Thierry Humeau’میرا خیال ہے کہ وہ (ایپسٹین) اس بات سے لطف اٹھاتا تھا کہ ہم خوف کے مارے ساکت ہو جاتے تھے اور سمجھ نہیں پاتے تھے کہ کیا کریں‘
جوانا ہیریسن کبھی بھی اس بدسلوکی کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی تھیں جو انھیں بدنام جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ہاتھوں برداشت کرنا پڑی۔
بہت سے دیگر متاثرین کی طرح وہ کہتی ہیں کہ ایپسٹین کے حملے نے انھیں شرمندگی اور ندامت میں مبتلا کر دیا تھا۔ لیکن جب امریکی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے لاکھوں دستاویزات میں ان کا نام غلطی سے منظرِعام پر آ گیا، تو انھیں لگا اب انھیں بولنا ہی پڑے گا۔
ہیریسن نے بی بی سی نیوز نائٹ کی وکٹوریہ ڈربی شائر کو بتایا کہ: ’ایک وقت ایسا آتا ہے جب آپ گھٹن محسوس کرنے لگتے ہیں اور آپ کو سانس لینے کی ضرورت ہوتی ہے اور میرے لیے یہ بولنا سانس لینے کی کوشش جیسا ہے۔‘
بی بی سی نیوز نائٹ نے پہلی بار ہیریسن اور ایپسٹین کے چار دیگر متاثرین کو ایک ہی کمرے میں اکٹھا کیا۔ کئی گھنٹوں پر مشتمل گفتگو کے دوران، ایک دوسرے کے لیے ہمدردانہ اشارے بھی دیکھنے میں آئے۔۔۔ اور جب وہ اپنی وہ تصاویر دیکھ رہے تھے جو اس وقت کی تھیں جب وہ پہلی بار ایپسٹین سے ملے تھے، تو کئی آنکھیں نم ہو گئیں۔
اس تفصیلی گفتگو میں متاثرین نے اپنے غم وغصے کی کہانیاں بیان کیں۔ کچھ نے ایپسٹین کے بدنام زمانہ نجی جزیرے ’لٹل سینٹ جیمز‘ پر گزرے لمحات یاد کیے، جبکہ دیگر نے اس کے نیو میکسیکو رینچ پر پیش آنے والے ’خوفناک‘ تجربات شیئر کیے۔
ان سب کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایپسٹین کے اردگرد موجود بااثر شخصیات کو غالباً علم تھا کہ پسِ پردہ کیا ہو رہا ہے۔
متاثرہ خاتون کی شناخت غیر ارادی طور پر منظرِ عام پر آگئی
امریکی محکمۂ انصاف نے ایپسٹین سے متعلق مختلف تحقیقات کی لاکھوں دستاویزات جاری کیں، لیکن کچھ مواد میں متاثرین کی شناخت چھپ نہ سکی۔
ہیریسن بھی ان افراد میں شامل تھیں جن کا نام غلطی سے ظاہر ہو گیا۔
انھوں نے بی بی سی نیوز نائٹ کو بتایا کہ وہ کبھی نہیں چاہتی تھیں کہ یہ فائلیں جاری ہوں، کیونکہ انھیں اپنی شناخت کے سامنے آنے کا خوف تھا۔
ہیریسن نے کہا: ’چھ سال تک روزانہ اپنے مجرم کا چہرہ ٹی وی پر دیکھنا معمول کی بات نہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ وہ فلوریڈا میں 18 سال کی عمر میں ایپسٹین سے ملیں اور دیگر متاثرین کی طرح ان کے ساتھ بھی سب کچھ ایک مساج سے شروع ہوا۔
ہیریسن کے مطابق: ’شروع میں سب کچھ معمول کے مطابق لگا۔ جب اس نے چھونا شروع کیا تو میں بالکل ساکت ہو گئی۔ گھر واپسی کے سفر میں شاید میں نے دو لفظ بھی نہیں بولے۔‘
بعد میں انھوں نے بتایا کہ ایپسٹین نے اپنی سالگرہ کے دن ان کا ریپ کیا۔
پہلی بار عوام کے سامنے آکر بات کرتے ہوئے ہیریسن نے کہا کہ ایپسٹین کی ہلاکت کے بعد انھیں شک ہے کہ وہ اور دیگر متاثرین کبھی انصاف حاصل کر پائیں گے۔
’میرے پاس ایسے سوالات ہیں جن کے جواب مجھے کبھی نہیں ملیں گے۔‘
پانچ دن میں پانچ ممالک: کلنٹن، سپیسی اور میکسویل کے ساتھ سفر
چاؤنٹے ڈیویس نے بی بی سی نیوز نائٹ کو وہ تصاویر دکھائیں جو پہلے کبھی منظرِ عام پر نہیں آئی تھیں۔ یہ تصاویر اس وقت کی ہیں جب وہ ایپسٹین کے نجی طیارے پر اس کے ساتھ افریقہ کے دورے پر گئی تھیں۔
ان تصاویر میں ایپسٹین کی ساتھی گسلین میکسویل کے علاوہ ہالی وڈ اداکار کیون سپیسی اور سابق امریکی صدر بل کلنٹن بھی موجود تھے۔ سپیسی اور کلنٹن اس دورے پر ایڈز سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی مہم کے لیے گئے تھے۔
’کپڑے اُتارنے کے دوران وہ مجھے گھور رہا تھا‘: جیفری ایپسٹین کا نیٹ ورک نوعمر لڑکیوں کو ماڈلنگ کی آڑ میں کیسے بھرتی کرتا تھا؟غلاف کعبہ: مذہب اسلام کے مقدس ترین مقام سے ’کسوہ‘ کے ٹکڑے جیفری ایپسٹین کو بھیجنے کا تنازعجنسی مجرم جیفری ایپسٹین گرفتاری سے قبل مراکش میں ’بن النخیل‘ نامی محل کیوں خریدنا چاہتے تھے؟رومانوی مشوروں سے مالیاتی مدد تک: امیر اور طاقتور لوگ سزا یافتہ مجرم ایپسٹین کو انکار کیوں نہیں کر پاتے تھے؟
ڈیویس نے بتایا کہ اُس وقت اپنے جرنل میں انھوں نے اس گروپ کو ’انتہائی مختلف اور عجیب و غریب لوگوں کا مجموعہ‘ قرار دیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ پانچ دن میں پانچ ممالک کا سفر ایک کیمپ جیسا تجربہ تھا۔۔۔ طیارے میں وہ لوگ سنیکس کھاتے، تاش کھیلتے اور ایک دوسرے کو کہانیاں سناتے تھے۔
ڈیویس نے کہا: ’یہ واقعی زندگی میں ایک بار ملنے والا موقع تھا، لیکن بدقسمتی سے اس کے پسِ پردہ جو کچھ ہو رہا تھا، اس نے سب کچھ داغدار کر دیا۔‘
ڈیویس پہلے بھی یہ کہہ چکی ہیں کہ ایپسٹین نے انھیں اپنے نجی جزیرے پر اُس وقت ریپ کیا جب انھیں مساج دینے کے لیے رکھا گیا تھا۔
نیوز نائٹ کی گفتگو کے دوران انھوں نے یاد کیا کہ ایک بار پرتگال کے ایک ایئرپورٹ پر، جب طیارہ ایندھن بھروا رہا تھا، انھوں نے کلنٹن کو گردن اور کمر کا مساج دیا۔
اپنے اُس وقت کے جرنل میں انھوں نے سابق صدر کو ’منکسر المزاج، مہربان اور پُرکشش‘ شخصیت کے طور پر بیان کیا تھا۔
Chauntae Daviesان تصاویر میں ایپسٹین کی ساتھی گسلین میکسویل کے علاوہ ہالی وڈ اداکار کیون سپیسی اور سابق امریکی صدر بل کلنٹن بھی موجود تھے۔ سپیسی اور کلنٹن اس دورے پر ایڈز سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی مہم کے لیے گئے تھے۔
سابق صدر سے ڈیویس کے ساتھ اس مختصر ملاقات کے بارے میں فروری میں امریکی ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی کے سامنے ان کے بیانِ حلفی کے دوران سوال کیا گیا۔ کلنٹن نے کمیٹی کو بتایا کہ کاش ڈیویس نے انھیں ایپسٹین کی زیادتیوں کے بارے میں بتایا ہوتا۔
لیکن ڈیویس کا کہنا تھا کہ انھوں نے کبھی کلنٹن کو کچھ بتانے کا سوچا ہی نہیں: ’میں نے کبھی کسی سے اس بارے میں بات کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا۔‘
ایپسٹین کے جرائم کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’وہ (کلنٹن) آخر کر بھی کیا سکتے تھے؟ کیا وہ اسے روک سکتے تھے؟ شاید ہم کبھی نہیں جان پائیں گے۔‘
ڈیویس نے یہ بھی یاد کیا کہ پرتگال میں قیام کے دوران انھوں نے کلنٹن کی بیٹی چیلسی کے لیے زیورات خریدنے میں ان کی مدد کی تھی۔
کلنٹن بارہا کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے ایپسٹین کے کسی بھی استحصال کا مشاہدہ نہیں کیا۔ ایپسٹین فائلز میں ان کا نام سینکڑوں بار آتا ہے، لیکن ان دستاویزات میں موجود ہونا کسی غلط کام کا ثبوت نہیں۔
اداکار کیون سپیسی نے بھی ایپسٹین سے متعلق تمام فائلیں جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’جنھیں کسی چیز کا خوف نہیں، ان کے لیے سچ جتنی جلدی سامنے آئے، اتنا بہتر ہے۔‘
Chauntae Daviesڈیویس نے یہ بھی یاد کیا کہ پرتگال میں قیام کے دوران انھوں نے کلنٹن کی بیٹی چیلسی کے لیے زیورات خریدنے میں ان کی مدد کی تھی۔ایپسٹین کا ’خوفناک‘ نیو میکسیکو رینچ
اس سال کے آغاز میں امریکی محکمۂ انصاف کی فائلوں میں سامنے آنے والے الزامات کے بعد امریکی ریاست نیو میکسیکو نے ایپسٹین کے ’زورو رینچ‘ سے متعلق فوجداری تحقیقات دوبارہ کھول دیں۔
ریاست نے 2019 میں وفاقی پراسیکیوٹرز کی درخواست پر اپنی ابتدائی تحقیقات روک دی تھیں۔
ڈیویس نے کہا: ’زیادہ تر حملے وہیں ہوئے تھے۔ میری سب سے تاریک یادیں زورو رینچ ہی سے جڑی ہیں۔‘
رینچ میں موجود ہونے کے احساس کے بارے میں انھوں نے بی بی سی نیوز نائٹ کو بتایا کہ وہ خود کو ’پھنسی ہوئی‘ محسوس کرتی تھیں۔
انھوں نے کہا: ’وہ جگہ سرد، تاریک اور خوفناک سی لگتی تھی۔‘
ایک اور متاثرہ خاتون، لیزا فلپس، نے بھی اسی تاثر کی تصدیق کی۔
انھوں نے کہا: ’مجھے یاد ہے میں نے سوچا تھا کہ یہ جگہ واقعی بہت ڈراؤنی ہے۔ اس کا ماحول ہی ایسا تھا۔‘
ڈیویس کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں زورو رینچ میں جو کچھ ہوا، اس کے بارے میں ابھی بہت کچھ سامنے آنا باقی ہے۔
Thierry Humeauڈیویس نے کہا: ’زیادہ تر حملے وہیں ہوئے تھے۔ میری سب سے تاریک یادیں زورو رینچ ہی سے جڑی ہیں‘ایپسٹین نے کہا ’مجھے لوگوں کے راز رکھنا پسند ہے‘
ڈیویس کے مطابق ایپسٹین اپنے بااثر اور اعلیٰ طبقے کے دوستوں کے بارے میں شیخی بگھارنے کا بہت شوقین تھا۔
انھوں نے بی بی سی نیوز نائٹ کو بتایا کہ ایپسٹین سابق ڈچس آف یارک، سارہ فرگوسن، کو قرضہ دینے کا بھی فخریہ ذکر کرتا تھا۔۔۔ ’یہ کوئی راز نہیں تھا‘۔
ڈیویس نے کہا کہ ایپسٹین کے گھر پر فرگوسن، ان کے سابق شوہر اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر اور ان کی بیٹیوں کی فریم شدہ تصاویر بھی لگی ہوئی تھیں۔
لیزا فلپس جو اس وقت فیشن ماڈل تھیں، نے بھی ایپسٹین کے ماؤنٹ بیٹن ونڈسر خاندان سے تعلقات کا ذکر کیا۔
انھوں نے اپنی ایک دوست کی کہانی سنائی کہ انھیں مبینہ طور پر ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کے ساتھ جنسی تعلق قائم کریں۔
فلپس کے مطابق ان کی دوست 2003 میں ایپسٹین کے اپر ایسٹ سائیڈ، نیویارک والے اپارٹمنٹ گئی جہاں اسے ایک کمرے میں جانے اور اس شخص کے ساتھ سیکس کرنے کو کہا گیا جسے وہ ماؤنٹ بیٹن ونڈسر بتاتی ہیں۔
ماؤنٹ بیٹن ونڈسر نے ہمیشہ تمام الزامات کی تردید کی ہے۔
BBC Newsnightلیزا فلپس نے بی بی سی نیوز نائٹ کو بتایا کہ بعد میں انھوں نے ایپسٹین سے پوچھا کہ اس نے ان کی دوست کو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کے ساتھ جنسی تعلق پر کیوں مجبور کیا۔ فلپس کے مطابق ایپسٹین نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: ’مجھے لوگوں کے راز رکھنا پسند ہے‘
لیزا فلپس نے بی بی سی نیوز نائٹ کو بتایا کہ بعد میں انھوں نے ایپسٹین سے پوچھا کہ اس نے ان کی دوست کو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کے ساتھ جنسی تعلق پر کیوں مجبور کیا۔
فلپس کے مطابق ایپسٹین نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: ’مجھے لوگوں کے راز رکھنا پسند ہے۔‘
ایپسٹین کے استحصال کے بارے میں بات کرتے ہوئے فلپس نے کہا: ’اسے ہماری آنکھوں میں خوف دیکھنا پسند تھا۔ میرا خیال ہے اسے یہ اچھا لگتا تھا کہ ہم سہم جاتے تھے، ڈر جاتے تھے اور سمجھ نہیں پاتے تھے کہ کیا کریں اور شاید وہ اسی سے لطف اٹھاتا تھا۔‘
نیوز نائٹ کے انٹرویو میں فلپس نے برطانوی پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ ان سے رابطہ کرے تاکہ وہ اپنی دوست پر مبینہ حملے اور ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کے کردار کے بارے میں جو کچھ جانتی ہیں، وہ بتا سکیں۔
ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو فروری میں پبلک آفس میں بدعنوانی کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
تحقیقات کا محور یہ الزام ہے کہ انھوں نے بطور برطانوی تجارتی ایلچی خدمات انجام دیتے ہوئے ایپسٹین کے ساتھ حساس اور خفیہ معلومات شیئر کیں۔
بی بی سی نیوز نائٹ سے بات کرنے والی متاثرہ خواتین نے کہا کہ انھیں یقین ہیں ہے کہ ایپسٹین نے خودکشی کی تھی۔
فلپس نے کہا: ’ہم اسے جانتے تھے، ہم جانتے تھے وہ کیسا شخص تھا۔‘
ایپسٹین 10 اگست 2019 کو نیویارک کے میٹروپولیٹن کریکشنل سینٹر کی اپنی کوٹھڑی میں مردہ پایا گیا، جہاں وہ جنسی سمگلنگ اور سازش کے الزامات پر مقدمے کا انتظار کر رہا تھا۔
نیویارک کے میڈیکل ایگزامینر نے اس کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا۔
’اب میری مسکراہٹ پہلے جیسی نہیں رہی‘
جینا لیزا جونز اور وینڈی پیسانٹے دونوں کی ملاقات ایپسٹین سے اس وقت ہوئی جب وہ صرف 14 سال کی تھیں۔ دونوں اُس وقت بھی دوست تھیں اور برسوں بعد، ایپسٹین کے استحصال سے بچ نکلنے کے باوجود، آج بھی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہیں۔
پیسانتے نے کہا: ’اتنی کم عمر میں ایسا کچھ گزر جائے تو حقیقت کا احساس تہس نہس جاتا ہے۔ چودہ سال کی عمر میں کسی کو جنسی کارکن جیسی ذہنیت نہیں رکھنی چاہیے۔‘
انٹرویو کے دوران، پانچوں متاثرہ خواتین کو وہ تصاویر دکھائی گئیں جو ان کی اس عمر کی تھیں جب وہ پہلی بار ایپسٹین سے ملیں۔
اپنی 18 سالہ تصویر دیکھ کر جوانا ہیریسن نے کہا: ’اب میری مسکراہٹ پہلے جیسی نہیں رہی۔‘
لیزا فلپس نے اپنی وہ تصویر دیکھی جس میں وہ ہلکے گلابی لباس میں ایک کشتی پر بیٹھی تھیں اور انھیں احساس ہوا کہ پس منظر میں ایپسٹین کا جزیرہ نظر آ رہا ہے۔
انھوں نے کہا: ’میں اپنی زندگی سے لطف اندوز ہو رہی تھی اور مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔‘
فلپس نے مزید کہا: ’جب میں اس جزیرے سے نکلی، میں ایسی نہیں تھی جیسی اس تصویر میں نظر آ رہی ہوں۔‘
’کپڑے اُتارنے کے دوران وہ مجھے گھور رہا تھا‘: جیفری ایپسٹین کا نیٹ ورک نوعمر لڑکیوں کو ماڈلنگ کی آڑ میں کیسے بھرتی کرتا تھا؟غلاف کعبہ: مذہب اسلام کے مقدس ترین مقام سے ’کسوہ‘ کے ٹکڑے جیفری ایپسٹین کو بھیجنے کا تنازعجیفری ایپسٹین کے دو ساتھی، جنھیں آج بھی ان کی دولت اور رازوں پر کنٹرول حاصل ہےجنسی مجرم جیفری ایپسٹین گرفتاری سے قبل مراکش میں ’بن النخیل‘ نامی محل کیوں خریدنا چاہتے تھے؟ایپسٹین فائلز میں ٹرمپ اور عمران خان سمیت کن معروف شخصیات کا ذکر ہے؟