامان بھیجا گیا ہو۔

27 جنوری 2017 کو ای میلز کے ایک تبادلے میں، ایک شخص جسے احمدی کا معاون بتایا گیا، بظاہر ’مسجد کی اندرونی تصاویر کی درخواست کرتا‘ ہے تاکہ ’مسجد کے اندر کسی چیز‘ کی تیاری کا کام شروع کیا جا سکے۔

اس سے پہلے ای میلز کے اسی تبادلے میں ایپسٹین کے ایک اسسٹنٹ نے ایپسٹین کے گھر ’خیمے اور دیگر گھریلو سامان‘ پہنچنے کی تصدیق کی۔

امریکی محکمہ انصاف کی فائلز میں ایک دستاویز میں ایک روایتی عربی اون کے خیمے اور دیگر اشیا جیسے قالین، کافی کے برتن، کپ اور ٹوکریاں دکھائی گئی ہیں تاہم اس بات کا تعین نہیں کیا جا سکا کہ آیا اس کھیپ میں ایپسٹین کو یہ چیزیں پہنچائی گئی تھیں۔

دونوں بار سامان کی ڈیلیوری جیفری ایپسٹین کو سنہ 2008 میں جنسی مجرم کے طور پر سزا سنائے جانے کے بعد کی گئی تھی۔ جیفری ایپسٹین نے جسم فروشی کا مطالبہ (جس میں ایک نابالغ بھی شامل تھا) کرنے کے دو الزامات کا اعتراف کیا تھا۔

’احمدی‘ نے اس بارے میں بی بی سی کے سوالوں کا جواب نہیں دیا۔ دستاویز میں کسی کے نام کا شامل ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ کسی غلط کام میں ملوث ہو۔

EPAماضی میں ’کسوہ‘ مصر میں تیار کیا جاتا تھا لیکن بعد میں مکمل کام سعودی عرب منتقل کر دیا گیا’مقدس نہیں لیکن قابل احترام‘

غلاف کعبہ کی تیاری، اسے کعبہ کو اوڑھانے، ہر سال تبدیل کرنے اور پرانے غلاف کے استعمال تک کسوہ کے ہر معاملے پر سعودی حکام کا کنٹرول ہے لیکن پرانے کسوہ کی تقسیم کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں۔

بی بی سی نے اس معاملے پر مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے سعودی حکام سے رابطہ کیا تاہم اس تحریر کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

امور برائے حج و عمرے کے مصنف احمد الحلابی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سونے اور چاندی کے نوشتہ جات والے حصے جنھیں اکثر ’بیلٹ‘ اور ’سمادی‘ کہا جاتا ہے، کو صرف سعودی رائل کورٹ کے اہلکار ہی کسی کو تحفے میں دے سکتے ہیں۔‘

’یہ حصے مسلم ممالک کے سربراہان اور حکومتی اہلکاروں کو دیے جاتے ہیں۔‘

احمد الحلابی نے مزید بتایا کہ ’باقی کا کالا کپڑا عام طور پر مختلف ٹکڑوں میں کاٹ کر نچلے عہدے کے اہلکاروں کو دیا جاتا ہے۔‘

لندن میں ایس او اے ایس یونیورسٹی میں اسلامی آرٹ کے مؤرخ ڈاکٹر سائمن او میارا کہتے ہیں کہ کسوہ ’مذہبی لحاظ سے مقدس‘ نہیں تاہم مسلم دنیا میں اس کا بہت احترام کیا جاتا ہے۔

’یہ کعبہ کی عمارت پر بالکل ایک بادشاہ کے لباس کی طرح ہے۔‘

’ایک بار جب کسوہ کعبہ سے اتر جائے تو اس کی بے حرمتی نہیں کی جا سکتی۔ آپ اس پر پاؤں نہیں رکھ سکتے۔‘

دوسری طرف حلابی امریکی محکمہ انصاف کی طرف سے جاری کردہ خط و کتابت میں مذکور حصوں کی صداقت پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ غیر مسلموں کو کسوہ تحفے میں دینے کی اجازت نہیں۔

Source: US Department of Justice16 مارچ 2017کی ایک رسید میں ایپسٹین کے فلوریڈا ایڈریس پر سامان ڈیلیوری کی تصدیق ہوتی ہےسعودی تعلق

امریکی محکمہ انصاف کی فائلز کے مطابق سنہ 2016 اور سنہ 2019 کے ابتدائی اوائل میں ایپسٹین اور احمدی کے درمیان مختلف موضوعات پر متعدد ای میلز کا تبادلہ ہوا۔

کچھ ای میلز میں انھیں ’باس‘ یا ’ماسٹر‘ کہہ کر مخاطب کیا گیا اور دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دونوں نیویارک اور پیرس میں مختلف جگہوں پر مل چکے تھے۔

امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ایپسٹین نے احمدی کے ذریعے سعودی حکومت پر اثرانداز ہونے کی کوششیں کیں۔

جولائی 2016 میں احمدی کے نام سے ایک ای میل سے اشارہ ملتا ہے کہ وہ ایپسٹین اور ’ایچ ای رفعت‘ (HE Raafat) نامی کسی شخص کے درمیان ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہی تھیں جو ایپسٹین کی کمپنی سے ’لطف اندوز‘ ہونا چاہتا ہے۔

ممکنہ طور پر ’HE‘ کا مطلب ’ہیز ایکسی لینسی‘ (His Excellency) ہے، یہ لقب سعودی عرب میں اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کی جاری کردہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ایپسٹین نے اگست 2016 میں احمدی نامی کسی شخص کو ای میل میں سعودی عرب کی تیل کی سرکاری کمپنی ’آرامکو‘ کی پبلک لسٹنگ نہ کرنے کا مشورہ دیا۔

بعد میں ’احمدی‘ یہ کہتے ہوئے نظر آتی ہیں کہ وہ اس کا ’جائزہ‘ لیں گی اور جواب میں کسی ’رفعت الصباغ‘ کا ای میل ایڈریس کاپی کرتی ہیں۔

نومبر سنہ 2016 میں ایپسٹین کے ایک اسسٹنٹ کے اکاؤنٹ سے ای میل میں کہا گیا کہ ’عزیزہ ہی رفعت کے اسسٹنٹ ہیں۔‘

مختلف لوگوں کو بھیجی گئیں متعدد ای میلز میں ایپسٹین کی جانب سے ’رفعت الصباغ‘ کو ’سعودی ولی عہد‘ کے ’مشیر‘ کے طور پر بیان کرتے دیکھا گیا۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کی طرف سے سنہ 2017 کی ریلیز میں انھیں ’شاہی عدالت میں مشیر‘ کے طور پر نامزد کیا گیا۔

امریکی محکمہ انصاف کی فائلز میں موجود ای میلز کے مطابق ’صباغ‘ نامی کوئی شخص ایپسٹین کے ساتھ اکثر خط و کتابت کرتا نظر آتا ہے۔

سنہ 2016 کے ایک ٹیکسٹ میسج میں ’رفعت الصباغ‘ کے نام سے ایک اکاؤنٹ کی جانب سے ایپسٹین کو لکھا گیا کہ ’میں آپ کی دوستی کو پسند کرتا ہوں۔‘

’رفعت الصباغ‘ کے نام سے ایپسٹین کو ایک ای میل میں ایک ایسی خبر کا لنک بھیجا گیا، جس میں ایک 17 سالہ روسی بیوٹی کوئین مبینہ طور دبئی گئیں تاکہ اپنے کنوارے پن کو فروخت کر سکیں۔

جس کے جواب میں پیڈو فائل جیفری ایپسین نے لکھا کہ ’آخر آپ نے مجھے کچھ قابل قدر چیز بھیجی۔‘

دوسری طرف ان فائلز میں خود احمدی کے بارے میں معلومات محدود ہیں لیکن ستمبر 2018 کی ایک ای میل میں، اس نام کا کوئی شخص ایپسٹین سے اپنی موبائل گیم کمپنی کے بارے میں مشورہ مانگتا دکھائی دیتا ہے۔

کسوہ اور ای میلز میں جن لوگوں کا حوالہ دیا گیا، ان کے ایپسٹین سے تعلقات پر بہت سے سوالات ہیں۔ پوری مسلم دنیا میں سعودی حکام سے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کے مطالبات بڑھ رہے ہیں۔

’کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ شیطان ہیں؟‘ ایپسٹین سے سوالایپسٹین فائلز میں ٹرمپ اور عمران خان سمیت کن معروف شخصیات کا ذکر ہے؟نئی ’ایپسٹین فائلز‘ اور مودی سے کانگریس کے تین سوال: ایلون مسک کی بے تابی اور بل گیٹس کی مبینہ بیماری، دستاویزات میں کیا کچھ ہے؟رومانوی مشوروں سے مالیاتی مدد تک: امیر اور طاقتور لوگ سزا یافتہ مجرم ایپسٹین کو انکار کیوں نہیں کر پاتے تھے؟ ایپسٹین سکینڈل: شہزادہ اینڈریو، بل کلنٹن سمیت نامور شخصیات کا جنسی جرائم سے متعلق عدالتی دستاویزات میں ذکر’ایپسٹین فائلز‘ اور وہ سازشی نظریات جو ٹرمپ کو مشکل میں ڈال رہے ہیں
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More