BBCمسلسل چھ برس تک جنسی استحصال کا نشانہ بننے والے مائیکل ہیوٹ کے بچپن کی تصویر
انتباہ: اس تحریر میں شامل تفصیلات قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں۔
دو سال قبل بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں ایک بچے کو جنسی استحصال کا نشانہ بنانے کے اعتراف کے بعد بھی ایک پُراسرار مسیحی چرچ کے سابق عہدیدار (منسٹر) اب بھی آزاد ہیں۔
دو سال قبل بی بی سی کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میںسابق چرچ منسٹر رابرٹ کورفیلڈ نے اعتراف کیا تھا کہ انھوں نے مائیکل ہیوٹ نامی ایک کینیڈین لڑکے کا جنسی استحصال کیا تھا۔
رابرٹ کورفیلڈ کا نام اُن 1100 سے زیادہ افراد میں شامل تھا، جنھیں اُس ہاٹ لائن پر رپورٹ کیا گیا تھا جو چرچ کے اندر ہونے والے جنسی استحصال کی اطلاع دینے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ جس چرچ سے رابرٹ کورفیلڈ کا تعلق ہے اس کا کوئی باضابطہ نام نہیں ہے، لیکن اسے اکثر ’دی ٹروتھ‘ یا ’ٹو بائی ٹوز‘ کہا جاتا ہے۔
فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) نے اس چرچ کے خلاف تحقیقات اُس وقت شروع کیں جب بی بی سی نے سنہ 2024 کے اوائل میں اپنی ایک رپورٹ شائع کی تھی، لیکن کورفیلڈ اب بھی امریکی ریاست مونٹانا میں آزاد گھوم پھر رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ تفتیش کار ایک سال سے زیادہ عرصہ پہلے اُن سے ملنے آئے تھے۔
ہم نے اب ایک ایسے فرد سے بات کی ہے جن کا کہنا ہے کہ رابرٹ کورفیلڈ نے اُن کا بھی جنسی استحصال کیا تھا۔ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت اِس متاثرہ شخص کی عمر محض 11 برس تھی۔
کورفیلڈ نے پہلے بی بی سی کے سامنے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے کینیڈین لڑکے کے علاوہ کبھی کسی اور کا جنسی استحصال نہیں کیا۔
ایف بی آئی نے بی بی سی کی درخواست کے باوجود اس معاملے پر تاحال تبصرہ نہیں کیا ہے۔
مائیکل ہیوٹ نامی کینیڈین لڑکے کے کیس کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (آر سی ایم پی) نے کہا کہ اُس نے اس معاملے کی تحقیقات اُس وقت شروع کیں جب اُسے ’1980 کی دہائی کے اوائل میں ساسکاچیوان میں پیش آنے والے پرانے جنسی حملوں کی رپورٹ موصول ہوئی‘ اور یہ کہ اُس کی ’تحقیقات کے نتائج کراؤن پراسیکیوٹرز کو اُن کے جائزے کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔‘
ساسکاچیوان کی وزارتِ انصاف کا کہنا ہے کہ وہ ’اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کرتی کہ وہ پولیس کی زیرِ تفتیش مقدمات کا جائزہ لے رہی ہے یا نہیں۔‘
Photo suppliedکورفیلڈ نے مائیکل ہیوٹ کا جنسی استحصال کرنے کا اعتراف کیا تھا
کہا جاتا ہے کہ ’دی ٹروتھ‘ نامی چرچ کے دنیا بھر میں تقریباً ایک لاکھ اراکین ہیں، جن میں سے اکثریت شمالی امریکہ میں ہے۔
یہ چرچ 1897 میں آئرلینڈ میں ایک سکاٹش مبلغ نے قائم کیا تھا اور یہ اُن منسٹرز کے گرد گھومتا ہے جنھیں چرچ ’ورکرز‘ کہا جاتا ہے، جو زبانی طور پر نئے عہدنامے (نیو ٹیسٹامنٹ) کی تعلیمات کو فروغ دینے کا کام کرتے ہیں۔
اس کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ورکرز اپنی تمام ملکیتیں پیچھے چھوڑ دیتے ہیں اور جب وہ سفر کے دوران انجیل کی تبلیغ کرتے ہیں تو چرچ کے دیگر اراکین کو انھیں اپنے گھروں پر ٹھہرانا پڑتا ہے۔
چرچ کے سابق ارکان کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے اُن گھروں میں رہنے والے بچے جنسی استحصال کے خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔
ریپ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے نامزد ملزم سے نہ ملنے پر پولیس اصل والد تک کیسے پہنچی؟’میں نے ایک پولیس افسر پر ریپ کا الزام لگایا لیکن میرے خلاف ہی مقدمہ بنا دیا گیا‘’اس شخص سے دور رہو، وہ خطرناک ہے‘ ریپ کا مجرم جس نے سزا سے بچنے کے لیے اپنی موت کا ڈرامہ بھی رچایاجڑواں بھائی، دہرا قتل اور ایک جیسا ڈی این اے: وہ پیچیدہ مقدمہ جس میں قاتل کی شناخت معمہ بن گئی
دسمبر 2025 میں فون پر رابطہ کیے جانے پر کورفیلڈ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ایف بی آئی کے اہلکار ایک سال پہلے اُن سے ملنے آئے تھے۔
انھوں نے کہا تھا ’وہ (ایف بی آئی) کے اہلکار مجھ سے ذاتی طور پر ملے۔ انھوں نے بنیادی طور پر معلومات کا جائزہ لیا اور میں نے بس سچائی کے ساتھ جواب دیا۔‘
جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا اُنھوں نے ایف بی آئی بتایا کہ انھوں نے مائیکل، جو اب 57 سال کے ہو چکے ہیں، کے جنسی استحصال سلسلہ اُس وقت شروع کیا جب وہ 12 برس کے تھے، تو کورفیلڈ نے جواب دیا ’ہاں‘ اور مزید کہا: ’یہ ایک سال پہلے کی بات ہے، مجھے تمام تفصیلات یاد نہیں ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ایف بی آئی ’اُس وقت مطمئن تھی اور اُس کے بعد سے مجھ سے کسی اور نے رابطہ نہیں کیا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ گرفتاری سے خوفزدہ ہیں تو کورفیلڈ نے کہا: ’مجھے احساس ہے کہ اس کا امکان موجود ہے۔‘
کورفیلڈ کہتے ہیں کہ اب وہ چرچ کی میٹنگز میں شرکت نہیں کرتے۔
Photo suppliedمائیکل اب 57 برس کے ہو چکے ہیں
گذشتہ مہینے ایک اور شخص نے بی بی سی سے رابطہ کیا اور بتایا کہ کورفیلڈ نے ان کا جنسی استحصال کیا تھا۔
اس شخص کی شناخت یہاں ظاہر نہیں کی جا رہی اور ہم انھیں ایڈورڈ کے فرضی نام سے مخاطب کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ کورفیلڈ نے ان پر کینیڈا میں سنہ 1974 میں ایک کیمپنگ ٹرپ کے دوران حملہ کیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’رابرٹ کسی بات پر مجھ سے ناراض ہو گئے تھے، مجھے بالکل یاد نہیں کہ وہ کیا بات تھی۔ پھر اُس نے مجھے کیمپر میں بلایا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے صرف یاد ہے کہ وہ غصے میں تھے اور مجھے نیچے کی طرف جھکا رہے تھے۔ مجھے صرف یہ یاد ہے کہ تکیوں پر عجیب سا پھولوں والا ڈیزائن بنا ہوا تھا، اس کے بعد انھوں نے مجھے بستر پر دبا دیا۔‘
’وہ غصے کے بعد مجھ پر جنسی حملہ کرنے لگے۔‘
ایڈورڈ کو ایک اور واقعہ بھی یاد ہے جب لڑکوں کا ایک گروپ چرچ کے کنونشن گراؤنڈ میں تیراکی کر رہا تھا اور انھوں نے دیکھا کہ کورفیلڈ انھیں دیکھ رہے تھے۔
’وہ اپنی گود پر کمبل ڈالے ہوئے تھے اور کمبل کے نیچے کوئی نامناسب حرکت کر رہے تھے۔‘
ایڈورڈ کہتے ہیں کہ کورفیلڈ ’ہمیشہ ہی بچوں کو بہکانے کے لیے تیار رہتے تھے۔‘
ایڈورڈ کے مطابق انھوں نے اپنے والدین کو بتانے کی کوشش کی کہ کورفیلڈ نے ان کے ساتھ کیا کیا ہے، لیکن: ’وہ تو میری کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھے۔‘
چرچ میں اس کے ورکرز کی طاقت کا مطلب یہ ہے کہ اُنھیں شاذ و نادر ہی چیلنج کیا جاتا ہے۔
ایڈورڈ کہتے ہیں کہ ’جب میرے ساتھ یہ پیش آیا تو میں نے اپنے والدین سے اس بارے میں بات کرنے کی کوشش کی لیکن اُن دونوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی، کیونکہ وہ (کورفیلڈ) مبلغ تھے اور اُن کے نزدیک وہ کوئی غلطی کر ہی نہیں سکتے تھے۔‘
’ہمارا گھر ایک کُھلا دروازہ تھا اور ورکرز کے پاس اس کی کنجیاں تھیں۔‘
’وہ (ورکرز) ایک بلند مقام پر تھے، اخلاقی رہنما تھے۔ ہمارے خاندان کے پاس اپنی کوئی اخلاقی سمت نہیں تھی، وہ صرف صحیح اور غلط کو ورکرز کی باتوں کی بنیاد پر پرکھتے تھے۔ وہاں صحیح اور غلط کا تعلق دل یا روح کی آواز سے نہیں تھا۔‘
ایڈورڈ نے سنہ 2024 میں خود پر ہونے والا حملہ آر سی ایم پی کو رپورٹ کیا تھا لیکن پراسیکیوٹر کے دفتر نے شواہد کی کمی کے باعث مقدمہ چلانے سے انکار کر دیا۔
کورفیلڈ نے رابطہ کرنے پر ان الزامات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
تاہم بی بی سی کو دو خطوط ملے ہیں جو کورفیلڈ نے مائیکل کو 2004 اور 2005 میں بھیجے تھے، جن میں انھوں نے معافی مانگی اور کہا کہ وہ ایک معالج سے اپنا علاج کروا رہے ہیں۔ ایک خط میں کورفیلڈ نے یہ بھی کہا کہ وہ ’متاثرین کی ایک فہرست بنا رہے ہیں۔‘
ان کا چرچ اس وقت ایک بحران میں پھنس گیا جب سنہ 2023 میں ان کے فرقے کے 1500 سے زیادہ موجودہ اور سابق ارکان نے ’ایڈووکیٹس فار دی ٹروتھ‘ نامی گروپ کی جانب سے قائم کی گئی ہاٹ لائن سے رابطہ کیا۔
ایڈووکیٹس نے اُس کے بعد اپنی سرگرمیاں بند کر دیں، لیکن اس کی شریک بانی اور نجی تفتیشکار سنتھیا لائلز اب بھی ہاٹ لائن کو ’ٹو بائی ٹو چرچ اکاؤنٹیبلٹی‘ کے نام سے چلا رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کے سامنے جنسی استحصال کے 1164 الزامات آئے ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ ملزمان بااختیار عہدوں پر تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اب تک تقریباً 75 افراد کو سزائیں بھی سنائی گئی ہیں۔
لیکن کورفیلڈ کے چھ سال تک ایک بچے کے ساتھ جنسی استحصال کرنے کا اعترافکے باوجود بھی وہ اب تک آزاد ہیں۔
مائیکل نے بی بی سی کو ایک پیغام میں بتایا کہ ’میں کینیڈا میں قانون کے نفاذ کے حوالے سے الجھن کا شکار ہوں۔ رابرٹ بچوں کے جنسی مجرم ہیں اور وہ اس کا اعتراف بھی کر چکے ہیں، انھوں نے چھ سال تک میرا جنسی استحصال کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔‘
وہ چاہتے ہیں کہ چرچ کی قیادت کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، جن میں سے کچھ پر جنسی استحصال کے ان واقعات کو چھپانے کے الزامات ہیں۔
ہماری پچھلی تحقیقات کے دوران مائیکل نے بتایا تھا کہ انھوں نے سنہ 1993 میں ان کے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال کی اطلاع ڈیل شُلٹز کو دی تھی، جو ساسکاچیوان کے سب سے سینیئر چرچ رہنما تھے، اور انھیں ’اوورسیئر‘ بھی کہا جاتا ہے۔
اوورسیئر چرچ کے سب سے سینیئر ارکان ہوتے ہیں۔ ہر امریکی ریاست اور کینیڈین صوبے میں جہاں جہاں چرچ کے پیروکار موجود ہیں وہاں ایک اوورسیئر مقرر کیا جاتا ہے۔
لیکن شُلٹز پولیس کے پاس نہیں گئے۔ مائیکل کا کہنا ہے کہ چند ہفتوں بعد شلٹز نے ان پر تشدد کیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ مائیکل نے دوسروں کو جنسی استحصال کے بارے میں بتا دیا ہے۔
مائیکل کا کہنا ہے کہ شُلٹز نے پھر ان کے چرچ چھوڑنے کی ’حوصلہ افزائی‘ کی، جبکہ کورفیلڈ کو سرحد پار امریکہ کی ریاست مونٹانا میں مبلغ بنا کر بھیج دیا گیا۔
کورفیلڈ نے سنہ 2024 میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھیں لگتا ہے کہ انھیں مونٹانا بھیجنے کا فیصلہ شُلٹز کا تھا، جہاں وہ 25 سال تک اپنے منصب پر برقرار رہے۔
شُلٹز نے اس سے پہلے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’میرے بارے میں آپ کو جو زیادہ تر معلومات ملی ہیں وہ مسخ شدہ اور غلط ہیں۔‘ تاہم انھوں نے اس معاملے کی مزید تفصیل میں جانے سے انکار کر دیا تھا۔
مائیکل نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ ’میں اس بات سے مایوس ہوں کہ آر سی ایم پی نے چرچ کی قیادت کو (تفتیش میں) شامل کرنے سے انکار کر دیا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’رابرٹ قصوروار ہیں، یہ تو یقینی ہے۔ ڈیل اور ان کے باقی تمام مددگار بھی قصوروار ہیں۔‘
ایڈورڈ نے کہا کہ یہ ’بالکل مضحکہ خیز‘ ہے کہ کورفیلڈ اب بھی آزاد ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’آر سی ایم پی کو قدم آگے بڑھانے کے لیے کس قسم کے دباؤ کی ضرورت ہے؟‘
آر سی ایم پی نے ہمارے سوالات کو ساسکاچیوان کی وزارتِ انصاف کی طرف بھیج دیا، جنھوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
نجی تفتیش کار لائلز، جو خود اس فرقے میں پیدا ہوئی تھیں مگر بعد میں اسے چھوڑ دیا، نے کہا کہ چرچ نے جنسی استحصال کے بحران سے نمٹنے کے لیے بہت کم اقدامات کیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’درحقیقت میرا خیال ہے کہ وہ آگے کے بجائے پیچھے کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ انھوں نے اُس مؤقف سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی ہے جو انھوں نے ابتدا میں اس لیے اختیار کیے تھے تاکہ یہ دکھا سکیں کہ وہ تبدیلیاں کرنے جا رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ کچھ ریاستوں نے ابتدا میں ایک تنظیم کی خدمات حاصل کی تھیں جو کرسچن گروہوں کو جنسی استحصال کا سامنا کرنے میں مدد دیتی ہے، لیکن چرچ نے اُن پالیسیوں کو مسترد کر دیا۔
لائلز کہتی ہیں کہ ’انھوں نے بس یہ کہا: ہمیں ان سب چیزوں کی ضرورت نہیں، ہم صرف بائبل کا استعمال کریں گے۔‘
لائلز کہتی ہیں کہ جنسی استحصال کا ارتکاب کرنے والے کئی افراد دوبارہ چرچ کی میٹنگز میں شامل ہو گئے ہیں، جن میں ایک وہ شخص بھی شامل ہے جو 1969 میں ریپ کے الزام میں جیل گیا تھا، رہائی کے بعد انھیں چرچ کا بڑا بنایا گیا اور پھر وہ چرچ کے اندر دیگر بچوں کے ساتھ زیادتی کرتا رہا۔
بی بی سی نے تبصرے کے لیے متعدد چرچ اوورسیئرز سے رابطہ کیا، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔
متاثرین کے لیے انصاف کے پہیے آہستہ چل رہے ہیں لیکن بہت سے لوگ آن لائن جُڑ رہے ہیں۔ ایک فیس بک گروپ جس کا نام ’Exposing Abuse: 2x2s‘ ہے کے دنیا بھر سے دس ہزار سے زیادہ اراکین ہیں اور یہ ایک دوسرے کو سہارا فراہم کر رہے ہیں۔
دو سال پہلے کورفیلڈ کے عوامی اعتراف کے بعد ایڈورڈ نے مائیکل سے رابطہ کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے اس کے فوراً بعد مائیکل سے رابطہ کیا اور ہم نے پچھلے چند سالوں میں رابطہ قائم رکھنے اور ایک تعلق قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔‘
’ایک دوسرے کو جاننے کے بعد وہ تنہائی کا احساس ختم ہو جاتا ہے، اب کوئی اکیلا نہیں بلکہ اصل میں اب ہم چرچ کے خلاف ہیں۔‘
ایڈورڈ اب کاؤنسلنگ بھی حاصل کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے تکلیف دہ تجربات پر قابو پا سکیں۔
وہ کہتے ہیں ’میری کاؤنسلنگ کے سیشنز کی فنڈنگ چرچ نہیں کر رہا بلکہ چرچ کے سابق اراکین کا ایک گروہ کر رہا ہے۔‘
’یہ میرے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔‘
’طوطوں اور پیسوں‘ کا جھانسہ دے کر بچوں کا ریپ: کراچی میں ویک اینڈ پر گھناؤنی وارداتیں کرنے والے ملزم کی ڈرامائی گرفتاریریپ اور قتل جیسے سنگین جرائم کا سراغ لگانے والی فارنزک سائنس کیا ہے اور پاکستان میں اسے بطور کیریئر کیسے اپنایا جا سکتا ہے؟’ریپ ثابت نہ ہونے سے خود بخود رضامندی ثابت نہیں ہوتی‘: 10 سال پرانا مقدمہ، سپریم کورٹ کا فیصلہ اور اختلافی نوٹوزیرآباد میں تین سالہ بچی کے قتل کے الزام میں پھوپھی گرفتار: ’اس کی وجہ سے میرا رشتہ نہیں ہو رہا تھا‘’جنسی تشدد کا نشانہ بننے کے لیے صرف غیر سفید فام ہونا کافی ہے‘: برطانیہ میں ریپ کے واقعات کے بعد ایشیائی خواتین خوف میں مبتلا’یقین نہیں آ رہا بہو نے میرے بیٹے کو قتل کر دیا‘: وہ واردات جس میں ’خاوند نے بیوی کو خود گولی مارنے کو کہا‘