Getty Imagesایرانی حکومت نے آیت اللہ خامنہ ای کی موت پر 40 روزہ سوگ اور سات دن کی تعطیلات کا اعلان کیا ہے
جمعے کو تہران پر امریکی و اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای ملک کی سب سے طاقتور شخصیت تھے۔
ایران کے آئین میں رہبر اعلیٰ کا عہدہ سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد آیت اللہ خمینی کی قیادت میں تخلیق کیا گیا تھا اور وہ تین دسمبر 1979 کو ملک کے پہلے رہبرِ اعلیٰ مقرر ہوئے تھے۔
آیت اللہ خمینی ساڑھے نو برس تک اس عہدے پر فائز رہے اور 1989 میں ان کی وفات کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کو ملک کا دوسرا رہبرِ اعلیٰ چنا گیا اور وہ 28 فروری 2026 کو اپنی موت تک ساڑھے 36 برس یہ ذمہ داری نبھاتے رہے۔
ایرانی حکومت نے آیت اللہ خامنہ ای کی موت پر 40 روزہ سوگ اور سات دن کی تعطیلات کا اعلان کیا ہے جبکہ اس کے بعد سے ایران کی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔
نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب تک کنٹرول کس کے پاس؟
ایرانی آئین کے آرٹیکل 111 کے مطابق، رہبرِ اعلیٰ کی موت سے لے کر مجلسِ رہبری کی جانب سے نئے قائد کے متعارف کروائے جانے تک، تین رکنی کونسل عارضی طور پر قائدانہ فرائض سنبھالتی ہے۔
اس کونسل کے ارکان میں ملک کے صدر، عدلیہ کے سربراہ، اور شوریٰ نگہبان کے ایک فقیہ ہوتے ہیں جنھیں 'مجمع تشخیص مصلحت نظام‘ نامی ادارے کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے۔
اتوار کو 'مجمع تشخیص مصلحت نظام‘ نے قدامت پسند عالم اور جانشینی کی دوڑ کے ممکنہ امیدوارعلی رضا عرفی کو اسلامی جمہوریہ ایران کی عبوری قیادت کونسل کا ’فقہی‘ رکن منتخب کیا جس کے بعد یہ کونسل مکمل ہو گئی ہے اور اس کے بقیہ دو ارکان میں صدر مسعود پزشکیان اور عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجی شامل ہیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تصدیق کی ہے کہ اس کونسل نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ اس تین رکنی کونسل کو مکمل اختیار حاصل نہیں ہوتا اور مندرجہ ذیل صورتوں میں، اس کے فیصلوں کو صرف ’مجمع تشخیص مصلحت نظام‘کے تین چوتھائی اراکین کی منظوری سے نافذ کیا جا سکتا ہے:
1- نظام کی عمومی پالیسیوں کا تعین
2- رائے شماری کے حکم نامے کا اجرا
3- جنگ یا امن کا اعلان
4- صدر کا مواخذہ
5- چیف آف جوائنٹ اسٹاف، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف، یا اعلیٰ فوجی اور قانون نافذ کرنے والے کمانڈروں کی برطرفی اور تقرری۔
Getty Images
پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف، مسلح افواج کے چیف آف سٹاف اور متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی ہلاکت کے پیش نظر، امکان ہے کہ عبوری قیادت کی کونسل اس سلسلے میں کچھ فیصلے کرے گی۔
پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف کے مشیر ابراہیم جباری نے یکم مارچ کو ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں کہا کہ علی خامنہ ای نے’کسی بھی صورتحال میں مسلح افواج اور کچھ کمانڈروں کے فرائض کی وضاحت کر دی تھی اور مسلح افواج برسوں سے اپنے منصوبوں کو جانتی ہیں۔‘
مجلسِ رہبری اور رہبر اعلیٰ کا انتخاب
ایران اس وقت دنیا میں اہل تشیع آبادی کی اکثریت والا سب سے طاقتور ملک ہے اور ملک کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر صرف ایک آیت اللہ بن سکتا ہے، جو اہل تشیع کا مذہبی رہنما ہوتا ہے۔
تاہم جب علی خامنہ ای کا انتخاب ہوا تھا تو وہ آیت اللہ نہیں تھے۔ اس سلسلے میں قانون بدلے گئے تھے تاکہ وہ یہ عہدہ سنبھال سکیں۔
ایران میں 88 علما کا ایک ادارہ جسے 'مجلسِ رہبری' کہا جاتا ہے رہبر اعلیٰ کا انتخاب کرتا ہے۔ ہر آٹھ سال بعد ایران کے لاکھوں شہری اس ادارے کے اراکین کو منتخب کرتے ہیں۔ مجلسِ رہبری کے کسی امیدوار کو انتخاب میں حصہ لینے سے قبل پہلے شوریٰ نگہبان نامی کمیٹی کی منظوری درکار ہوتی ہے جس کے اراکین کا انتخاب بالواسطہ یا بلاواسطہ موجودہ رہبر اعلیٰ کرتے ہیں۔
2024 میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے وفاداروں نے اسکونسل کی تمام نشستیں جیتی تھیں جبکہ چار نشستیں جو ارکان کی موت کے بعد خالی ہو گئی تھیں- جن میں ابراہیم رئیسی بھی شامل ہیں- مئی 2026 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھری جائیں گی۔
اس وقت اس اسمبلی کے چیئرمین محمد علی موحیدی کرمانی ہیں جبکہ ہاشم حسینی بوشہری اور علی رضا عرفی نائب چیئرمین ہیں۔
ضوابط کے مطابق، مجلسِ رہبری کا اجلاس اس وقت درست ہے جب اس کے کم از کم دو تہائی ارکان (59 افراد) موجود ہوں۔ نئے رہنما کے انتخاب کے لیے اجلاس میں موجود افراد کی دو تہائی اکثریت کے ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر صرف 59 ارکان موجود ہوں تو نئے قائد کے انتخاب کے لیے 40 ووٹ کافی ہیں۔
Getty Imagesممکنہ امیدواروں کا جائزہ کمیشن
مجلسِ رہبری کے ایک کمیشن کا کام ایسے افراد کی اہلیت کا جائزہ لینا ہے جنھیں رہبرِ اعلیٰ کے عہدے کے لیے اہل سمجھا جا سکتا ہے۔
اس کمیشن کے اہم ارکان میں شوری نگہبان فقہی کے رکن احمد حسینی خراسانی، شوری نگہبان کے ارکان علی رضا عرفی اور محمد رضا مدرسی یزدی، مجلس رہبری کے پہلے نائب صدر ہاشم حسینی بوشہری، یورپ میں آیت اللہ خامنہ ای کے سابق نمائندے محسن محمدی اراکی، اصفہان میں نمازِ جمعہ کے اما ابوالحسن مہدوی، تین مرتبہ مجلسِ رہبری کے رکن اور اردبیل میں نمازِ جمعہ کے امام حسن آملی شامل ہیں۔
مہینوں کی منصوبہ بندی اور عین وقت پر ملنے والی خفیہ اطلاع: خامنہ ای کو قتل کرنے کا امریکی، اسرائیلی مشن کیسے مکمل ہوا؟آیت اللہ خامنہ ای: ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا مسلم دنیا پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کون ہیں اور اُن کا خاندان کتنا بااثر ہے؟’تہران وہی کر رہا ہے جس کا اس نے وعدہ کیا‘: ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک پر میزائل حملوں سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟انتخاب میں کتنا وقت لگتا ہے؟
نئے رہبرِ معظم کے انتخاب کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے اور چونکہ تین رکنی عبوری کونسل کی تشکیل ہو چکی ہے تو کم از کم کاغذات میں، اقتدار کا خلا نہیں ہوگا۔
تاہم اسلامی جمہوریہ کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد کے واقعات کے تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ مجلسِ رہبری کے ارکان نے ان حالات میں جانشین کے انتخاب میں تیزی دکھائی۔
آیت اللہ خمینی کا انتقال چار جون 1989 کی شب 10 بجے کے بعد ہوا تھا اور مجلسِ رہبری نے اگلی صبح اجلاس بلا کر چند گھنٹوں میں جانشینی کا فیصلہ کر لیا تھا۔
رہبرِ اعلیٰ کے عہدے کی اہمیت
ایران کے آئین کے آرٹیکل 57 کے مطابق 'اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کے تین ادارے ہیں، مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ۔ اور یہ تینوں ادارے ولایت امر اور امت کی رہبریت کی نگرانی میں آئین کی مختلف شقوں کے مطابق کام کرتے ہیں۔'
اگرچہ ایران کی سیاست میں تنوّع ہے لیکن ملکی سلامتی اور انقلاب اسلامی کے وجود کو پہلے دن ہی سے مبینہ خطرات کے خدشات کی وجہ سے رہبر اعلیٰ کا منصب عوامی اور سیاسی تحریکوں کا محور بنا رہا ہے۔
حالانکہ آئین میں رہبر کی بھی نگرانی کی گنجائش موجود ہے اور اختلافِ رائے بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن رہبر کو انقلاب اسلامی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اس کی مخالفت کو انقلاب سے بغاوت تصور کیا جاتا ہے۔
ایرانی آئین کے آرٹیکل 91 کے تحت رہبرِ اعلیٰ 'شوریٰ نگہبان' کے 12 میں سے 6 ارکان کو نامزد کرتے ہیں اور آرٹیکل 157 کے تحت چیف جسٹس کا تقرر بھی کرتا ہے۔
Getty Images
آرٹیکل 110 اسےاختیار دیتا ہے کہ وہ 'مجمع تشخیص مصلحت نظام' سے مشاورت کر کے ایران کی عمومی حکمت عملی تشکیل دے۔ اس کے علاوہ حکومت کے پورے نظام کی نگرانی کرے۔
ریفرنڈم کرانے کا اختیار بھی رہبر کے پاس ہے۔ وہی پاسدارانِ انقلاب سمیت ایران کی تمام مسلح افواج کے سربراہوں کی تقرری کرتا ہے اور صرف رہبر ہی اعلان جنگ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
صدر مملکت کے انتخابات کے بعد کامیاب امیدوار کا تقررنامہ بھی رہبر کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے۔ رہبر کے پاس صدر کو برطرف کرنے کا بھی اختیار ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہے اگر چیف جسٹس صدر کو کسی جرم کا مرتکب پائے یا پارلیمان نے صدر کو آرٹیکل 89 کے مطابق نا اہل قرار دے دیا ہو۔
اگر حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان اختلاف پیدا ہوجائے تو رہبر سے رجوع کیا جاتا ہے۔ تاہم آئین کی تشریح کے لیے 'شورایٰ نگہبان' سے رجوع کیا جاتا ہے۔ ایران کے سرکاری براڈکاسٹنگ کے ادارے کا سربراہ بنانے کا اختیار بھی ان کے پاس ہے۔ رہبر عدلیہ سے سزا پانے والوں کو معاف کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ رہبر اپنے اختیارات کسی اور کو بھی تفویض کر سکتا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 60 کے مطابق، انتظامیہ کے تمام اختیارات صدر اپنے وزارا کی مدد کے ساتھ استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے سوائے ان انتظامی اختیارات کے جو آئین نے رہبر کے لیے مخصوص کیے ہیں۔ تاہم عملاً ایسا ہوتا رہا ہے کہ رہبر مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کے اختیارات صدر کو تفویض کردیتا ہے۔
Getty Images
ایران کی مسلح افواج میں سپاہِ پاسداران انقلاب، اور اس کے بری، بحری اور فضائیہ کے دستوں کے علاوہ القدس نامی سٹریٹجک فورس بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایران کی روایتی مسلح افواج بھی جنھیں 'ارتشِ ایران' (مسلح افواجِ ایران) کہا جاتا ہے وہ بھی ایران کی کی کل فوجی طاقت کا حصہ ہیں۔ ان تمام مسلح افواج کے سپریم کمانڈر رہبرِ اعلیٰ ہیں اور وہی ان کے سربراہو ں کا تقرر کرتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ایران میں رضاکاروں کی تعداد ایک کروڑ سے بھی زیادہ ہے جسے 'بسیج' کہا جاتا ہے۔ اس کے قیام کا اعلان آیت اللہ خمینی نے کیا تھا اور اس کا مقصد 'انقلابِ اسلامی کو محفوظ بنانا تھا'۔ یہ 'نیروی مقاومت بسیج' کے نام سے بھی جانی جاتی ہے لیکن اس کا سرکاری نام 'سازمان بسیج مستضعفین' ہے۔
ابتدا میں تو یہ ایک آزاد ادارہ تھا لیکن بعد میں اسے پاسدارن انقلاب کا حصہ بنا دیا گیا۔ اس کے سربراہ کی تقرری بھی رہبر کرتے ہیں۔ بسیج کی انتظامیہ کا ایک سٹاف ہے جسے ریاستی ملازم کے طور پر تنخواہ ملتی ہے لیکن اس کے عام رضاکار بغیر تنخواہ کے کام کرتے ہیں۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کا جانشین کون ہو سکتا ہے؟Getty Imagesمجتبیٰ خامنہ ای، جنھیں اکثر ایک پراسرار اور بااثر شخصیت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، دو دہائیوں سے میڈیا کی توجہ کا موضوع رہے ہیں۔
علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد یہ سب سے اہم سوال ہے کہ ان کا جانشین کسے مقرر کیا جائے گا۔
علی خامنہ ای اپنے پیشرو امام خمینی کی طرح اپنے حامیوں کے علاوہ زیادہ وسیع پیمانے پر اتحاد قائم نہیں کر سکے تھے لیکن انھیں ایرانی فورس پاسداران انقلاب کے اہم کمانڈرز کی حمایت حاصل رہی۔
اس لیے قومی امکان ہے کہ ملک کے نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب میں بھی پاسداران انقلاب کی قیادت کا اثر شامل رہ سکتا ہے۔
علی خامنہ ای کی زندگی میں بعض لوگوں کا خیال تھا کہ ان کے نزدیک دو امیدوار اہم تھے جن میں ان کے بیٹے مجتبی خامنہ ای اور ملک کے صدر ابراہیم رئیسی شامل تھے۔ ان میں سے ابراہیم رئیسی 2024 میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای، جنھیں اکثر ایک پراسرار اور بااثر شخصیت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، دو دہائیوں سے میڈیا کی توجہ کا موضوع رہے ہیں۔ اپنے والد کے دفتر کے انتظام میں اپنے کردار کے لیے مشہور، مجتبیٰ خامنہ ای پر امریکہ نے پابندیاں لگا رکھی ہیں اور اس کا دعویٰ ہے کہ مجتبیٰ نے ’اپنے والد کی غیر مستحکم علاقائی خواہشات اور جابرانہ داخلی مقاصد‘ کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا۔
صدر ابراہیم رئیسی کی وفات کے بعد سے 56 سالہ مجتبیٰ کو علی خامنہ ای کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے تاہم، آیت اللہ خامنہ ای کے کمپاؤنڈ پر حملے کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں جبکہ ان کی اہلیہ مبینہ طور پر ہلاک شدگان میں شامل تھیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی راہ میں اہم رکاوٹ وراثتی جانشینی کا مسئلہ ہے، جس پر آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے پیش رو آیت اللہ خمینی دونوں پہلوی بادشاہت کے تناظر میں تنقید کرتے رہے۔
حالیہ برسوں میں قدامت پسند اور معتدل دونوں گروہوں کے کئی امیدوار قیادت کی دوڑ میں نظر انداز ہو گئے ہیں۔ ان میں عدلیہ کے سابق سربراہ صادق املی لاریجانی اور سابق صدر حسن روحانی شامل تھے۔
ایک اور اہم نام جو اس فہرست میں شامل ہے وہ علی رضا عرفی کا ہے جن کے امکانات عبوری قیادت کونسل میں تقرری کے بعد بڑھتے نظر آتے ہیں۔
66 سالہ عرفی، ملک بھر کے تمام مدارس کے ڈائریکٹر ہیں، جو ایران کے مذہبی حلقوں میں ایک اعلیٰ عہدہ ہے۔ 2019 میں، خامنہ ای نے انھیںشوریٰ نگہبان کا رکن مقرر کیا۔ مارچ 2024 کے ووٹ کے بعد، عرفی نے اس شوریٰ میں اہم عہدہ حاصل کیا اور اس کے دوسرے نائب چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔
اسی شوریٰ نگہبان کے کچھ قدامت پسند اور سخت گیر ارکان، جیسے کہ فرسٹ ڈپٹی چیئرمین ہاشم حسینی بوشہری، محسن اراکی اور محمد مہدی میرباقری مبینہ طور پر جانشینی کی فہرست میں شامل ہیں۔
حسن خمینی، آیت اللہ روح اللہ خمینی کے پوتے، اصلاح پسند اور معتدل حلقوں میں پسندیدہ امیدوار ہیں۔ ان کی مذہبی اسناد اور خاندانی ورثہ وزن رکھتے ہیں، لیکن ان کا محدود سیاسی تجربہ اور مضبوط حریفوں کی موجودگی ان کے امکانات کو کم کر دیتی ہے۔
نہیں 2016 کے شوریٰ نگپبان انتخابات میں حصہ لینے سے بھی روک دیا گیا تھا۔ ان کے امکانات سیاسی حالات میں تبدیلی اور اس بات پر منحصر ہیں کہ آیا ایران کی طاقتور اشرافیہ زیادہ معتدل سمت پر اتفاق رائے حاصل کر سکتی ہے یا نہیں۔
ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کون ہیں اور اُن کا خاندان کتنا بااثر ہے؟’تہران وہی کر رہا ہے جس کا اس نے وعدہ کیا‘: ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک پر میزائل حملوں سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟’وار آف چوائس‘:امریکہ اور اسرائیل ایک ’موقع‘ دیکھ رہے ہیں جسے وہ ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے’400 سیکنڈ میں تل ابیب‘: عالمی پابندیوں کے باوجود ایران نے ’اسرائیل تک پہنچنے والے‘ ہائپرسونک میزائل کیسے بنائے؟