امریکہ ایران جنگ کے اثرات کے بارے میں مختلف ممالک کے بااثر افراد کیا سوچتے ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Apr 18, 2026

Getty Images

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے پیدا ہونے والے بحران کے دو مرکز ہیں: ایران کے جنوب میں واقع 24 میل طویل آبنائے ہرمز اور اس سے سات ہزار میل دور وائٹ ہاؤس۔

اس ہفتے جب عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک (ورلڈ بینک) کا اجلاس واشنگٹن میں ہوا تو دنیا کے باقی ممالک کو اپنے معاشی تحفظات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے سامنے براہ راست رکھنے کا منفرد موقع ملا۔

جی سیون کے بیشتر وزرائے خزانہ، چند مرکزی بینکوں کے عہدیداروں اور دنیا کے سرکردہ مالیاتی ماہرین سے بات کر کے تاثر ملا کہ امریکہ کے جنگ میں جانے کے فیصلے کا بوجھ باقی دنیا کے کندھوں پر پڑنے پر افسوس پایا جاتا ہے۔

برطانیہ کی وزیرِ خزانہ ریچل ریوز اس حوالے سے خاص طور پر کھل کر بولیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ ایک ’حماقت‘ اور ’غلطی‘ ہے اور وہ بھی ایسی جنگ ’جو ہماری نہیں۔‘

وزرائے خزانہ کی ملاقاتیں نہایت سنجیدہ اور بوجھل فضا میں ہوئیں۔ شرکا کے مطابق، کمرے میں صرف امریکہ ہی ایسا فریق تھا جو کسی حد تک اعتماد کا اظہار کر رہا تھا۔

اجلاس میں شامل افراد کے مطابق ایشیائی مالیاتی ماہرین نے ’توانائی کی قلت‘ کے بارے میں خاص طور پر تشویش کا اظہار کیا۔ ناشتے کی میز پر کئی خدشات سامنے آنے کے کچھ ہی دیر بعد امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ امریکی ٹی وی پر نمودار ہوئے اور کہا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منڈیاں اور معیشت تیزی سے سنبھل جائیں گی۔

’بتدریج بحران‘

تاہم تمام اجلاسوں میں شریک اور ٹرمپ کی محصولات کی جنگ کے اثرات کا براہ راست سامنا کرنے والے کینیڈا کے وزیر خزانہ فرانسوا فِلپی شیمپین اس معاملے پر مختلف رائے رکھتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’جغرافیہ بدلتا نہیں اور نہ ہی لوگ بہت زیادہ بدلتے ہیں۔ اس لیے عالمی توانائی کے حوالے سے یہ ایک ایسا خطرہ ہے جس کا سامنا ہمیں کئی برسوں تک کرنا پڑے گا، حتیٰ کہ تنازع ختم ہو جانے کے بعد بھی۔‘

آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے مجھے بتایا کہ دنیا ’بتدریج ایک بحران کی جانب بڑھ رہی ہے‘ جبکہ ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے اقتصادی طور پر غریب ممالک پر اس کے اثرات کی نشاندہی کی۔

آبنائے ہرمز ایران کے لیے ’جوہری بم‘ سے بھی زیادہ مؤثر ہتھیارامریکہ کے ساتھ جنگ بندی اور مذاکرات سے سخت گیر ایرانی ناخوش کیوں ہیں؟امریکہ اور ایران کے درمیان پانچ بڑے اختلافات کیا ہیں؟ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کا کردار: ایرانی عوام کی امیدیں اور خدشات

عراق اس وقت تیل برآمد کر رہا ہے نہ ہی پیدا کر رہا ہے، حالانکہ معمول کے حالات میں اس کی 85 فیصد آمدن تیل سے حاصل ہوتی ہے۔ بنگلہ دیش، جہاں گھریلو سطح پر کھانا پکانے کے لیے گیس کی بڑی ضرورت ہے، مشرق وسطیٰ کے فراہم کنندگان سے کٹ چکا جبکہ بحرالکاہل کے جزائر پر موجود ممالک، جہاں توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے، ٹینکروں اور کنٹینر جہازوں کے انتظار میں ہیں، جنھوں نے طویل بحری راستہ طے کر کے پہنچنا ہے۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں جو آبنائے ہرمز کی بندش سے سپلائی چین کے مسائل کو ظاہر کرتی ہیں۔

اس صورتحال کے پیش نظر ورلڈ بینک نے 100 ارب ڈالرز تک کے امدادی فنڈز تیار کر لیے ہیں، کووڈ لاک ڈاؤنز کے لیے مختص کی گئی رقم سے بھی زیادہ، تاکہ توانائی اور خوراک کی بڑھتی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے غریب ممالک کی مدد کی جا سکے۔

آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا تھا کہ ’مارچ ایک مشکل مہینہ تھا لیکن اپریل اس سے بھی زیادہ کٹھن ہو سکتا ہے۔‘

انھوں نے وضاحت کی کیوں؟ ’اس لیے کہ 28 فروری تک روانہ ہونے والے ٹینکر اب اپنی منزلوں پر پہنچ چکے ہیں اور کوئی نئی ترسیل نہیں آ رہی۔ ٹینکر ایک سست رفتار جہاز ہوتا ہے۔ اسے فجی تک پہنچنے میں پورے 40 دن لگتے ہیں۔‘

جمعے کے روز آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر دوبارہ کھولنے کے اعلان کے باوجود، عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں کے حوالے سے خطرہ بدستور موجود ہے۔ کھاد میں استعمال ہونے والے اہم جزو، یوریا کی قیمت دگنی ہو چکی ہے۔ اگرچہ دنیا کے شمالی ممالک میں اس وقت فصلوں کی کاشت ہو رہی ہے مگر عالمی سطح پر خوراک کی دستیابی کا اصل مسئلہ جون یا جولائی میں سامنے آ سکتا ہے۔

اجے بنگا نے کہا کہ ’اصل مسئلہ تب پیدا ہوگا اگر آج سے تین ماہ بعد کھاد دستیاب نہ ہوئی اور ہم غیر شمالی ممالک کے کاشت کے موسم میں داخل ہو گئے تو پھر خوراک کی دستیابی مشکل ہو جائے گی۔‘

Getty Imagesامریکی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ چند ہفتوں کی معمولی معاشی تکلیف، بڑے خطرے سے نجات کے مقابلے میں کچھ نہیں

اس تمام صورتحال پر ٹرمپ انتظامیہ کا رد عمل دو نکات پر مشتمل تھا: جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس کی تکلیف جنگ سے حاصل ہونے والے فائدے سے کم ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کی عمارت کے سامنے واقع ولیئرڈ ہوٹل وہ جگہ ہے جہاں لفظ ’لابنگ‘ وجود میں آیا تھا۔ اسی ہوٹل میں دنیا کے مختلف ممالک کے نمائندے معاشی تباہی سے بچنے کے لیے سفارتی دباؤ ڈالنے آئے تھے۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ چند صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے، میں ان میں شامل تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ عالمی مالیاتی فنڈ کی اس پیشگوئی پر ان کا کیا مؤقف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر معیشت سست ہو جائے گی۔

انھوں نے جواب دیا کہ ’میں سوچتا ہوں کہ اگر لندن پر جوہری حملہ ہو تو عالمی معیشت کو کتنا نقصان ہو گا۔‘

امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ’قلیل مدتی اندازوں کے مقابلے پر میں طویل المدتی سلامتی کو زیادہ اہم سمجھتا ہوں، چند ہفتوں کی معمولی معاشی تکلیف، بڑے خطرے سے نجات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔‘

جب میں نے ان سے وضاحت چاہی تو انھوں نے ڈیاگو گارشیا پر ایرانی میزائل حملے کی طرف اشارہ کیا۔ بیسنٹ ایرانی جہازوں پر امریکی ناکہ بندی کے حوالے سے بھی پُر اعتماد دکھائی دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی جہاز ’آگے نہیں جا سکیں گے۔‘

اسی کے ساتھ وہ ایران سے مذاکرات پر بھی پُر امید نظر آئے بشرطیکہ ایران کی جانب سے ایسے افراد بات کریں جو واقعی قیادت کے تمام دھڑوں کی نمائندگی کرتے ہوں۔

جب میں نے فرانسیسی وزیر خزانہ رولاند لیسکور سے ملاقات کی، تو وہ بیسنٹ کے ساتھ ایک نجی ملاقات کر کے نکلے تھے۔

Getty Images

انھوں نے کہا کہ ’میں وہ سب کچھ نہیں بتا سکتا جو میں نے ان سے کہا لیکن اتنا واضح ہے کہ اس بحران کی گرہ آبنائے ہرمز ہے اور اسے کھولنا ہو گا۔ اس کی قیمت ہم سب ادا کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ امریکہ بھی پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث دباؤ محسوس کر رہا ہے۔ ان کے بقول ایران اس معاشی نقصان کو دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

تاہم لیسکور کا ماننا ہے کہ فرانس میں توانائی کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ نہیں ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ’1970 کی دہائی میں جب تیل کا بحران آیا تھا تو فرانس کی توانائی کی 90 فیصد ضروریات ہائیڈروکاربنز (پیٹرولیم مصنوعات) سے پوری ہوتی تھیں، آج یہ شرح 60 فیصد رہ گئی ہے۔ ہم اس بحران کو موقع بنا کر جوہری توانائی اور توانائی کے قابل تجدید ذرائع میں مزید سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔‘

برطانیہ کی وزیر خزانہ ریچل ریوز کے مطابق بھی توانائی پالیسی میں تبدیلی زیر غور ہے۔ وہ اب شمالی سمندر کے موجودہ تیل و گیس کے ذخائر سے پیداوار زیادہ سے زیادہ بڑھانے اور بجلی کی قیمتوں کو گیس کی قیمتوں سے الگ کرنے کے لیے بڑے اصلاحی اقدامات پر کام کر رہی ہیں۔ آئندہ چند دنوں میں نئی تجاویز سامنے آنے کی توقع ہے۔

برطانیہ کو درپیش مسائل کے باوجود، بینک آف انگلینڈ کے گورنر اینڈریو بیلی نے واضح طور پر کہا کہ جنگ کے باعث بڑھتی مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے شرحِ سود میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق مہنگائی سے نمٹنے کا درست راستہ تنازع میں کمی لانا ہے۔

’نا معلوم خدشات‘

گفتگو کا واحد موضوع جنگ نہیں تھا، قرضوں سے لے کر مصنوعی ذہانت سے متعلق سائبر سیکیورٹی تک، خدشات کی فہرست طویل ہے۔

کینیڈا کے وزیرِ خزانہ شیمپین نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز کے بارے میں ہمیں معلوم ہے کہ وہ کہاں اور کتنی بڑی ہے، لیکن (مصنوعی ذہانت کے ماڈل) مائیتھوس سے ہمیں جس خطرے کا سامنا ہے، اس کا تو ہمیں علم تک نہیں۔‘

جب میں نے بارکلیز بینک کے چیف ایگزیکٹو سی ایس وینکتا کرشنن سے بات کی تو خلیج کا بحران ان کے خدشات کی فہرست میں تیسرے نمبر پر تھا۔ پہلے نمبر پر یہ سوال تھا کہ ’کیا مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ضرورت سے زیادہ توسیع تو نہیں کر لی گئی۔‘

ان کے مطابق ’دوسرے نمبر پر قرضوں اور مالیات کے مسائل ہیں اور تیسرے نمبر پر، ظاہر ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران۔‘

اگرچہ خلیج کی صورتحال کے حوالے سے اب بھی غیر یقینی موجود ہے لیکن تاریکی کم ہوتی جا رہی ہے، جس سے بعض افراد کو دوسرے مسائل پر توجہ دینے کا موقع مل رہا ہے۔ برطانوی وزیر خزانہ ریوز اس وقت قدرے پُر امید بھی ہو سکتی ہیں، کیونکہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پہلی سہ ماہی میں ملک کی ترقی کی شرح 0.5 سے 0.6 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں موجود ہر شخص کو یقین ہے کہ بحران اپنی انتہا کو پہنچ چکا لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو نتائج نہایت سنگین ہوں گے۔

خطرہ بھی ہے اور موقع بھی: دو جنگ بندیاں امریکہ ایران مذاکرات کو کیسے آگے بڑھا سکتی ہیں؟لبنان، اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کن شرائط کے تحت ہوئی ہے؟’یہ سب خدا کے ہاتھ میں ہے‘: بی بی سی نے ایران کے سفر کے دوران کیا دیکھا؟پاکستانی لڑاکا طیاروں اور فوجی دستے کی سعودی عرب میں تعیناتی: غیرجانبدار ثالثی کے بیچ حالیہ عسکری تعیناتی کیا ظاہر کرتی ہے؟مذاکرات کی شرط: ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟امریکہ کی جانب سے ایران کی ناکہ بندی: آبنائے ہرمز پر کنٹرول کس کا ہے اور بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More