BBC
انتباہ: اس رپورٹ میں ریپ اور تشدد سے متعلق ایسے واقعات شامل ہیں جو قارئین کے لیے ذہنی اذیت کا باعث بن سکتے ہیں۔
مغربی شام کے صوبے لاذقیہ کے ایک گاؤں میں گرمیوں کے ایک دن رامیہ (نام تبدیل کیا گیا ہے) اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ پکنک کی تیاری کر رہی تھیں کہ اسی دوران ایک سفید گاڑی وہاں آ کر رُکی۔ بی بی سی ورلڈ سروس سے گفتگو میں نوعمر لڑکی نے بتایا کہ تین مسلح افراد گاڑی سے اترے، خود کو سرکاری سکیورٹی اہلکار ظاہر کیا اور انھیں زبردستی گاڑی میں بٹھا لیا۔
رامیہ کے مطابق ان افراد نے انھیں تشدد کا نشانہ بنایا اور جب وہ رونے اور چیخنے لگیں تو مزید مارپیٹ کی گئی۔ انھوں نے بتایا کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ وہ سنی ہیں یا علوی۔ جب انھوں نے بتایا کہ وہ علوی ہیں تو مبینہ طور پر اس مسلک کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔
رامیہ اُن درجنوں خواتین میں شامل ہیں جن کے بارے میں دسمبر 2024 میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اغوا کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم سیرئین فیمینسٹ لابی کا کہنا ہے کہ اسے خاندانوں، میڈیا اور دیگر ذرائع سے 80 سے زائد لاپتہ خواتین کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 26 کیسز کو اغوا کے واقعات کے طور پر تصدیق کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق لاپتہ ہونے والی تقریباً تمام خواتین علوی مسلک سے تعلق رکھتی ہیں، جو شیعہ اسلام کی ایک شاخ ہے اور شام کی آبادی کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہے، اور اسی مسلک سے معزول صدر کا تعلق بھی تھا۔
Kenana Hendawi/Anadolu via Getty Imageاگرچہ بشار الاسد کے اقتدار کے دوران حکومتی اشرافیہ میں کئی افراد کا تعلق علوی فرقے سے تھا، تاہم اس مسلک کے وہ افراد جو سابق صدر کی مخالفت کرتے تھے، انھیں بھی جبر اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔فرقہ ورانہ تشدد
دو علوی خواتین اور مزید تین خواتین کے اہلِ خانہ نے بی بی سی کو اغوا اور مبینہ جنسی و جسمانی تشدد کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔ ان تمام افراد کے نام رازداری اور تحفظ کی خاطر تبدیل کر دیے گئے ہیں۔
ان سب کا کہنا ہے کہ عبوری حکومت کی جنرل سکیورٹی سروس جو پولیسنگ کی ذمہ دار ہے، نے ان واقعات کی مکمل تحقیقات نہیں کیں۔ ایک متاثرہ خاتون کے مطابق جب انھوں نے اپنی روداد درج کروانے کی کوشش کی تو اہلکاروں نے ان کا مذاق اڑایا۔
وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے نومبر میں کہا تھا کہ مبینہ اغوا کے 42 مقدمات کی تحقیقات کی گئیں جن میں سے ایک کے سوا باقی سب کو ’غلط‘ قرار دیا گیا۔ بی بی سی کی جانب سے رابطہ کرنے پر وزارت نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ تاہم ایک سکیورٹی ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ اغوا کے واقعات میں سکیورٹی سروس کے بعض اہلکار بھی ملوث تھے اور انھیں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
شام کی علوی برادری اور موٹرسائیکل سوار نقاب پوش قاتلوں کا خوف: ’وہ صرف اِس لیے مارے جا رہے ہیں کیونکہ وہ علوی ہیں‘شام میں علوی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کا قتل، عینی شاہدین نے بی بی سی کو کیا بتایا؟شامی افواج پر علوی برادری کے افراد کے قتل کا الزام: شام پر 50 برس تک حکمرانی کرنے والا یہ اقلیتی فرقہ کیا ہے؟’میں کسی مجرم کی طرح شام سے نکلا تھا اور اب وہاں میرا ہیرو جیسا استقبال ہوا‘
سیرئین فیمینسٹ لابی کے ریکارڈ کے مطابق یہ اغوا اور گمشدگیاں فروری 2025 سے لے کر دسمبر کے اوائل تک کے عرصے میں پیش آئیں۔ یہ وہ مدت ہے جو مارچ کے مہینے سے پہلے اور بعد دونوں پر محیط ہے، جب مغربی ساحلی علاقوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے دوران 1400 سے زائد افراد، جن میں اکثریت علوی شہریوں کی تھی، ہلاک ہوئے۔
سنی اسلام پسند حکومت سے وفادار فورسز پر الزام ہے کہ انھوں نے بشار الاسد کے حامیوں کے ایک مہلک حملے کے بعد انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا۔
اگرچہ بشار الاسد کے اقتدار کے دوران حکومتی اشرافیہ میں کئی افراد کا تعلق علوی فرقے سے تھا، تاہم اس مسلک کے وہ افراد جو سابق صدر کی مخالفت کرتے تھے، انھیں بھی جبر اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
BBCیہ نقشہ شام کے مغربی ساحل پر واقع لاذقیہ کو دکھا رہا ہے’خودکشی کی کوششیں‘
رامیہ نے دھیمی آواز میں بتایا کہ انھیں زبردستی پورا جسم ڈھانپنے والا لباس اور نقاب پہننے پر مجبور کیا گیا، جس میں صرف آنکھیں نظر آتی تھیں۔ ان کے مطابق انھیں ایک زیرِ زمین کمرے میں بند رکھا گیا جہاں ایک بستر اور دراز رکھی تھی اور اس پر بیت الخلا کا سامان اور ایک کنڈوم موجود تھا۔
انھوں نے بتایا کہ دو روز تک حراست میں رہنے کے دوران انھوں نے ایک بار فرار کی کوشش کی اور دو مرتبہ خودکشی کی بھی کوشش کی۔
رامیہ کے مطابق اغوا کرنے والا شخص عربی روانی سے نہیں بولتا تھا اور اس کی شکل و صورت ’ایشیائی‘ تھی۔ انھوں نے کہا کہ اس شخص نے ان کا نقاب ہٹا کر تصاویر بھی بنائیں۔
رامیہ کے بقول اسی عمارت میں رہنے والی ایک خاتون، جو خود کو اغوا کار کی بیوی بتاتی تھیں، نے کہا کہ تصویر لینے کا مقصد ’اس کی فروخت کے لیے قیمت طے کرنا‘ تھا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس خاتون نے دعویٰ کیا کہ ان سے پہلے بھی ’بہت سی‘ لڑکیوں کو اغوا کیا جا چکا ہے، جن میں سے بعض کو ریپ کے بعد چھوڑ دیا گیا جبکہ کچھ کو مبینہ طور پر ’بیچ‘ دیا گیا۔
بی بی سی اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ اغوا کی گئی خواتین کے بدلے رقم کا لین دین ہوا، تاہم کارکنان نے ایسے واقعات کی نشاندہی کی ہے جن میں متاثرین نے بتایا کہ انھیں فروخت کرنے یا زبردستی شادی پر مجبور کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
’علوی عورتیں صبایا (قیدی) بننے کے لیے پیدا کی گئی ہیں‘
نیسمہ، جو تیس کی دہائی میں ایک ماں ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں بھی لاذقیہ صوبے میں ان کے گاؤں سے اغوا کر کے پردوں والی وین میں نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔
فون پر گفتگو کے دوران ان کی آواز کانپ رہی تھی جب انھوں نے بتایا کہ انھیں سات دن تک ایک ایسے کمرے میں قید رکھا گیا جس کی کھڑکیاں اونچی تھیں اور جو بظاہر کسی صنعتی عمارت کا حصہ معلوم ہوتا تھا۔ ان کے مطابق تین افراد ان سے مسلسل گاؤں کے رہائشیوں اور سابق حکومت سے ممکنہ روابط کے بارے میں پوچھ گچھ کرتے رہے۔
نیسمہ نے کہا کہ اغوا کرنے والے تمام افراد نقاب پوش تھے اور شامی عربی لہجے میں بات کرتے تھے۔ ان کے بقول انھیں بتایا گیا کہ ’علوی عورتیں صبایا بننے کے لیے پیدا کی گئی ہیں‘۔ ’صبایا‘ ایک قدیم عربی اصطلاح ہے جس کا مطلب ’خواتین قیدی‘ ہے اور جسے بعض انتہا پسند گروہ ایسی خواتین کے لیے استعمال کرتے ہیں جنھیں جنسی غلامی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
Abdulvacit Haci Isteyfi/Anadolu via Getty Imagesمارچ میں مغربی شام میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔’کئی مرتبہ ریپ کا نشانہ بنایا گیا‘
ان کے اغوا کاروں نے ان کا کئی بار ریپ کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میرے ذہن میں صرف موت کا خیال تھا کہ میں مر جاؤں گی اور میرا بچہ ماں کے بغیر رہ جائے گا۔‘
ایک اور نوعمر لڑکی لین کی والدہ حسنہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی بیٹی نے روزانہ کی بنیاد پر مارپیٹ، بندوق کی نوک پر دھمکیوں اور ریپ کو برداشت کیا۔
حسنہ نے بتایا کہ اس کے اغوا کار نے اپنا چہرہ ڈھانپ رکھا تھا، ٹوٹی پھوٹی عربی بولتا تھا اور مارچ کے تشدد کے دوران علویوں کے قتل میں حصہ لینے پر فخر کرتا تھا۔
حسنہ کہتی ہیں ’وہ ہماری لڑکیوں کو صبایا کہا کرتا تھا، کیونکہ اس کے نزدیک ’وہ خدا پر ایمان نہیں رکھتیں‘۔ خیال رہے کچھ سنی انتہا پسند علویوں کو کافر سمجھتے ہیں۔
بی بی سی نے علی سے بھی بات کی جنھوں نے بتایا کہ ان کی بیوی نور کو اغوا کر کے کئی ہفتوں تک قید رکھا گیا۔
سومیہ ایک ماں ہیں جنھوں نے بتایا کہ ان کی نوعمر بیٹی کو ’مسلسل دس دن تک‘ ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔
’فون پر دھمکیاں‘
نیسمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ یہ بتانے گئیں کہ انھیں اغوا کیا گیا تھا تو سکیورٹی اہلکاروں ان کے ساتھ ’تمسخر اور بے احترامی‘ سے پیش آئے: ’انھوں نے مجھ سے کہا ’تمہیں کہنا چاہیے کہ تم پکنک پر گئی تھیں‘۔‘
رامیہ نے کہا کہ اہلکار ابتدا میں ان کے کیس میں دلچسپی لیتے دکھائی دیے، لیکن جب انھوں نے رامیہ کے اغوا کار کی شناخت کر لی تو ان کی کالز لینا بند کر دیں۔ خاندان کو فون پر دھمکیاں ملیں کہ ’اگر ہم بات کریں گے تو ہمیں قیمت چکانی پڑے گی‘، وہ بتاتی ہیں کہ اس کے بعد انھوں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
علی نے بی بی سی کو بتایا ’انھوں نے اغوا کار کو گرفتار کیا لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ آگے کیا ہوا۔‘ علی نے کہا کہ انھیں خوف ہے کہ اغوا کار رہا ہو جائے گا اور ’ہمارے پیچھے آئے گا‘۔
لین کی والدہ نے کہا کہ ان کی بیٹی کا کئی بار سکیورٹی اہلکاروں نے ’دلچسپی اور ہمدردی‘ کے ساتھ انٹرویو کیا، لیکن تحقیقات کے نتائج کئی ماہ گزرنے کے باوجود بھی شیئر نہیں کیے گئے۔ سومیہ کہتی ہیں کہ انھوں نے واقعہ رپورٹ کیا لیکن کوئی اپ ڈیٹ نہیں ملی۔
نومبر میں شام کی وزارت داخلہ، جو جنرل سکیورٹی سروس کی نگرانی کرتی ہے، نےاغوا کے 42 واقعات (جن کی رپورٹ درج کروائی گئی) پر اپنی تحقیقات کے نتائج پر ایک پریس کانفرنس کی۔
ترجمان نورالدین البابا نے دعویٰ کیا کہ صرف ایک کیس ’حقیقی اغوا‘ تھا۔ انھوں نے کہا کہ باقی کو ’رضاکارانہ طور پر بھاگ جانا‘، ’رشتہ داروں یا دوستوں کے ساتھ رہنا‘، ’گھریلو تشدد سے فرار‘، ’سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے‘ یا ’فحاشی اور بلیک میلنگ میں ملوث ہونے‘ کے طور پر بیان کیا گیا جبکہ چار ’جرائم ایسے تھے جن کے لیے گرفتاریاں کی گئیں‘۔
وزارت نے زور دیا کہ اس طرح کی رپورٹس کو ’انتہائی سنجیدگی اور ذمہ داری‘ کے ساتھ نمٹایا گیا۔
بعد میں نومبر میں، بی بی سی نے وزارت سے ان بیانات پر ردعمل کے لیے رابطہ کیا۔ وزارت نے کہا کہ وہ مزید کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔
OMAR HAJ KADOUR/AFP via Getty Imagesاغوا کے کئی واقعات شام کے ساحلی شہر لاذقیہ کے گرد و نواح سے رپورٹ کیے گئے ہیں۔
ساحلی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک سکیورٹی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا: ’کچھ عناصر کی طرف سے غیر منظم کارروائیاں ہوتی ہیں جو وقتی طور پر مالی بلیک میلنگ، لاپرواہی یا جو پچھلے دورِ حکومت سے چلی آ رہی ذاتی وجوہات کے باعث اغوا کرتے ہیں۔‘
اس اہلکار نے کہا کہ اس میں جنرل سکیورٹی سروس کے ارکان بھی شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’کچھ افسران انتقام کے طور پر اغوا کرتے ہیں۔ کچھ کیسز بے نقاب ہوئے ہیں اور ملوث افسران کو فوراً برطرف کر دیا گیا۔‘
چار خواتین اور خاندان جنھوں نے بی بی سی سے بات کی، کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ اغوا کار کون تھے۔ ایک نے کہا کہ وہ جانتی ہیں اور یہ شخص سکیورٹی سروسز سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔ دو نے کہا کہ انھیں عوامی دباؤ کے بعد رہا کیا گیا، باقیوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتیں کہ انھیں کیوں آزاد کیا گیا۔
مقصد ’شکست خوردہ فریق کی بے حرمتی اور علوی خواتین میں خوف پھیلانا‘ تھا
جولائی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ اسے کم از کم علوی برادری کی 36 خواتین اور لڑکیوں کے اغوا اور لاپتہ ہونے کی معتبر اطلاعات ملی ہیں، جن کی عمریں تین سے چالیس سال کے درمیان تھیں اور انھوں نے آٹھ کیسز کو تفصیل سے دستاویزی شکل دی۔
بی بی سی کو ڈپٹی ریجنل ڈائریکٹر کرسٹین بیکرلے نے بتایا کہ ’تقریباً تمام‘ کیسز میں خاندانوں کو ’تحقیقات پر کوئی بامعنی اپ ڈیٹ یا قابلِ اعتبار پیش رفت کا احساس نہیں دلایا گیا۔‘
یامن حسین جو شام سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن اور جرمنی میں مقیم مصنف ہیں، اس مسئلے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ متاثرین کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ اغوا کا ایک نظریاتی پہلو تھا ’جو شکست خوردہ فریق کی بے حرمتی کے تصور پر مبنی ہے‘، اور اس کا مقصد ’علوی خواتین میں خوف پھیلانا‘ تھا۔
Reuters’سزا سے بچانے والا ماحول‘
تاہم یامن حسین نے مزید کہا کہ ’عمومی طور پر سزا سے بچانے والے ماحول‘ نے ان گروہوں کو بھی اغوا کرنے پر آمادہ کیا جن کے پاس کوئی نظریاتی مقصد نہیں تھا۔
شامی فیمینسٹ لابی کے مطابق، چند دروز اور سنی خواتین کے اغوا کی اطلاع بھی ملی تھی لیکن بعد میں انھیں رہا کر دیا گیا۔ اس لابی کا کہنا ہے کہ 16 خواتین جو سب علوی ہیں، اب بھی لاپتہ ہیں۔
بی بی سی سے بات کرنے والے خاندان اب بھی خوف میں ہیں۔۔۔ انھیں بولنے پر انتقام اور ریپ سے جڑی سماجی بدنامی کا ڈر ہے۔
لین کی والدہ نے بتایا کہ وہ مستقل اضطراب میں رہتی ہیں اور دروازے پر دستک سے خوفزدہ ہو جاتی ہیں۔
نیسمہ کی شادی ٹوٹ گئی ہے۔
رامیہ کہتی ہیں کہ ’میں نیند میں چیخا کرتی تھی‘۔ وہ بتاتی ہیں کہ وہ ایک معالج سے مل رہی ہیں لیکن پھر بھی پرسکون نیند نہیں آتی اور ’سکون نہیں ملتا‘۔
علی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور نور انصاف مانگنے سے بہت خوفزدہ ہیں۔
سومیہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی سکول واپس چلی گئی ہے لیکن ’ہمارے آس پاس کوئی نہیں جانتا کہ کیا ہوا تھا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں یہ نہیں چھپانا چاہیے کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا۔۔۔ لیکن ہمیں خود کو خطرے میں بھی نہیں ڈالنا چاہیے۔‘
شام میں علوی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کا قتل، عینی شاہدین نے بی بی سی کو کیا بتایا؟شامی افواج پر علوی برادری کے افراد کے قتل کا الزام: شام پر 50 برس تک حکمرانی کرنے والا یہ اقلیتی فرقہ کیا ہے؟شام کی علوی برادری اور موٹرسائیکل سوار نقاب پوش قاتلوں کا خوف: ’وہ صرف اِس لیے مارے جا رہے ہیں کیونکہ وہ علوی ہیں‘ماضی کے باغی اور جنگجو: وہ شخصیات جنھوں نے جنگ کا میدان چھوڑ کر سیاست کا میدان سنبھال لیا’میں کسی مجرم کی طرح شام سے نکلا تھا اور اب وہاں میرا ہیرو جیسا استقبال ہوا‘