دھمکیوں اور فوجی مشقوں کے بیچ چند حوصلہ افزا بیانات: عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور

بی بی سی اردو  |  Feb 18, 2026

Reutersعمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کی بالواسطہ مذاکرات سے قبل سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر سے مشاورت

منگل (17 فروری) کو جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی مذاکرات کی دوسری نشست کے بعد واشنگٹن اور تہران کی جانب سے تشویش کے اظہار کے ساتھ ساتھ چند حوصلہ افزا بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔

مذاکراتی نشست کے بعد امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات ’کچھ حوالوں سے‘ اچھے رہے ہیں اور فریقین نے آئندہ ایک اور اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ’بنیادی اصولوں پر مفاہمت‘ طے پا گئی ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے یہ بھی کہا کہ ایران اب بھی صدر ٹرمپ کی متعین کردہ ’کچھ ریڈ لائنز کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔‘

انھوں نے عندیہ دیا کہ اس ضمن میں امریکہ سفارتی راستے پر ’سفر جاری رکھے گا‘ لیکن صدر ٹرمپ ہی یہ طے کریں گے کہ ’سفارتکاری کب ترک کرنی ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن یہ امید نہیں رکھتا ’کہ معاملات اس حد تک پہنچیں گے، لیکن اگر ایسا ہوا تو فیصلہ صدر ٹرمپ کا ہو گا۔‘

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے پہلے دور کے مقابلے میں دوسرے دور کو زیادہ مثبت قرار دیا اور کہا کہ ’دونوں فریق معاہدے کی ممکنہ دستاویز کے دو مسودے تیار کر کے اُن کا تبادلہ کریں گے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جلد ہی کسی معاہدے پر پہنچ جائیں گے لیکن ہم معاہدے تک پہنچنے کے راستے پر ضرور چل پڑے ہیں۔‘

عراقچی نے مزید کہا کہ فریقین کے سامنے اب بھی کچھ مسائل ہیں جن پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اُن کا ملک اس ’تصدیق‘ کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا۔

صدارتی ویب سائٹ پر شائع تبصرے میں پزشکیان کا کہنا تھا کہ ’ہم جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش بالکل نہیں کر رہے اور اگر کوئی اس کی تصدیق کرنا چاہتا ہے تو ہم ضروری اقدامات کے لیے تیار ہیں۔‘

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ تہران کبھی بھی اپنے ’پرامن‘ ایٹمی پروگرام سے دستبردار نہیں ہو گا۔

ٹرمپ اور خامنہ ای کے دھمکی آمیز بیاناتEPAایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کو تباہ کرنے میں 'کامیاب نہیں ہو گا‘

تاہم جہاں ایک جانب جنیوا میں مذاکراتی عمل جاری رہا وہیں اس سے قبل اور اس کے دوران صدر ٹرمپ اور ایران کے رہبر اعلیٰ خامنہ ای کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات بھی سامنے آتے رہے۔

جوہری مذاکرات کا آغاز ہوتے ہی ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ امریکہ ایران کو تباہ کرنے میں ’کامیاب نہیں ہو گا۔‘

امریکہ کی جانب سے طیارہ بردار بحری جہاز بھیجے جانے کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ ’یہ بحری جہاز یقیناً ایک خطرناک ہتھیار ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اسے سمندر کی تہہ میں غرق کر سکتا ہے۔‘

اسی طرح صدر ٹرمپ نے پیر کی شب اعلان کیا تھا کہ مذاکرات میں ’بالواسطہ طور پر‘ شامل ہوں گے۔

صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا تھا: ’معاہدہ نہ کرنے کے جو نتائج ہوں گے، مجھے نہیں لگتا ایران انھیں بھگتنا چاہتا ہے۔۔۔‘ تاہم انھوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

Reutersجنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کے دوسرے دن عمان کا وفد موجود تھا

ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے منگل کے روز خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ جنیوا میں ہونے والے جوہری مذاکرات کو مؤثر بنانے کے لیے بنیادی اہمیت اس بات کی ہے کہ ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کے لیے امریکہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور غیر حقیقی مطالبات سے گریز کرے۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وفد نے عمان کے وزیر خارجہ اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات کی، ان ملاقاتوں کے ذریعے مذاکرات کا یہ دور ’تکنیکی مرحلے‘ میں داخل ہو گیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا تھا کہ ’مسقط میں ہونے والی بات چیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اس محتاط نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ ایران کے جوہری معاملے پر امریکی موقف زیادہ حقیقت پسندانہ ہو گیا ہے۔‘

انھوں نے زور دے کر کہا تھا کہ ’جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت ایران کو ایٹمی توانائی کے پُرامن استعمال کا حق ہے اور اس کے لیے یورینیئم افزودہ کرنے کا بھی حق ہے۔ یہ دونوں حقوق تسلیم کر لیے گئے ہیں۔‘

عمان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات میں امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے بھی حصہ لیا۔ ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اس میں شریک ہوئے۔

Reutersایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ایران کے جوہری معاملے پر امریکی موقف زیادہ حقیقت پسندانہ ہو گیا ہے'واشنگٹن اور تہران کی ثالثی میں عمان کا کیا کردار ہے؟

عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان دوسری مذاکراتی نشست کے بعد سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’ابھی بہت سا کام باقی ہے‘ لیکن ایران اور امریکہ ’اگلے مرحلے کے لیے واضح اقدامات کے ساتھ‘ روانہ ہو رہے ہیں۔

علاقائی سطح پر جاری سفارتکاری کے بعد عمان کوشش کر رہا ہے کہ دونوں فریق کسی معاہدے تک پہنچیں۔

عمان کی وزارت خارجہ نے مذاکرات کی میز پر واپس آنے اور اختلافات کو پر امن طریقوں سے حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے تاکہ خطے اور دنیا میں امن و سلامتی کے قیام میں مدد مل سکے۔

یاد رہے کہ عمان کی ثالثی میں تہران اور واشنگٹن نے چھ فروری کو مسقط میں بالواسطہ مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔

گذشتہ سال دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات اس وقت رُک گئے تھے جب جون میں اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا۔ اُس بڑے تعطل کے بعد یہ بات چیت پہلی پیش رفت ہے۔

عمان کے وزیر خارجہ بدر حمد البوسعیدی نے متعدد سرکاری ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا کہ سمجھوتے اور ہم آہنگی کے مواقع بڑھائے جائیں تاکہ تمام فریقوں کی توقعات کے مطابق معاہدہ سامنے آ سکے۔

فوجی تیاریاں اور عسکری مشقیں

مذاکرات کے ساتھ ساتھ بظاہر ایک دوسرے پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے واشنگٹن اور تہران کی جانب سے چند اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

امریکی حکام نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ امریکی فوج اس امکان کے لیے تیاری کر رہی ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کی ناکامی پر حملے کا حکم دیں تو ایران کے خلاف کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی کارروائیاں کی جا سکیں۔

ادھر ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق منگل کے روز ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں فوجی مشقیں کیں اور اسی ضمن میں آبنائے ہرمز کے کچھ حصوں کو چند گھنٹوں کے لیے بند رکھا گیا۔

آبنائے ہرمز ایک اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور خلیجی عرب ممالک کی تیل برآمدات کا مرکزی راستہ بھی۔ پیر کے روز ایران نے اس آبنائے میں فوجی مشقیں شروع کی تھیں جو منگل کو جاری رہیں۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے خلیجی ممالک نے تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی حل اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔

یاد رہے کہ جنوری میں امریکہ نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے ساتھ دیگر بحری جہاز خلیج میں تعینات کیے تھے اور اس کے بعد جیرالڈ فورڈ بھی مشرق وسطیٰ میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

پیر کے روز پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر محمد اکبر زادہ نے کہا کہ خطے میں موجود تمام غیر ملکی بحری جہاز ’مکمل انٹیل جنس نگرانی میں ہیں اور ہماری دفاعی صلاحیتوں کی پہنچ میں بھی۔‘

سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اکبر زادہ نے زور دے کر کہا کہ ’مسلح افواج پوری طرح تیار ہیں اور دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کسی بھی قسم کے خطرے کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔‘

ایران کے قریب امریکی جنگی جہازوں اور لڑاکا طیاروں کی بڑھتی موجودگی کی تصدیق کیا ظاہر کرتی ہے؟ایران امریکہ کشیدگی اور تیل: اگر آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو کیا ہو گا؟مشین گنز، خنجر اور سنائپر رائفلیں: وہ ہتھیار جو ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کے قتل میں استعمال ہوئےبیلسٹک میزائل، سپیڈ بوٹس اور آبنائے ہرمز کی بندش: مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایران امریکہ سے کیسے نمٹ سکتا ہے؟ایران پر ممکنہ حملہ ماضی سے کیسے مختلف ہو گا اور امریکہ کن اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More