BBC and Getty Images
قدرتی وسائل کی کمی کے پس منظر میں ہونے والی جنگیں اکثر ڈسٹوپین ناولوں اور فلموں میں دکھائی جاتی ہیں، مگر بعض ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال اب حقیقت سے زیادہ دور نہیں رہی۔۔۔ خاص طور پر اب جبکہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔
عام طور پر اس جنگ کو تیل کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے کیونکہ تیل طویل عرصے سے خطے میں مغربی مداخلت سے جڑا ایک اہم وسیلہ رہا ہے۔ لیکن جیسے جیسے یہ تنازع پھیل رہا ہے اور خلیجی ممالک بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں، بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک اور اہم وسیلہ بھی خطرے میں آ سکتا ہے۔۔۔ اور وہ ہے پانی۔
خلیج فارس کے ممالک کے پاس دنیا کے قابلِ تجدید میٹھے پانی کے ذخائر کا صرف تقریباً دو فیصد حصہ ہے اور وہ بڑی حد تک سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے عمل (ڈی سیلینیشن) پر انحصار کرتے ہیں۔ خاص طور پر 1950 کی دہائی کے بعد تیل کی صنعت کی تیز رفتار ترقی نے خطے پر دباؤ بڑھایا اور اس کے محدود آبی وسائل کو مزید متاثر کیا۔
فرنچ نیشنل انسٹی ٹیوٹ کے مطابق کویت کے پانی کا 90 فیصد ڈی سیلینیشن سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ عمان میں یہ شرح 86 فیصد، سعودی عرب میں 70 فیصد اور متحدہ عرب امارات میں 42 فیصد ہے۔
ول لے کیسنی جو ماحولیاتی، ماہی گیری اور ایکواکلچر سائنس سینٹر سے وابستہ ہیں، نے بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام نیوز ڈے کو بتایا: ’2021 میں خلیج میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹس کی مجموعی پیداوار روزانہ دو کروڑ مکعب میٹر سے زیادہ تھی جو ہر روز تقریباً 8000 اولمپک سائز سوئمنگ پول بھرنے کے برابر ہے۔‘
Fadel Senna / AFP via Getty Imagesخلیج فارس میں میٹھے پانی کے ذخائر بہت کم ہیں، اسی لیے کسی بھی براہِ راست یا بالواسطہ حملے کا اثر بہت زیادہ ہوتا ہے۔
خلیج فارس میں زرعی پیداوار اور خوراک کی پیداوار بھی زیادہ تر سمندری پانی کو میٹھا کرنے (ڈی سیلینیشن) پر منحصر ہے، کیونکہ خطے میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر جو عام طور پر آبپاشی کے لیے استعمال ہوتے تھے، شدید طور پر کم ہو چکے ہیں۔
یہ انحصار پانی کے بنیادی ڈھانچے کو ایک سٹریٹجک کمزوری بنا دیتا ہے، جس سے ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔
مثال کے طور پر، ایران براہِ راست امریکہ یا اسرائیل سے لڑائی کرنے کے بجائے پانی کے پلانٹس یا دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ دباؤ پیدا ہو اور جنگ میں اثر و رسوخ بڑھ جائے۔ یہ براہِ راست مقابلہ نہیں بلکہ ایک طرح کا دائرہ بڑھا کر جنگ کی شدت میں اضافہ ہے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ تہران کی حکمتِ عملی ’افقی شدت‘ کے زمرے میں آتی ہے، یعنی وہ براہِ راست امریکہ یا اسرائیل سے لڑائی کرنے کے بجائے تنازعے کا دائرہ وسیع کر رہا ہے۔ پانی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بھی ایران کی اس حکمتِ عملی کا حصہ لگتا ہے، اگرچہ اسے ردِ عمل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
پروفیسر مارک اوون جونز، جو نورث ویسٹرن یونیورسٹی قطر سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں: ’اگر خلیجی حکومتیں سمجھیں کہ پانی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہو رہا ہے، تو وہ امریکہ پر زیادہ دباؤ ڈالنے کے لیے تیار ہوں گی تاکہ جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کی جا سکے۔‘
ایران کے حملوں کا مقصد ’خوف پیدا کرنا‘ ہے، تاکہ شہریوں کے فیصلے پر اثر پڑے کہ وہ خطے میں رہیں یا نقل مکانی کر جائیں۔
Fadel Senna / AFP via Getty Imagesمتحدہ عرب امارات کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے ایک الرٹ جو موبائل فون پر تب موصول ہوا جب 5 مارچ 2026 کو دبئی میں ایک میزائل کو روکا جا رہا تھا۔
بحرین نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ اس نے ایک سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹ (ڈیسالینیشن پلانٹ) کو براہِ راست نشانہ بنایا جس سے غیر فوجی بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور ایران کا کہنا ہے کہ قشم جزیرے پر پہلے ہونے والے امریکی حملے نے وہاں کے ایک آبی منصوبے کو نقصان پہنچایا تھا۔
ایران نے دبئی کے جبل علی بندرگاہ پر حملے کیے اور خیال ہے کہ یہ حملے دنیا کے سب سے بڑے پانی صاف کرنے والے پلانٹ کے قریب گرے۔ فجیرہ میں ایک بجلی اور پانی بنانے والے پلانٹ کے پاس آگ لگنے کی اطلاع ملی، لیکن حکام کہتے ہیں کہ وہ پلانٹ اب بھی چل رہا ہے۔
تہران کا ’زیرو ڈے‘: ایران کے دارالحکومت کے ایک کروڑ باشندوں کے لیے پانی کیسے ختم ہو رہا ہے’جنگ کہیں دور ہو رہی ہے اور چولہے ہمارے بند ہو جائیں گے‘: دلی سمیت انڈیا میں ریسٹورنٹس بند ہونے کے خدشات کیوں؟مشرق وسطیٰ میں ’جی پی ایس جیمنگ‘ کی جنگ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے؟ایرانی عوام کیا سوچ رہے ہیں: ’میں خوش ہوں نہ اداس۔۔۔بس تھک گئی ہوں‘
کویت کا دوحہ ویسٹ پلانٹ بھی متاثر ہوا ہے، لیکن براہِ راست نہیں بلکہ قریبی بندرگاہ پر حملوں یا ڈرون کے ٹکڑوں کے گرنے سے اسے نقصان پہنچا۔
پروفیسر کاوہ مدنی جو اقوامِ متحدہ یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ برائے پانی، ماحول اور صحت سے منسلک ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران کے حالیہ اقدامات زیادہ تر ایک ’پیغام رسانی کی حکمتِ عملی‘ ہیں۔ ایران اپنے حملوں کو ’جائز ردِعمل‘ قرار دیتا ہے، خاص طور پر بحرین پر حملے کو امریکہ کے قشم جزیرے پر حملے کا بدلہ سمجھتا ہے۔
پانی کے اہم نظام پر حملے ایران کی صلاحیت اور اس کی تیاری کو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے جواب میں کہاں تک جا سکتا ہے۔ تاہم مدنی کے مطابق، ایران کی اصل طاقت اس دھمکی میں ہے کہ وہ خلیج کے قیمتی آبی وسائل جیسے ڈیسالینیشن پلانٹس پر مزید بڑے اور مخصوص حملے کر سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ لازمی نہیں کہ وہ ایران مستقبل میں واقعی ایسا کرے گا، مگر یہ امکان موجود ہے۔ ’پانی تاریخی طور پر ہمیشہ ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے تاکہ دباؤ ڈالا جا سکے۔‘
BBC
پروفیسر کاوہ مدنی کے مطابق، ایران نے خلیج کے ڈی سیلینیشن پلانٹس پر براہِ راست اور واضح حملوں سے گریز کیا ہے، جس کی ایک وجہ جنیوا کنونشن کا آرٹیکل 45 ہو سکتا ہے۔ اس قانون کے تحت شہری انفراسٹرکچر پر حملہ ممنوع ہے۔ ایران اپنے اقدامات کو جوابی کارروائی کے طور پر پیش کرتا ہے۔
مدنی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے خیالات کو یوں بیان کیا: ’قانون کہتا ہے کہ آپ شہری بنیادی ڈھانچے پر حملہ نہیں کر سکتے۔۔۔ لیکن (ایران) نے یہ شروع نہیں کیا۔‘
عراقچی نے قشم جزیرے پر ہونے والے حملے کو ’خطرناک اقدام جس کے سنگین نتائج ہوں۔۔۔ ایک واضح اور مایوس کن جرم‘ قرار دیا، جس نے کئی دیہاتوں میں پانی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
چاہے یہ حملے مسلسل ہوں یا وقتی، یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ کے اتحادی ممالک پانی کی سلامتی کے حوالے سے کتنے کمزور ہیں۔ ایران بھی پانی کے بحران کا شکار ہے، لیکن اس کا نظام نسبتاً متنوع ہے اور خلیجی ممالک کی طرح صرف ڈی سیلینیشن پر انحصار نہیں کرتا۔ پھر بھی، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ایران خلیج کے پانی کے نظام پر حملے کرے تو اس کے اپنے انفراسٹرکچر پر جوابی حملے ہو سکتے ہیں۔
ایران عرصے سے ’پانی کی شدید کمی‘ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ توانائی کے وزیر عباس علی آبادی کے مطابق کم بارش، ’دارالحکومت کے صدی پرانے پانی کے نظام سے پانی کا ضیاع اور گذشتہ سال اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ نے صورتحال کو مزید خراب کیا۔
ملک بھر کے ڈیم تشویشناک حالت میں ہیں، بڑے زیرِ زمین ذخائر حد سے زیادہ استعمال ہو چکے ہیں، دریائے زایندہ رود خشک ہو رہا ہے اور جھیل ارومیہ تیزی سے سکڑ گئی ہے۔
ماحولیاتی ماہرین، جیسے فریڈ پیرس کا کہنا ہے کہ دہائیوں تک ڈیموں کی تعمیر، پانی زیادہ استعمال کرنے والی زراعت اور بدانتظامی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ بعض علاقوں میں زیرِ زمین پانی نکالنے کی وجہ سے زمین بھی دھنس رہی ہے۔
حکام نے حتیٰ کہ یہ بھی خبردار کیا ہے کہ تہران کو مستقبل میں پانی کی ریشہ بندی یا جزوی نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Morteza Nikoubazl/NurPhoto via Getty Imagesایران عرصے سے ’پانی کی شدید کمی‘ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ توانائی کے وزیر عباس علی آبادی کے مطابق کم بارش، 'دارالحکومت کے صدی پرانے پانی کے نظام سے پانی کا ضیاع اور گذشتہ سال اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ نے صورتحال کو مزید خراب کیا۔
کچھ محققین کے مطابق یہ صورتحال ماحولیاتی اور قومی سلامتی دونوں کے لیے خطرہ ہے، جو ایران کے اندرونی استحکام اور اقتصادی لچک پر اثر ڈالتی ہے اور امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کئی ہفتوں تک جاری شدید تنازعے نے اسے اور بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔
جنگ سے پہلے بھی پانی کی کمی نے ایران میں عوامی بے چینی کو بڑھایا تھا، خاص طور پر خوزستان اور اصفہان میں احتجاج دیکھنے کو ملے، جو مہنگائی اور سیاسی مسائل کے ساتھ جڑ گئے۔
ایران کے پانی کے مسائل خطے کی کشیدگی سے بھی جڑے ہیں: افغانستان کے ساتھ ہلمند دریا پر تنازع، ترکی کے ساتھ دجلہ و فرات پر ڈیموں کے مسائل، اور عراق کے ساتھ مشترکہ آبی وسائل پر اختلافات۔
ماہرین کہتے ہیں کہ یہ جنگ ظاہر کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے پانی کے نظام کتنے نازک ہو چکے ہیں، اور یہ مستقبل میں جنگ کے رخ اور مدت کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ اب ماحولیاتی دباؤ تیل اور گیس کے ساتھ ساتھ کشیدگی بڑھانے والے عوامل میں شامل ہو گیا ہے۔
آنے والے وقت میں خطے کی جنگیں صرف پائپ لائنز اور ٹینکروں پر نہیں بلکہ دریاؤں، زیرِ زمین پانی اور ڈی سیلینیشن پلانٹس پر بھی لڑی جا سکتی ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ اس تنازع اور مستقبل میں ’پانی شاید تیل سے بھی زیادہ اہم ہتھیار‘ بن جائے۔
تہران کا ’زیرو ڈے‘: ایران کے دارالحکومت کے ایک کروڑ باشندوں کے لیے پانی کیسے ختم ہو رہا ہےصدام حسین اور خامنہ ای: کیا امریکہ نے ایران میں وہی غلطی دہرائی ہے؟شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی ولی عہد سے ملاقات اور ایران جنگ کے پس منظر میں پاکستان کے سٹریٹیجک خدشات’جنگ کہیں دور ہو رہی ہے اور چولہے ہمارے بند ہو جائیں گے‘: دلی سمیت انڈیا میں ریسٹورنٹس بند ہونے کے خدشات کیوں؟ایرانی عوام کیا سوچ رہے ہیں: ’میں خوش ہوں نہ اداس۔۔۔بس تھک گئی ہوں‘