یہ ایسے سفر کی کہانی ہے جس میں اگرچہ کرکٹ کی پِچ پر انڈیا کی جانب سے انھیں بھلے ہی گیند گھمانے کے موقع نہ ملا ہو لیکن ’فلمی سپن‘ کے ساتھ حقیقی واقعات پر مبنی ان کی کہانیوں نے تاریخ رقم کر دی ہے۔
یہاں ہم انڈین فلم ساز اور ہدایتکار آدتیہ دھر کے بارے میں بات کر رہے ہیں جن کی فلم ’دھورندھر: دی ریوینج‘ باکس آفس پر نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔
میں نے یہ ہندی فلم لندن کے ایک سینیما ہال میں دیکھی، جو ہاؤس فل تھا۔ ہندی فلموں کے لیے اس طرح کا جنون یا ہاؤس فل کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ لیکن کچھ ایسا تھا جو غیر معمولی تھا اور وہ یہ تھا کہ جب فلم کے کریڈٹ رول کے دوران مصنف اور ہدایت کار آدتیہ دھر کا نام سکرین پر آیا تو پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
یہ لمحہ اس لیے بھی خاص تھا کیونکہ انڈین کمرشل سینیما میں عموماً تالیاں صرف سٹارز کے لیے بجائی جاتی ہیں، ہدایت کاروں یا مصنفین کے لیے ایسا شاذو نادر ہی دیکھا گیا ہے۔
اس تبدیلی کے مرکز میں آدتیہ دھر ہیں، وہ شخص جنھوں نے دھورندھر کی دنیا کو سکرین پر زندہ کیا۔
دھورندھر کی کہانی تو آپ جانتےہی ہیں لیکن اس کے خالق آدتیہ دھر کی کہانی بھی شاید آپ کے لیے دلچسپی سے خالی نہ ہو!
یہ ایک ایسے لڑکے کی کہانی ہے جس کا خواب کرکٹ کی پچ پر بلے بازوں کو اپنی سپن سے دھوکہ دینا تھا۔
1983 میں دہلی میں ایک کشمیری پنڈت خاندان میں پیدا ہونے والے آدتیہ دھر کی والدہ دہلی یونیورسٹی میں کام کرتی تھیں۔ آدتیہ نے اس شہر میں تعلیم حاصل کی اور کرکٹ کا شوق پیدا ہوا۔ بحیثیت سپنر ان کا خواب انڈین کرکٹ ٹیم کی جرسی پہننا تھا۔ وہ اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے برسوں پالتے رہے۔ لیکن جب وہ انڈر 19 ورلڈ کپ سکواڈ میں جگہ بنانے میں ناکام رہے تو انھیں کرکٹ کے اس خواب کو الوداع کہنا پڑا۔
ان کے چیلنجز میدان تک محدود نہیں تھے۔ وہ ڈسلیکسیا (پڑھنے لکھنے میں دشواری) کی وجہ سے پڑھائی ان کے لیے ہمیشہ انتہائی مشکل رہی۔
ان کے لیے تو 150 صفحات پر مشتمل سکرپٹ کو پڑھنا ہی مشکل تھا، اسے لکھنے کی ہمت تو دور کی بات ہے۔ لیکن پردے پر کہانی بنانے کے خواب کے ساتھ، آدتیہ دھر ٹھیک 20 سال پہلے 2006 میں ممبئی پہنچے۔ پہلے 10-12 سال جدوجہد اور اور گمنامی میں گزرے۔
بطور نغمہ نگار پہلی کامیابی
آدتیہ دھر کا پہلا کام بطور نغمہ نگار سامنے آیا۔ بالی وڈ کے معروف یش راج فلمز کے بینر کی فلم 'کابل ایکسپریس' کے لیے لکھا گیا ان کا گیت ’کابل فضا‘ بہت کامیاب رہا۔
اسی دور میں آدتیہ نے مختصر فلم ’بوند‘ کی سکرپٹ اور مکالمے لکھے، جسے نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ آدتیہ نے کئی سکرپٹس اور کہانی کے آئیڈیاز پر کام کیا جن پر کامیاب فلمیں بنی، لیکن انھیں کبھی کریڈٹ نہیں ملا۔ ان تجربات نے انھیں شدید مایوس کیا۔
2010 میں، آدتیہ نے پریہ درشن کے ساتھ بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کام کرنا شروع کیا، کمرشیل فلم سازی اور سکرین پلے لکھنے کی باریکیاں سیکھیں۔ انھوں نے اداکار اجے دیوگن اور اکشے کھنہ کی فلم 'آکروش' (2010) کے مکالمے بھی لکھے، جس کی ہدایت کاری پریا درشن نے کی۔ اس فلم کے لیے انھیں کریڈٹ ضرور ملا۔
پریہ درشن کہتے ہیں: ’آدتیہ کو زبان پر عبور حاصل ہے اور یہی ان کی سب سے بڑی طاقت تھی۔‘
پریہ درشن کے ساتھ تقریباً تین سال تک کام کرنے کے بعد آدتیہ خود ایک فلم کی ہدایتکاری کے خواہاں تھے۔ برسوں کی جدوجہد کے نتیجے میں کئی پراجیکٹس شروع ہوئے، لیکن کوئی فلم نہیں بنی۔ پھر سنہ 2016 میں، اچھی خبر آئی۔ آدتیہ کو کرن جوہر کی دھرما پروڈکشن کے لیے ایک فلم کی ہدایت کا موقع فراہم کیا گیا۔ فلم کا نام 'رات باقی' تھا۔ اس میں کترینہ کیف اور پاکستانی اداکار فواد خان نے کام کیا تھا۔ شوٹنگ کا منصوبہ بنایا گیا اور آدتیہ اس کی تیاری میں مصروف ہو گئے لیکن پھر قسمت نے کروٹ لی۔
18 ستمبر 2016 کو جموں و کشمیر کے اڑی میں ایک دہشت گردانہ حملہ ہوا جس میں 17 انڈین فوجی مارے گئے۔ سیاسی ماحول کشیدہ ہو گيا اور اس کا اثر بالی وڈ میں بھی محسوس ہوا۔ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستانی اداکاروں کو انڈین فلموں کے لیے سائن نہیں کیا جائے گا۔
فواد خان کو آدتیہ دھر اور کرن جوہر کی فلم 'رات باقی' سے ہٹا دیا گیا۔ اطلاعات تھیں کہ انھیں کسی دوسرے اداکار اسے تبدیل کر دیا جائے گا۔ لیکن پھر چند ماہ بعد فلم کو بالآخر شیلف کر دیا گیا تھا.
آدتیہ کی برسوں کی محنت ادھوری رہ گئی۔
فلم کا شیلف ہونا دھر کے لیے اگلی کہانی کی تحریک بنا
لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وہی اڑی حملہ جس نے ان کی پہلی فلم کو روک دیا تھا اسی سے منسلک انڈیا کی جانب سے سرجیکل سٹرائیک نے آدتیہ دھر کو ایک نئی کہانی بنانے کی تحریک دی۔
آدتیہ دھر نے ایک انٹرویو میں کہا: 'بقیہ فلم کے شیلف ہونے کے بعد، اڑی حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی سرجیکل سٹرائیک نے میرے اندر ایک نئی کہانی کو جنم دیا، میں نے محسوس کیا کہ اس پر فلم بنانا ضروری ہے۔ میں نے تحقیق شروع کی، صحافیوں، فوجی افسران اور دفاعی ماہرین سے ملاقات کی۔ مجھے ناکامی کا خوف تھا، لیکن ہم نے ثابت قدمی کے جذبے سے کام لیا۔'
تقریباً چھ ماہ کی تیاری کے بعد، آدتیہ دھر نے صرف 12 دنوں میں 'اوڑی: دی سرجیکل سٹرائیک' کا پورا اسکرپٹ لکھ دیا۔
2019 میں ریلیز ہونے والی یہ فلم سال کی سرپرائز بلاک بسٹر بن گئی، اور آدتیہ نامور ہدایت کاروں کی صف میں شامل ہو گئے۔ فلم کا ڈائیلاگ 'کیسا ہے جوش؟' نہ صرف فلم ناظرین بلکہ انتخابی جلسوں میں بھی گونجتا رہا۔
فلم کی ہدایتکاری کو سراہا گیا لیکن کچھ ناقدین نے اسے حکومت نواز پروپیگنڈہ بھی قرار دیا۔ اس فلم نے بہترین ہدایت کار سمیت چار قومی ایوارڈز جیتے ہیں۔
فلموں کے تجزیہ کار ترن آدرش کہتے ہیں: 'آدتیہ دھر نے حقیقی زندگی سے متاثر ہوکر ایک مکمل تفریحی فلم بنانے کے درمیان ایک شاندار توازن قائم کیا ہے۔ اس توازن کو حاصل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے، کیونکہ مین سٹریم سینیما میں، اگر سب کچھ حقیقت پسندانہ یا تاریک ہو تو باکس آفس پر کامیابی حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔
'اگر آپ اُڑی اور خاص طور پر دھورندر 1 اور 2 کی کارکردگی کو دیکھیں تو وہ نہ صرف انڈیا بلکہ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں بھی سامعین سے جڑ رہے ہیں اور باکس آفس پر تاریخ رقم کر رہے ہیں۔'
اس فلم کے ساتھ، آدتیہ دھر نے اپنے منفرد انداز کے سینیما بنانے کا ایک کامیاب فارمولا بھی حاصل کیا: پولیٹیکل تھرل فلمیں جو حقیقی واقعات سے متاثر ہیں۔
اس کے ساتھ انھوں نے اپنی پروڈکشن کمپنی بی-62 سٹوڈیوز بھی قائم کی۔
مصنف کے طور پر ان کی اگلی دو فلمیں 'آرٹیکل 370' اور 'بارہمولہ' بھی انڈیا میں حقیقی زندگی کے دو اہم واقعات کی عکاس ہیں۔ دونوں فلموں کو پروپیگنڈے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن جذباتی پہلو اور فلم سازی کے ہنر کو شائقین نے خوب سراہا تھا۔
لیکن آدتیہ دھر نے اپنی ہدایتکاری میں واپسی کے لیے جس موضوع کا انتخاب کیا وہ انتہائی سنسنی خیز تھا جس میں گینگ وار، سیاست، پاکستان میں دہشت گردی، اور اس کے درمیان ایک انڈین جاسوس تھا۔
انھوں نے رنویر سنگھ کو 'دھورندھر' میں مرکزی اداکار کے طور پر سائن کیا، جو اس وقت اپنے کیرئیر میں بہت مشکل مرحلے سے گزر رہے تھے۔ ان کی '83'، 'جےیش بھائی زوردار' اور 'سرکس' جیسی فلمیں فلاپ رہی تھیں۔ فلم کے بجٹ اور بے شمار چیلنجز کے باوجود آدتیہ اور رنویر سنگھ نے جذبے کے ساتھ 'دھورندھر' بنانا جاری رکھا۔
'دھورندھر' کو ایک ہی فلم کے طور پر شوٹ کیا گیا تھا، لیکن تحقیق اور کہانی اتنی وسیع تھی کہ یہ دو فلموں کی طرح محسوس ہوئی۔ اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ دونوں حصے الگ الگ جاری کیے جائیں گے۔ اس میں بہت بڑا خطرہ تھا، لیکن آدتیہ دھر کا یقین رنگ لے آیا، اور کامیابی کی ایک نئی تاریخ لکھی گئی۔ دھورندھر 2 ہندی سینیما میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بننے کے راستے پر ہے۔
فلمی نقاد میانک شیکھر کہتے ہیں: 'ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آدتیہ دھر کو سرکاری اداروں تک رسائی حاصل ہے جو اکثر سیاست دانوں، بیوروکریٹس، تھنک ٹینکس، یا صحافیوں کے لیے بھی مکمل طور پر کھلی نہیں۔ وہیں سے وہ انڈیا کی بڑی خفیہ کارروائیوں کے پیچھے کی کہانیاں بنتے ہیں۔ اڑی ہو، آرٹیکل 370 ہو، یا اب دھورندھر کے دونوں حصے سب ایک جیسے ہیں۔
'لیکن فکشن کی اصل طاقت یہ ہے کہ اسے سب سے پہلے قابل اعتماد نظر آنا چاہیے۔ اور اس سلسلے میں دھر ایک مضبوط شروعات کرتے ہیں۔ کراچی کے لیاری جیسے انڈرورلڈ علاقوں سے لے کر داؤد ابراہیم، نواز شریف، اور 'مسٹر 10 پرسنٹ' جیسے حوالہ جات تک، پہچانے جانے والے نام اور مقامات کہانی کو حقیقت کے قریب لاتے ہیں۔ یہ جوڑ فلم اور فکشن کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔'
کیا آدتیہ دھر کی فلمیں ’پروپیگنڈا‘ ہیں؟
بڑی کامیابیوں کے باوجود دھورندھر 2 بھی ایک پروپیگنڈہ فلم ہونے کے الزامات میں گھری ہوئی ہے۔ ملک بھر کے فلمی نقاد، ثقافتی اور سیاسی مبصرین اس پر منقسم نظر آتے ہیں۔
کئی دہائیوں سے امریکی یا برطانوی جاسوس ’جیمز بانڈ‘ یا ’مشن: امپاسبل‘ جیسی فلموں کے ذریعے ایکشن سے بھرپور جاسوسی میں شامل رہے ہیں، لیکن انھوں نے دھورندھر جیسے مباحثے نہیں چھیڑے۔
درحقیقت، مرکزی دھارے کے جاسوسی فلمیں یا سپائی تھرلر ہمیشہ اس دور کے اہم مسائل جیسے کہ قوم پرستی، سلامتی اور سرحد پار کشیدگی کو حل کرتی نظر آتی ہیں۔
فلمیں محض تفریح نہیں ہوتیں بلکہ اپنے زمانے کی کہانی اور رائے عامہ کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔ لہذا، ’انڈین سامعین کیا چاہتے ہیں‘ بمقابلہ ’پروپیگنڈا‘ پر بحث جاری ہے۔ یہ بحثیں اہم ہیں؛ وہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس ملک کے لوگوں نے سوچنا، سوال کرنا اور اپنی رائے بنانا نہیں چھوڑا۔
فلمی نقاد میانک شیکھر کہتے ہیں: ’سچ پوچھیں تو، میں فلموں کے تناظر میں ’پروپیگنڈا‘ کو اپنے آپ میں منفی یا توہین آمیز اصطلاح نہیں سمجھتا، جب تک کہ یہ صریح طور پر ناگوار نہ ہو، جیسا کہ دی ’کیرالہ سٹوری‘ کے معاملے میں تھا۔
’یہ بھی دلچسپ ہے کہ فلم میں انڈیا کے اندر آئی ایس آئی کے وسیع اثر و رسوخ کو دکھایا گیا ہے۔ لیکن آخر کار، کہانی پوری طرح سے نفرت پر مبنی نہیں ہے۔ حمزہ اپنی ذاتی زندگی میں واضح طور پر کہتا ہے کہ اسے دہشت گردوں سے مسئلہ ہے، پاکستانیوں سے نہیں، اور شاید یہ لائن کہانی کو انسانی توازن فراہم کرتی ہے۔‘
آدتیہ دھر نے خود ایک پریس کانفرنس میں اس الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا: ’میں ان لوگوں کی پرواہ نہیں کرتا جو اسے پروپیگنڈا کہتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو مجھے ان کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ کیونکہ سچ یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ یہ (بیانیہ) کہاں سے آرہا ہے، اور انڈین ناظرین بہت ذہین ہیں۔ جب وہ کوئی فلم دیکھتے ہیں، تو وہ آسانی سے پہچان سکتے ہیں کہ کس فلم میں پروپیگنڈہ کیا گیا ہے اور کس فلم کی نیت درست ہے۔‘
'اور اپنی فلم کے ساتھ، جب تک میں پروڈیوسر یا ڈائریکٹر ہوں، نیتیں ہمیشہ درست رہیں گی۔ جس دن میری نیت خراب ہوئی، میں فلمیں بنانا چھوڑ دوں گا۔'
آدتیہ دھر نے ملک کے ماحول کے مطابق ایک کامیاب فارمولہ تیار کرتے ہوئے تکنیکی مہارت کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم، یہ بھی سچ ہے کہ 'دھورندھر' میں انھوں نے کئی مناظر میں حقائق کو تبدیل کیا اور سنیمیٹک لبرٹی کے نام پر ایک نئی حقیقت بننے کی کوشش کی۔
کامیابی اپنے ساتھ ذمہ داریاں بھی لاتی ہیں اور یہ ان کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ان کا کیمرہ حقیقت اور افسانے کے درمیان کی لائن کا احترام کرتا ہے، جو کہ اکثر فلمساز کو تاریخ سے متصادم رکھتا ہے۔
’اب پاکستان کا مستقبل ہندوستان طے کرے گا‘: دھورندھر 2 کا ٹریلر اور سنجے دت کی سوشل میڈیا پوسٹ پر تنقید’دھورندھر‘ اور چوہدری اسلم: انڈین فلم کا ٹریلر جس میں سنجے دت پاکستانی ’انکاؤنٹر سپیشلسٹ‘ کے روپ میں نظر آ رہے ہیں ’دھورندھر‘: عربی گانے پر جھومتے بلوچ مردوں میں ’رحمان ڈکیت‘ کی انٹری اور ’شیرِ بلوچستان‘ پر بحث32 ہزار لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کا دعویٰ کرنے والی فلم کو ’مسلم مخالف پروپیگنڈا‘ کیوں کہا جا رہا ہے؟کیرالہ سٹوری 2 کی نمائش کے دوران سنیما ہال میں حلف لینے کا تنازع: ’سبزی لیں یا بال کٹوائیں، سب ہندوؤں سے کروائیں‘سلمان خان کی نئی فلم ’بیٹل آف گلوان‘ پر چین میں تنقید: ’یہ بس فلموں میں ہی دشمن کو مارتے ہیں‘