آیت اللہ سید علی خامنہ ای کون تھے اور اُن کا خاندان کتنا بااثر ہے؟

بی بی سی اردو  |  Mar 01, 2026

Getty Images

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ و اسرائیل کے حملوں میں ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ علی خامنہ ای امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے پہلے روز ہی مارے جا چکے ہیں۔

علی خامنہ ای سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے رہبرِ اعلیٰ بننے والے دوسرے شخص تھے۔ انھوں نے سنہ 1989 میں آیت اللہ خمینی کی وفات کے بعد یہ عہدہ سنبھالا تھا اور بہت سے نوجوان ایرانیوں نے ہمیشہ سے انھیں ہی اس کردار میں دیکھا۔

وہ ایرانی ریاست کے طاقت کے مراکز میں مرکزی حیثیت رکھنے کے لیے مشہور رہے۔ بطور رہبرِ اعلیٰ، خامنہ ای کو کسی بھی حکومتی معاملے میں ویٹو کی طاقت حاصل رہی۔ اس کے علاوہ ان کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ جس کو چاہیں، کسی بھی عوامی دفتر کے امیدوار کے طور پر منتخب کر سکتے تھے۔

ریاست کے سربراہ اور فوج کے کمانڈر ان چیف ہونے کے ناطے، وہ ایران کے سب کے طاقتور شخص کے طور پر جانے جاتے تھے۔

ایرانی صدور بیرون ممالک اکثر سرخیوں میں رہے لیکن ایران میں تمام معاملات کی باگ دوڑ درحقیقت خامنہ ای کے ہاتھ میں رہی۔

خامنہ ای: ایران کے ’سب سے طاقتور شخص‘

آیت اللہ خامنہ ای سنہ 1939 میں ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد کے ایک مذہبی خاندان میں ہیدا ہوئے۔ وہ اپنے بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھے اور ان کے والد ایک شیعہ عالم تھے۔

انھوں نے بچپن میں مذہبی تعلیم حاصل کی اور 11 برس کی عمر میں وہ ایک عالم کے طور پر اہل ہو گئے تھے۔ اپنے دور کے دیگر عالموں کی طرح، ان کے کام کی نوعیت مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی بھی تھی۔

بطور ایک بااثر خطیب، وہ شاہِ ایران کے نقادین میں شامل ہوئے۔ بالآخر سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے نتیجے میں ایران کے شاہ کا تختہ الٹ دیا گیا۔

خامنہ ای کئی برسوں تک روپوش رہے اور انھیں جیل بھی کاٹنی پڑی۔ شاہِ ایران کی خفیہ پولیس نے انھیں چھ مرتبہ گرفتار کیا اور انھیں تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

سنہ 1979 کے انقلاب کے ایک سال بعد، آیت اللہ روح اللہ خمینی نے انھیں تہران میں جمعے کی نماز کا امام مقرر کر دیا۔

سنہ 1981 میں خامنہ ای ایران کے صدر منتخب ہوئے جبکہ سنہ 1989 میں روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد مذہبی رہنماؤں نے انھیں آیت اللہ خمینی کا جانشین مقرر کر دیا۔

Anadolu/Getty Imagesآیت اللہ خامنہ ای ایران کے سب کے طاقتور شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

خامنہ ای بہت کم ایران سے باہر جاتے تھے اور مرکزی تہران میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایک سادہ زندگی گزارتے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ وہ باغبانی اور شاعری کے شوقین تھے۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ جوانی میں سگریٹ نوشی کرتے تھے جو کہ ایران کے مذہبی رہنما کے لیے غیر معمولی بات ہے۔

1980 کی دہائی میں ان پر ہونے والے ایک قاتلانہ حملے کے بعد سے خامنہ ای اپنا دایاں بازو استعمال نہیں کر سکتے ہیں۔

قاسم سلیمانی: مزاحمت کے ایرانی اتحاد کے معمار جن کی ہلاکت نے ’اسرائیل کے گرد آتشیں گھیراؤ‘ کو ہلا کر رکھ دیا’مزاحمت کا محور‘: کیا شام میں ناکامی کے بعد ایران خود کو خطے میں دوبارہ مضبوط بنا سکے گا؟’پارٹی سِٹی‘ سے اسلامی جمہوریہ تک: ایران میں 45 برس قبل انقلاب برپا کرنے والے ’پرانے انقلابی‘ آج کیا سوچتے ہیں؟جب دوران پرواز آیت اللہ خمینی کو بتایا گیا کہ ایران کی فضائیہ طیارے کو مار گرانا چاہتی ہے

خامنہ ای کی اپنی اہلیہ منصوره خجستہ باقرزاده سے چھ بچے ہیں جن میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ امریکی حملے میں ان کی ایک بیٹی اور داماد کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔

خامنہ ای خاندان شاذ و نادر ہی عوام یا میڈیا کے سامنے آتا ہے۔ خامنہ ای کے بچوں کی نجی زندگی کے بارے میں سرکاری اور مصدقہ اطلاعات بہت محدود ہیں۔

ان کے بچوں میں ان کے دوسرے بیٹے مجتبیٰ اپنے اثر و رسوخ اور خامنہ ای کے قریبی حلقوں میں اپنے کردار کی وجہ سے سب سے زیادہ جانے جاتے ہیں۔

خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ کتنے طاقتور ہیں؟

مجتبیٰ نے تہران کے علاوی ہائی سکول سے تعلیم حاصل کی۔ یہ وہی سکول ہے جہاں روایتی طور پر ایران کے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے بچے پڑھتے ہیں۔

ان کی شادی قدامت پسند شخصیت غلام علی حداد عادل کی بیٹی سے اس وقت ہوئی جب وہ عالم نہیں بنے تھے اور قم میں مذہبی تعلیم شروع کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ مجتبیٰ نے 30 برس کی عمر میں قم کے مدرسے سے باقاعدہ مذہبی تعلیم حاصل کرنے کا آغاز کیا۔

2000 کی دہائی کے وسط تک ایران کے سیاسی حلقوں میں مجتبیٰ کا اثر و رسوخ کافی بڑھ گیا لیکن اس بارے میں میڈیا میں بہت کم بات کی جاتی ہے۔

سنہ 2004 میں مجتبیٰ پہلی مرتبہ اس وقت خبروں کی زینت بنے جب مہدی کروبی نامی صدارتی امیدوار نے آیت اللہ خامنہ ای کے نام کھلے خط میں ان پر پس پردہ احمدی نژاد کی حمایت کے لیے کام کرنے کا الزام لگایا۔

NurPhoto/Getty Imagesمجتبی خامنہ ای کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ایران کے سب سے بااثر افراد میں سے ایک ہیں۔

2010 کی دہائی سے انھیں ایران کے بااثر ترین شخصیات میں سے ایک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ خامنہ ای انھیں اپنے جانشینی کے لیے موزوں ترین امیدوار کے طور پر دیکھتے ہیں تاہم، کچھ سرکاری ذرائع اس بات کی تردید کرتے ہیں۔

آیت اللہ کوئی بادشاہ نہیں جو اپنا تخت اپنے بیٹے کو سونپ سکیں تاہم مجتبیٰ آیت اللہ خانہ ای کے قریبی حلقوں بشمول رہبرِ اعلیٰ کے دفتر میں کافی اثرورسوخ رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ رہبر اعلیٰ کا دفتر کئی معاملات میں آئینی اداروں سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔

خامنہ ای کے سب سے بڑے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای ہیں۔ ان کی اہلیہ قدامت پسند مذہبی رہنما عزیزالله خوشوقت کی بیٹی ہیں۔

مصطفیٰ اور مجتبیٰ نے 1980 کی دہائی میں ایران اور عراق کے درمیان جنگ کے دوران اگلے محاذوں پر خدمات سر انجام دی ہیں۔

AFP/Getty Imagesمیثم خامنہ ای کے بیٹوں میں سب سے چھوٹے ہیں

علی خامنہ ای کے تیسرے بیٹے مسعود 1972 میں پیدا ہوئے۔ ان کی شادی قم کے مدرسے کے معلموں کی ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والے عالم سید محسن خرازی کی بیٹی سے ہوئی۔

مسعود خامنہ ای سیاسی حلقوں سے دور رہتے ہیں اور ان کے بارے میں معلومات بہت محدود ہیں۔

وہ پہلے اس دفتر کے سربراہ تھے جو آیت اللہ خامنہ ای کے لیے ایک اہم پروپیگنڈہ مرکز کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ دفتر ان کے والد کے کاموں کو محفوظ کرنے کا کام بھی کرتا ہے۔ خامنہ ای کی سوانح حیات اور یادداشتیں مرتب کرنے کی ذمہ داری بھی مسعود پر ہے۔

خامنہ ای کے سب سے چھوٹے بیٹے میثم 1977 میں پیدا ہوئے اور اپنے باقی تینوں بھائیوں کی طرح وہ بھی عالم ہیں۔

ان کی اہلیہ ایک بااثر تاجر محمود لولاچیان کی بیٹی ہیں جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ 1979 کے انقلاب سے قبل انقلابی مذہبی رہنماؤں کی مالی اعانت کیا کرتے تھے۔

میثم نے اپنے بڑے بھائی مسعود کے ساتھ اپنے والد کے کاموں کو محفوظ رکھنے کے ذمہ دار دفتر میں کام کیا ہے۔

خامنہ ای کی بیٹیاں کون ہیں؟

خامنہ ای کی بیٹیوں بشریٰ اور ہدیٰ کے بارے میں بہت محدود معلومات دستیاب ہیں۔ یہ دونوں اپنے بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹی ہیں اور 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد پیدا ہوئی ہیں۔

1980 میں پیدا ہونے والی بشریٰ کی شادی غلام حسین محمد محمدی گلپایگانی کے بیٹے محمد جاوید گلپایگانی سے ہوئی۔ غلام حسین محمد محمدی خامنہ ای کے دفتر میں چیف آف سٹاف ہیں۔

خامنہ ای کی سب سے چھوٹی اولاد ہدیٰ 1981 میں پیدا ہوئیں۔ ان کی شادی مصباح الهدىٰ باقری کنی سے ہوئی ہے جو امام صادق یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔

علی خامنہ ای: ایران کے رہبر اعلیٰ کا جانشین کون ہو گا؟ایران میں ’رہبرِ اعلیٰ‘ کا کردار آج بھی کتنا اہم ہے؟فضائی برتری، خفیہ ایجنٹ اور امریکی ہتھیار: اسرائیلی فوج ایران پر کیسے ’حاوی‘ ہوئی اور آگے کیا ہو گا؟’مزاحمت کا محور‘: کیا شام میں ناکامی کے بعد ایران خود کو خطے میں دوبارہ مضبوط بنا سکے گا؟اسرائیل، ایران اور تیل: آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو کیا ہو گا؟کیا ایران کے طاقتور سیاستدان اقتدار میں آ کر علما کی جگہ لے پائیں گے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More