’ایسا لگتا ہے ان پر ربڑ کی تہہ چڑھی ہو‘: انڈین کرکٹرز کے بیٹ پر سری لنکن کھلاڑی کا بیان اور پھر وضاحت

بی بی سی اردو  |  Feb 13, 2026

’ایسا لگتا ہے جیسے ان پر ربڑ کی ایک تہہ چڑھی ہو۔‘ سری لنکا کے ایک کرکٹر کی جانب سے انڈیا کے کھلاڑیوں کے بیٹ پر سامنے آنے والے اس بیان نے ایک تنازع کھڑا کر دیا تھا۔ ایسا محسوس کیا گیا جیسے وہ ان کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا رہے ہوں۔

تاہم سری لنکن کرکٹر بھانوکا راجاپکسا انٹرویو میں انڈین بلے بازوں کے بارے میں جو تبصرہ کیا تھا، اب انھوں نے اس کی وضاحت کی ہے۔

یاد رہے کہ نیوز وائر نے بھانوکا راجاپکسا سے منسوب یہ جملہ درج کیا تھا: ’بھارتی کرکٹر جو بَلّے استعمال کرتے ہیں وہ دیگر کھلاڑیوں کے بَلّوں کی نسبت بہتر معیار کے ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ان پر ربر کی ایک تہہ چڑھی ہو۔‘

اب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صفائی پیش کرتے ہوئے بھانوکا نے لکھا: ’اپنے حالیہ انٹرویو کے بارے میں وضاحت دینا چاہتا ہوں۔ میری بات کا کچھ اور مطلب نکال لیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’شاید ترجمے کی غلطی کی وجہ سے اسے دوسری طرف موڑ دیا گیا۔ میرا مقصد انڈین بَلّے بازوں کی تعریف کرنا تھا۔ انڈین کرکٹ میں خاصی جدت آ گئی ہے۔ ان کا نظام، انفراسٹرکچر اور ساز و سامان، سبھی اعلیٰ درجے کا ہے۔‘

’ان کے بیٹ بنانے والے دنیا میں بہترین ہیں۔ میرا خیال ہے بہتر سیاق و سباق کے ساتھ میں اپنی بات کی وضاحت کر سکتا تھا۔ میرے دل میں انڈین کھلاڑیوں کے لیے صرف احترام ہے اور کچھ نہیں۔‘

نیوز وائر نے بھی انٹرویو کے بعد راجاپکسا کی وضاحت کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔

نیوز وائر نے لکھا کہ سری لنکا کے بَلّے باز بھانوکا راجاپکسا نے اپنی بات کا دفاع کرتے ہوئے انڈین کرکٹ کو ’بہت زیادہ ترقی یافتہ‘ کہا اور اس کے نظام، انفراسٹرکچر اور آلات کے معیار کا ذکر کیا۔

یہ وضاحت ان کے پہلے بیان پر ہونے والی بحث کے بعد سامنے آئی، جس میں انھوں نے انڈین کھلاڑیوں کی دھواں دھار بَلّے بازی کی صلاحیت اور ان کے زیر استعمال بَلّوں کا ذکر کیا تھا، جو ان کے مطابق دوسری جگہوں پر ملنے والے بَلّوں سے مختلف محسوس ہوتے ہیں۔

ہری ٹی وی کے صحافی لاہیرو مدالیگی سے بات کرتے ہوئے راجاپکسا نے کہا تھا کہ: ’انڈین بَلّے باز ایسے بَلّے استعمال کرتے نظر آتے ہیں جو زیادہ طاقت پیدا کرتے ہیں، اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان پر ربڑ کی ایک اضافی تہہ لگی ہو۔‘

انھوں نے اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہا تھا کہ ’ممکن ہے کہ یہ کسی خاص قسم کی لکڑی سے بنے ہوں۔‘

راجاپکسا نے کہا تھا کہ ’انڈین کھلاڑیوں کے بَلّے ہمارے پاس دستیاب بہترین بَلّوں سے بھی کہیں زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ یہ بیٹ دوسرے لوگ خرید بھی نہیں سکتے۔ تمام کھلاڑی یہ بات جانتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ بات شاید بے وقوفانہ لگے، لیکن ایمانداری سے مجھے یہی محسوس ہوتا ہے۔‘

آئی پی ایل میں رنز کے انبار کے بعد بیٹ چیک کرنے کا فیصلہ: ’اب اس کھیل کو کرکٹ نہیں صرف بلے بازی کہنا چاہیے‘جب ایک بیٹسمین کی وجہ سے کرکٹ بیٹ کے قوانین بدلنے پڑےعثمان طارق کا ’وقفہ‘، انڈین شائقین کرکٹ کی پریشانی اور ایشون کی وضاحت: ’یہ انڈیا کے خلاف ٹرمپ کارڈ ہو گا‘پی ایس ایل نیلامی: نسیم شاہ سب سے مہنگے کھلاڑی، لاہور کی حارث رؤف اور فخر زمان کے لیے سات کروڑ سے زیادہ کی کامیاب بولی

اسی انٹرویو میں سابق آئی پی ایل کھلاڑی راجاپکسا نے انڈین کرکٹ کے مضبوط بیٹنگ کلچر اور انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی بھی تعریف کرتے ہوئے اسے دنیا میں سب سے بہتر قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ اسی وجہ سے انڈین کرکٹ میں با صلاحیت کھلاڑی مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ماضی میں بھی کرکٹ کے بَلّوں سے متعلق تنازعات سامنے آ چکے ہیں۔

پہلی بار یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا تھا جب تھامس وائٹ نامی بلے باز سنہ 1771 میں تینوں وکٹوں کی چوڑائی کے برابر بیٹ لے کر میدان میں اترے تھے اور اس کے بعد ہی پہلی بار بیٹ کے سائز کا تعیّن کیا گيا تھا۔

لیکن کرکٹ کی جدید تاریخ میں بھی بیٹ اور اس کے سائز سے متعلق تنازعات سامنے آتے رہے ہیں اور آندرے رسل، کرس گیل، میتھو ہیڈن اور رکی پونٹنگ کے بیٹس متنازع رہے ہیں جبکہ اس سے قبل ڈینس للی کے ایلومینیم کے بیٹ کا تنازع بھی سامنے آیا تھا۔

اس سے قبل انگلش کاؤنٹی میں ’ایسیکس‘ کو مروجہ سائز سے بڑے بیٹ کے استعمال کی وجہ سے پوائنٹس گنوانے پڑے تھے۔ ناٹنگھم شائر کے خلاف 254 رنز سے فتح حاصل کرنے کے بعد انھیں 20 پوائنٹس ملے تھے لیکن بڑے سائز کے بیٹ کے استعمال کی وجہ سے اس کے 12 پوائنٹس کاٹ لیے گئے۔

قوانین کیا کہتے ہیں؟

کرکٹ میں اصول واضح ہیں کہ بیٹ کا سائز اور اس کا وزن کتنا ہو سکتا ہے۔ کرکٹ بیٹ کو دو حصوں میں تقسیم کر کے دیکھا جاتا ہے۔ ایک بلیڈ اور دوسرا ہینڈل۔

بیٹ کا ہینڈل کین (بینت) یا لکڑی کا ہونا چاہیے۔ بلے باز کی گرفت مضبوط کرنے کے لیے ہینڈل پر گرپ لگائی جا سکتی ہے۔ عام طور پر یہ گرپ ربڑ سے بنی ہوتی ہے۔

ہینڈل کے علاوہ بیٹ کے دوسرے حصے کو بلیڈ کہتے ہیں۔ اس بارے میں بھی قواعد واضح ہیں۔

ایم سی سی یعنی میلبرن کرکٹ کلب کے قوانین کے مطابق ہینڈل سمیت بلے کی کل لمبائی 38 انچ یا 96.52 سینٹی میٹر سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

جبکہ بیٹ کے بلیڈ کی زیادہ سے زیادہ چوڑائی 4.25 انچ یعنی 10.8 سینٹی میٹر ہو سکتی ہے۔

اس کی درمیانی چوڑائی (عرض) 2.64 انچ یعنی 6.7 سینٹی میٹر تک ہو سکتی ہے۔ کنارے 1.56 انچ یعنی 4.0 سینٹی میٹر تک ہو سکتے ہیں۔

یہ قوانین ایم سی سی کے ہیں۔

آئی پی ایل میں بلے کی موٹائی 2.68 انچ، چوڑائی 4.33 انچ اور کنارے پر 1.61 انچ ہے۔ بیٹ کے نچلے حصہ کا ابھار 0.20 انچ تک ہو سکتا ہے۔

کرکٹ میں، بہت سے بلے باز مقررہ حد سے زیادہ چوڑے یا موٹے بلے سے کھیل چکے ہیں۔

بلے کے نیچے ایک خاص جگہ ہوتی ہے جہاں سے بلے باز اپنے زیادہ تر سٹروک کھیلتے ہیں۔ اگر یہ حصہ اوپری حصے سے زیادہ بھاری یا چوڑا ہو تو سٹروک مزید طاقتور ہو جاتا ہے۔

جو بیٹسمین بہت جارحانہ بیٹنگ کرتے ہیں وہ ایسے بیٹس کو ترجیح دیتے ہیں جن کے کنارے چوڑے ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں کئی بار درست ٹائمنگ کے بغیر بھی گیندر باؤنڈری کے پار چلی جاتی ہے یا پھر بیٹ کے کنارے سے ٹکرا کر بھی باؤنڈری مل جاتی ہے۔

جب ایک بیٹسمین کی وجہ سے کرکٹ بیٹ کے قوانین بدلنے پڑےآئی پی ایل میں رنز کے انبار کے بعد بیٹ چیک کرنے کا فیصلہ: ’اب اس کھیل کو کرکٹ نہیں صرف بلے بازی کہنا چاہیے‘پی ایس ایل نیلامی: نسیم شاہ سب سے مہنگے کھلاڑی، لاہور کی حارث رؤف اور فخر زمان کے لیے سات کروڑ سے زیادہ کی کامیاب بولیعثمان طارق کا ’وقفہ‘، انڈین شائقین کرکٹ کی پریشانی اور ایشون کی وضاحت: ’یہ انڈیا کے خلاف ٹرمپ کارڈ ہو گا‘ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور غیر ملکی ٹیموں کے لیے کھیلنے والے پاکستانی نژاد کرکٹرز: ٹیلنٹ پول کی نشاندہی یا کرکٹ کے نظام میں خرابی؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More