سعودیہ، قطر کو حملوں کا سامنا اور آبنائے ہرمز کی بندش: پاکستان میں تیل اور گیس کی فراہمی اور قیمتیں کیسے متاثر ہو سکتی ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Mar 04, 2026

AFP via Getty Imagesآبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں لگ بھگ معطل ہو چکی ہیں اور بہت سے بحری جہاز یہاں کھڑے ہیں

مشرقِ وسطیٰ میں تنازع شدت اختیار کرنے اور اس کے بڑھتے دورانیے پر عالمی تشویش کے بیچ تیل اور گیس کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ دوسری جانب عالمی سٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

بدھ کی روز تیل اور برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں مزید 1.2 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ اہم آبنائے ہرمز کے قریب آئل ٹینکرز بدستور رُکے ہوئے ہیں اور یہاں تجارتی سرگرمیاں لگ بھگ معطل ہو چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو آئندہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ایران جنگ سے متعلق تازہ ترین تفصیلات بی بی سی اُردو کے لائیو پیج پر

آبنائے ہرمز وہ آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا میں ترسیل ہونے والے خام تیل کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسی صورتحال کے باعث دنیا کے کئی ممالک کو تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے اور پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی آئل کمپنی بھی اسی خطے میں ہے۔ سعودی عرب کی ملکیت میں چلنے والی آرامکو آئل کمپنی کو پیر کے روز عارضی طور پر اپنی سب سے بڑی ریفائنری بند کرنا پڑی۔ ریفائنری پر ہونے والے ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں آرامکو کی چند تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

سعودی عرب کے پڑوس میں واقع قطر دنیا کو گیس سپلائی کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔ اس کے گیس سپلائی کرنے کے ٹینکرز بھی اس وقت رُکے ہوئے ہیں جبکہ قطر اپنے ملک میں موجود امریکی اڈے کی طرف آنے والے ایرانی میزائلوں کو روکنے میں مصروف ہے۔

پاکستان سعودی عرب کی آرامکو سے تیل اور قطر سے گیس خریدتا ہے اور اپنی تیل اور گیس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زیادہ تر ان ہی دو ممالک پر انحصار کرتا ہے۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر ایران جنگ طول پکڑتی ہے اور آبنائے ہرمز سے ہونے والی تجارت بدستور مشکلات کا شکار رہتی ہے تو اس صورت میں خطے کے دیگر ممالک سمیت پاکستان کے لیے ایندھن کی سپلائی کتنا بڑا مسئلہ بن سکتی ہے؟

ساتھ ہی مشرق وسطی میں جاری لڑائی کا براہ راست اثر دنیا میں خام تیل کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے جو 80 امریکی ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ اگر جنگ جاری رہتی ہے تو خطرہ یہ ہے کہ یہ قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔

پاکستان میں ان بڑھتی ہوئی قیمتوں کا عام عوام پر کتنا بوجھ پڑ سکتا ہے؟

Getty Imagesپاکستان میں ایندھن کے ذخائر کی حالیہ صورتحال کیا ہے؟

پاکستان کی آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یعنی اوگرا کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کو آنے والے دنوں میں کسی قسم کی تیل اور گیس کی قلت کا سامنا نہیں ہے۔

ایک بیان میں انھوں نے بتایا کہ ’پاکستان میں ایندھن کے ذخائر مضبوط ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی 28 دن کی سپلائی سٹاک میں موجود ہے۔ یہ سپلائی ریزرو یا اضافی سپلائی کی لازمی سطح سے زیادہ ہے۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ عام طور پر اضافی سپلائی کی سطح 21 دن کی ہوتی ہے مگر پاکستان میں 28 روز کا سٹاک موجود ہے۔ ’اس لیے عوام کو گھبرانے یا پینِک کرنے کی ضرورت بالکل نہیں ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے پاس گیس یعنی لیکیویفائیڈ پٹرولیم گیس کے بھی وافر ذخائر موجود ہیں۔ ’گیس ہمارے پاس مقامی طور پر بھی موجود ہے اور اس کے بھی ہمارے پاس 12 روز کے اضافی ذخائر موجود ہیں۔‘

پاکستان میں توانائی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ایل این جی جو پاکستان قطر سے حاصل کرتا ہے وہ آبی راستوں کی بندش کی وجہ سے متاثر ہو سکتی تھی، تاہم پاکستان میں اس وقت ایل این جی کی مانگ میں بہت کمی آ چکی ہے۔

’ہم پہلے ہی قطر کو یہ درخواست کر رہے ہیں کہ ایل این جی کے ٹینکرز اب موڑ دیے جائیں یا واپس کر دیے جائیں کیونکہ ہمیں اس وقت اس کی ضرورت نہیں پڑ رہی۔ اب وہ ویسے ہی نہیں آ رہی تو اس کے نہ آنے سے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔‘

یوں اگر مشرق وسطیٰ کی جنگ طول پکڑتی ہے تو پاکستان کے لیے زیادہ بڑا مسئلہ پٹرول اور ڈیزل وغیرہ کی رسد کو یقینی بنانا ہو گا۔

’پاکستان کی تیل کی زیادہ تر سپلائی ہرمز ہی کے راستے آتی ہے‘

فرحان محمود ایک نجی بروکریج فرم شرمین سکیورٹیز میں توانائی کے شعبے کے تجزیہ کار ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں ایندھن کے حالیہ ذخائر واقعتاً وافر مقدار میں موجود ہیں۔

تاہم ان کے خیال میں اگر جنگ طول پکڑتی ہے اور آبنائے ہرمز سے تجارت بند رہتی ہے تو اپریل کے مہینے سے پاکستان کے لیے توانائی کی سپلائی کے مسائل آ سکتے ہیں۔

اس کی وجہ، فرحان محمود کہتے ہیں، یہ ہے کہ پاکستان کا زیادہ تر تیل اور گیس سعودی عرب اور قطر سے آتا ہے اور اس کا زیادہ تر حصہ آبنائے ہرمز کے راستے ہی گزر کر آتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا 70 فیصد سے زیادہ خام تیل اور باقی پیٹرولیم مصنوعات سعودی عرب سے آتی ہیں، جبکہ کچھ حصہ کویت اور ابو ظہبی سے بھی آتا ہے۔

’تمام سُرخ لکیریں عبور ہو چکیں‘: کیا خلیجی ریاستوں کا ایران کے خلاف جنگ میں شمولیت کا امکان بڑھ رہا ہے؟ایران کے اتحادی روس اور چین اس کی مدد کیوں نہیں کر پا رہے؟

فرحان محمود کا کہنا مشرق وشطی میں حالیہ صورتحال کے پیش نظر وہاں کی کمپنیاں فی الحال نئے آرڈرز نہیں لے رہی ہیں۔

فرحان سمجھتے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے کے لیے تجارت کے لیے بند رہتی ہے تو لگ بھگ ایک ماہ بعد پاکستان کی خاص طور پر تیل کی رسد متاثر ہونے کے خطرات موجود ہیں۔

پاکستان کے پاس متبادل کیا راستے موجود ہیں؟Getty Images

فرحان محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان اپنی پٹرولیم مصنوعات کا کچھ حصہ حال ہی میں سنگاپور، نائیجیریا اور امریکہ سے بھی منگواتا رہا ہے۔

تاہم اس میں مسئلہ یہ ہے کہ ان متبادل ذرائع سے خام تیل منگوانے سے پاکستان اپنی ضرورت کا محض 20 سے 25 فیصد پورا کر پائے گا ’کیونکہ اس سے زیادہ پاکستان میں موجود ریفائنریز کے پاس صلاحیت نہیں ہے۔‘

فرحان محمود کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ پاکستان امریکہ سے پیٹرولیم پراڈکٹس درآمد کر سکتا ہے تاہم وہ اسے مہنگی پڑیں گی۔ ’اس پر سات سے آٹھ ڈالر تک پریمیئم ادا کرنے پڑے گا اس لیے وہ پاکستان کو مہنگا پڑے گا اور اس کا اثر پاکستان میں صارفین پر پڑے گا۔‘

کیا سعودی عرب سے تیل منگوانے کا متبادل راستہ میسر ہے؟

آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی تجارت بند ہونے کی صورت میں سعودی عرب نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کے راستے ایک 1200 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھا رکھی ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز کو بائی پاس کر کے 50 لاکھ یومیہ تیل کی ترسیل کر سکتا ہے۔

فرحان محمود کہتے ہیں کہ ’یہ راستہ بھی زیاددہ محفوظ نہیں ہے کیونکہ باب المندب کے گرد بھی کشیدگی موجود ہے اور حوثی جنگجوؤں کے حملوں کا خطرہ رہتا ہے۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس متبادل راستے سے تیل کی ترسیل ممکن ہو سکتی ہے تاہم اس میں سپلائی میں یومیہ آٹھ سے دس ملین بیرل کی کمی آئے گی۔

ماضی میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے ساتھ منسلک رہنے والی انرجی ایکسپرٹ عافیہ ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب اس پائپ لائن کے ذریعے ان ممالک کو تیل سپلائی کرتا ہے جن کے ساتھ اس کے خریداری کے باقاعدہ معاہدے ہیں۔

’پاکستان اس راستے سے سعودی عرب سے تیل حاصل کرنے کا انتظام کر سکتا ہے اور اس سے اس کی کچھ حد تک ضروریات پوری ہوں گی۔ ورنہ پھر پاکستان کو اپنے درآمدات کے ذرائع کا دائرہ کار وسیع کرنا پڑے گا۔‘

کیا تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے پاکستان میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے؟Getty Images

عافیہ ملک نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کی صورتحال کی وجہ پہلے ہی سے تیل کی قیمیتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور اگر جنگ طوالت اختیار کرتی ہے تو یہ قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان کی تیل کی ضروریات زیادہ تر درآمدات پر منحصر ہیں۔

’پاکستان کی توانائی کی مصنوعات کی زیادہ تر درآمدت مشرق وسطی ہی سے ہوتی ہیں۔ جب آئل کی قیمتیں بڑھیں گی تو اس کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑے گا اور مقامی طور پر قیمتیں بڑھ جائیں گی۔‘

عافیہ ملک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس تیل کی زیادہ کھپت یعنی 80 فیصد سے زیادہ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ہوتی ہے۔

اس طرح قیمتیں بڑھنے کا براہ راست اثر پاکستان میں فوڈ سپلائی چین، پروڈکشن چین یعنی صنعتی سرگرمی اور نقل و حمل کے سیکٹرز پر پڑے گا۔

عافیہ ملک کے مطابق ’اس کے نتیجے میں پاکستان میں مہنگائی بڑھے گی۔ پہلے ہی رواں برس فروری سے مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتیوں میں اضافے سے اشیا کی قیمیتیں مزید اوپر جانا شروع ہو جائیں گی۔

حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے؟

موجودہ صورتحال کے پیش نظر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کی ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی ترتیب دی ہے جس کی صدارت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کریں گے۔

یہ کمیٹی توانائی کی مارکیٹ پر نظر رکھے گی اور روزانہ کی بنیاد پر تیل و گیس کے دستیاب سٹاک کا جائزہ لے گی تاکہ اس کی مسلسل سپلائی کو یقینی بنایا جائے۔

پیر کے روز ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں وزیر خزانہ کو ملک کی حالیہ ایندھن کی سپلائی کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔

کمیٹی نے اس بات کو نوٹ کیا کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے بند ہونے اور آبنائے باب المندب کے گرد کشیدگی ہونے کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی مسائل کا شکار ہے۔

’اور اگر یہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو اس کے پاکستان کی توانائی کی رسد کے نظام پر اثرات پڑ سکتے ہیں۔‘

یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس کمیٹی کی میٹنگ روزانہ کی بنیاد پر کی جائے گی تاکہ عالمی منڈی میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں اور مقامی ذخائر کی صورتحال کی حقیقی نگرانی ممکن ہو پائے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ’ملک بھر میں توانائی کی مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی حکومت کی اولین ترجیح اور بنیادی مقصد ہے اور یہی ہر قسم کی فیصلہ سازی کا محور ہو گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ اعلیٰ سطح کی کمیٹی عالمی منڈی میں رد و بدل کی وجہ سے قیمتوں پر پڑنے والے اثرات کو پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کے ذریعے منظم طور پر حل کرے گی تاکہ کسی قسم کی اچانک تبدیلیوں سے بچا جا سکے۔

ایران امریکہ کشیدگی اور تیل: اگر آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو کیا ہو گا؟چیف آف سٹاف کے ہاتھ پر بندھی ڈیوائس اور حملوں کی نگرانی کرتے ٹرمپ: انتہائی حساس ’وار روم‘ کی کہانی بیان کرتی چار تصاویرٹرمپ کا جُوا، نیتن یاہو کی کرسی یا ایران کی بقا میں فتح: تیزی سے پھیلتی جنگ میں جیت کا معیار کیا ہو گا؟’تمام سُرخ لکیریں عبور ہو چکیں‘: کیا خلیجی ریاستوں کا ایران کے خلاف جنگ میں شمولیت کا امکان بڑھ رہا ہے؟ایران کے اتحادی روس اور چین اس کی مدد کیوں نہیں کر پا رہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More