Getty Imagesصحافیوں سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایران کو اُسی طرح سرپرائز کیا، جس طرح جاپان نے پرل ہاربر میں کیا تھا
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملے کا دوسری عالمی جنگ کے دوران ’پرل ہاربر‘ پر ہونے والے حملے سے موازنہ کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ہوا کچھ یوں کہ جمعرات کو اوول آفس میں جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کے دوران جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ ’آپ نے ایران پر اپنے حملے سے متعلق یورپ اور ایشیا میں اپنے اتحادیوں کو پہلے آگاہ کیوں نہیں کیا؟‘
اس پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے (ایران پر) پوری قوت سے حملہ کیا اور ہم اس بارے میں کسی کو نہیں بتانا چاہتے تھے، کیونکہ ہم سرپرائز دینا چاہتے تھے۔‘
اس کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو جاری رکھی اور ازراہ تفنن کہا کہ ’اور سرپرائز دینے کے بارے میں جاپان سے بہتر کون جانتا ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے بظاہر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے پرل ہاربر پر حملے سے پہلے کیوں نہیں بتایا؟ آپ تو ہم سے بھی زیادہ سرپرائز پر یقین رکھتے ہیں۔ لہذا ہم نے بھی ایران کو سرپرائز کیا۔‘
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ سات دسمبر 1941 کو جاپانی فضائیہ کے طیاروں کی جانب سے امریکہ کی ریاست ہوائی میں واقع امریکی بحری اڈے ’پرل ہاربر‘ پر ایک مہلک حملے کا حوالہ دے رہے تھے۔
پرل ہاربر پر جاپان کے حملے کو امریکہ کی تاریخ کے بدترین حملوں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران جنگ کے ’ابتدائی دو روز میں ہی ہم نے اپنے 50 فیصد اہداف حاصل کر لیے جو ہماری توقعات سے زیادہ تھے اور میں اگر اس کے بارے میں سب کو بتا دیتا تو یہ سرپرائز نہ رہتا۔‘
لیکن امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے دوران جاپانی وزیر اعظم کی موجودگی میں پرل ہاربر سے متعلق گفتگو پر امریکی صدر کو اُن کے ناقدین آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔
امریکی صدر پر کیا تنقید ہو رہی ہے، یہ آگے چل کر بتاتے ہیں۔ پہلے جان لیتے ہیں کہ سات دسمبر 1941 کی اُس صبح کیا ہوا تھا جب جاپانی طیاروں نے ’پرل ہاربر‘ پر حملہ کیا تھا۔
پرل ہاربر پر حملہ
سات دسمبر 1941 کو صبح سات بج پر 55 منٹ پر شروع ہونے والے اس حملے کے آغاز کے بعد صرف دو گھنٹوں میں امریکی بحری اڈے پرل ہاربر پر لنگر انداز پانچ امریکی جنگی بحری جہاز تباہ ہونے کے بعد ڈوب چکے تھے، 16 بحری جہازوں کو جزوی نقصان پہنچا اور آرمی اور نیوی کے زیر استعمال 188 طیارے تباہ ہوئے۔
اس مہلک جاپانی حملے میں صرف تین امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ہی بچ پائے کیونکہ عموماً تو وہ پرل ہاربر میں ہی موجود ہوتے تھے مگر اس روز وہ کھلے پانیوں میں تعینات تھے۔
ان تباہ کن جاپانی فضائیہ کے حملوں میں، جنھوں نے امریکہ کو دوسری عالمی جنگ میں حصہ لینے پر مجبور کیا، 2400 سے زائد امریکی فوجی ہلاک جبکہ 1178 زخمی ہوئے تھے۔ حملے کے جواب میں ہونے والی امریکی کارروائی میں جاپان کے سو سے بھی کم فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
یہ وہ دور تھا جب چشمالی چین میں واقع منچوریا نامی علاقے پر جاپان کے قبضے کے بعد اس کے امریکہ سے تعلقات خراب ہو گئے تھے۔
90 ارب ڈالر کی ضمانت، بدلا ہوا لہجہ اور ٹرمپ کی تعریفیں: وائٹ ہاؤس میں امریکی اور یوکرین کے صدر کی ملاقات میں کیا ہوازیلنسکی پر وائٹ ہاؤس میں سوٹ نہ پہننے پر تنقید: کیا ٹرمپ سے بحث کی ایک وجہ یہ تھی؟صدر ٹرمپ کو ’پاکیزگی اور ابدیت‘ کی علامت سمجھا جانے والا تمغہِ نیل کیوں دیا گیا؟’پیس میکر ان چیف‘ اور نوبل انعام: ٹرمپ کا پاکستان اور انڈیا سمیت سات ’جنگیں‘ ختم کروانے کا دعویٰ لیکن حقیقت کیا ہے؟’بات کرنے کا شاید یہ بہترین وقت نہیں تھا‘
سوشل میڈیا پر بعض صارفین صدر ٹرمپ پر تنقید کر رہے ہیں کہ جاپانی وزیر اعظم کی موجودگی میں اتنے برس پہلے پیش آنے والے واقعے کا حوالہ دینا غیر مناسب تھا۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’کچھ لطیفے تاریخ یا سفارتکاری میں کوئی اچھا تاثر نہیں دیتے اور پرل ہاربر یقینی طور پر اسی زمرے میں آتا ہے۔ اس طرح کے لمحات آپ کو یاد دلاتے ہیں کہ کبھی کوئی برجستہ جملہ بے ضرر نہیں ہوتا۔‘
’دی ریئل تھیلما جانسن‘ نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’جب آپ کو جاپان کی مدد کی ضرورت ہو تو شاید پرل ہاربر پر لطیفے بنانے کا یہ بہترین وقت نہیں تھا۔‘
شین شیونی نامی صارف نے لکھا کہ ’یاد رہے کہ موجودہ جاپانی وزیر اعظم پرل ہارپر پر حملے کے 20 برس بعد پیدا ہوئی تھیں۔‘
برانسلاو سلانچیف نے لکھا کہ ’شاید جاپانی وزیر اعظم کو اس پر یہ جواب دینا چاہیے تھا کہ ایٹم بم گرانے سے متعلق امریکہ سے بہتر کون جانتا ہے۔ آپ مجھے ہیروشیما اور ناگاساکی کے بارے میں کیوں نہیں بتاتے۔ لیکن وہ ایک سمجھدار خاتون ہیں، جو سفارتکاری کو سمجھتی ہیں۔‘
تجزیہ کار ڈیرک جے گروس مین نے لکھا کہ ٹرمپ، امریکہ اور جاپان کے اتحاد کو تباہ کر رہے ہیں۔ جاپانی وزیر اعظم کے چہرے کے تاثرات دیکھیں، اس کا دیرپا نقصان ہو گا۔
جان کوپر نے لکھا کہ ’میں یقین نہیں کر سکتا کہ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں جاپان کے وزیر اعظم کے ساتھ بیٹھتے ہوئے پرل ہاربر کا مذاق اڑایا۔‘
ایک جانب جہاں صدر ٹرمپ کو اس جواب پر تنقید کا سامنا ہے تو دوسری جانب اُن کے صاجبزادے ایرک ٹرمپ والد کے دفاع میں سامنے آئے ہیں۔
ایکس پر اپنے بیان میں ایرک ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ’تاریخ میں ایک رپورٹر کو دیے گئے زبردست جوابات میں سے ایک جواب تھا۔‘
اوول آفس میں ٹرمپ کی غیر ملکی سربراہوں سے نوک جھونک
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب اوول آفس میں کسی ملک کے صدر یا وزیر اعظم کے دورے کے دوران صدر ٹرمپ نے کوئی متنازع بیان دیا ہو۔
گذشتہ برس کے آغاز میں یوکرین کے صدر زیلنسکی کی اوول آفس آمد کے دوران ہونے والی گفتگو تند و تیز جملوں کے تبادلوں میں تبدیل ہو گئی تھی۔
جب زیلنسکی نے یوکرین جنگ سے متعلق امریکی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا تو صدر ٹرمپ نے زیلنسکی کو جھاڑ پلاتے ہوئے کہا تھا کہ ’آپ تیسری عالمی جنگ چاہتے ہیں اور آپ کے پاس کوئی کارڈز باقی نہیں بچے۔‘
اس سے قبل سنہ 2019 میں فرانسیسی صدر کی اوول آفس آمد کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ شام اور مشرق وسطی کے دیگر ممالک سے داعش کے جنگجوؤں کا صفایا کر دیا گیا ہے۔
اُنھوں نے طنزیہ انداز میں میکخواں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’کیا آپ کو بھی کچھ داعش کے جنگجو چاہییں؟‘ اس پر میکخوان نے کہا تھا کہ ’چلیں اب کوئی سنجیدہ بات کرتے ہیں۔‘
سنہ 2017 میں جرمن چانسلر اینگلا مرکل کے اوول آفس میں فوٹو سیشن کے دوران بھی عجیب صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ مرکل بار بار ٹرمپ سے ہاتھ ملانا چاہ رہی تھیں، شاید ٹرمپ نے سنا نہیں تھا یا وہ نظرانداز کرتے رہے، تاہم یہ معاملہ میڈیا میں موضوع بحث بن گیا تھا۔
وہ مہلک حملہ جس نے امریکہ کو دوسری عالمی جنگ کا حصہ بنایا’ڈیئر پوتن، ہٹلر اور سٹالن نے دوسری جنگ عظیم کا آغاز کیا‘ہیروشیما پر گرنے والا ایٹم بم لےجانے والا بحری جہاز مل گیاوہ سربراہی کانفرنس جس نے دنیا کی شکل بدل ڈالی