انڈیا کے زیرانتظام جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ پر بدھ کی شام ایک شادی کی تقریب کے دوران مبینہ طور پر قاتلانہ حملہ کیا گیا جہاں نائب وزیر اعلی سریندر چودھری بھی ان کے ساتھ تھے اور وہ دونوں اس حملے میں بال بال بچ گئے۔
اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جسے فاروق عبداللہ کے بیٹے اور موجودہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی شیئر کیا ہے۔ ویڈیو میں ایک شخص پستول تھامے فاروق عبداللہ کے قریب آتا دکھائی دے رہا ہے۔
اس کے فوراً بعد فاروق عبداللہ کے سکیورٹی اہلکار اور وہاں موجود لوگ حملہ آور کو قابو کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے جموں و کشمیر پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’فاروق عبداللہ کو قتل کرنے کی کوشش پولیس نے ناکام بنا دی ہے۔‘
فاروق عبداللہ کے بیٹے اور جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’اللہ کا شکر ہے کہ میرے والد بال بال بچ گئے۔‘
پولیس نے کیا کہا؟
عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ’خدا کا کرم ہے۔ میرے والد بال بال بچ گئے۔ واقعے کی مکمل تفصیلات فی الحال واضح نہیں ہیں، لیکن معلوم ہوا ہے کہ ایک پستول کے ساتھ ایک شخص بہت قریب آیا اور فائرنگ کر دی۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’صرف قریبی سیکیورٹی ٹیم کی وجہ سے قاتلانہ حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔ فی الحال جوابات سے زیادہ سوالات ہیں، سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اسلحہ کے ساتھ کوئی شخص سابق وزیر اعلیٰ جس کے پاس زیڈ پلس اور این ایس جی سیکیورٹی ہے، کے اتنے قریب کیسے پہنچ گیا؟‘
پولیس نے بتایا کہ فاروق عبداللہ جموں کے گریٹر کیلاش علاقے کے رائل پارک میں ایک شادی میں شریک تھے جب یہ حملہ ہوا۔
پولیس نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ حفاظت کے لیے تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا اور ملزم کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا۔
فاروق عبداللہ کے بیان پر تنازع: ’پاکستان سے بات چیت نہیں کی گئی تو کشمیر کا حشر غزہ جیسا ہوگا‘کیا کشمیر کے نئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ’کیجریوال دوم‘ ثابت ہوں گے؟سرینگر پر قبضے کے لیے کشمیر پہنچنے والے پاکستان کے قبائلی جنگجوؤں کو خالی ہاتھ واپس کیوں لوٹنا پڑا؟’کشمیری دِلی سے بہت دور ہو گئے ہیں‘: خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں کشیدگی کا ایک ہفتہ کیا ظاہر کرتا ہے؟
پولیس نے بتایا ہے کہ ملزم جموں کا رہنے والا ہے۔ تاہم اس نے فاروق عبداللہ کو قتل کرنے کی کوشش کیوں کی، اس بارے میں اب تک کچھ نہیں بتایا گیا۔
عینی شاہدین نے کیا کہا
سریندر چودھری نے کہا کہ وہ فاروق عبداللہ کے ساتھ تھے تاہم کوئی زخمی نہیں ہوا۔
انھوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پولیس سے پوچھیں کہ اتنی بڑی لاپرواہی کیسے ہوئی؟ وہاں کوئی مقامی پولس کا نمائندہ یا اہلکار موجود نہیں تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جب ایک شخص جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ اور ریاستی مشیر کی شرکت میں ایک تقریب میں بندوق اٹھائے ہوئے ہوتا ہے، تو آپ وہاں کی سیکورٹی کی سطح کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔‘
جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے اعزاز احمد جان نے کہا کہ ’فاروق عبداللہ پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ ایک تقریب میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔‘
انھوں نے کہا ’وہ (فاروق عبداللہ) ایک تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے، ہم سب ان کے ساتھ تھے۔ جب ہم فنکشن سے نکل رہے تھے تو پیچھے سے ایک شخص بہت تیزی سے آیا اور اس نے ڈاکٹر صاحب (فاروق عبداللہ کی) کو پیچھے سے ریوالور سے گولی مارنے کی کوشش کی۔‘
’ڈاکٹر صاحب کے ساتھ موجود سیکورٹی گارڈز نے فوراً اسے پکڑا اور نیچے گرایا۔ بڑی مشکل سے اس کے ہاتھ سے پستول چھیننے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد ہم وہاں سے چلے گئے اور گھر واپس آگئے۔‘
’یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک بندوق شادی کی تقریب کے اندر پہنچ گئی، لیکن شکر ہے سب محفوظ ہیں۔ فاروق عبداللہ بالکل ٹھیک ہیں۔ وہ آرام کرنے اپنے کمرے میں چلے گئے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’حملہ آور اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔ صرف پولیس ہی اس کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتی ہے۔ اس کے بال قدرے سفید تھے۔ اس کے بارے میں ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہے۔‘
سرینگر پر قبضے کے لیے کشمیر پہنچنے والے پاکستان کے قبائلی جنگجوؤں کو خالی ہاتھ واپس کیوں لوٹنا پڑا؟فاروق عبداللہ کے بیان پر تنازع: ’پاکستان سے بات چیت نہیں کی گئی تو کشمیر کا حشر غزہ جیسا ہوگا‘’کشمیری دِلی سے بہت دور ہو گئے ہیں‘: خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں کشیدگی کا ایک ہفتہ کیا ظاہر کرتا ہے؟’چھوٹا پختونخوا‘: انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے اُس گاؤں کا سفر جہاں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے پختون آباد ہیںانڈین وزیرِ داخلہ کی بیٹی کا اغوا: انڈیا کو ہلا دینے والی واردات کے ملزم کی 36 سال بعد گرفتاری اور رہائیمہاراجہ پر کیا دباؤ تھا؟ کشمیر کے انڈیا سے الحاق کے آخری دنوں کی کہانی