Courtesy Sotheby's17ویں صدی میں تیار کیا گیا یہ آلہ لندن میں سوتھبیز میں نیلامی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے
17ویں صدی کا ایک شاندار پیتل کا اسطرلاب یا جسے آسان زبان میں فلکیاتی کمپیوٹر بھی کہا جا سکتا ہے، برسوں سے انڈیا کے شہر جے پور کے شاہی خاندان کے نجی مجموعے کا حصہ تھا۔ اب یہ ’سپر کمپیوٹر‘ لندن میں سوتھبیز میں نیلامی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔
سوتھبیز میں اسلامی اور انڈین فن پاروں کے شعبے کے سربراہ بینڈکٹ کارٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ’شاید اپنی نوعیت کا سب سے بڑا‘ اسطرلاب ہے جو اس سے پہلے کبھی نمائش کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔
یہ آلہ جے پور کے مہاراجہ سوائی مان سنگھ دوم کے شاہی ذخیرے کا حصہ تھا۔ ان کی وفات کے بعد یہ ان کی اہلیہ مہارانی گایتری دیوی کو ملا جو اپنے عہد کی نہایت باوقار اور مشہور خواتین میں سے ایک تھیں۔ بعد ازاں، ان کی زندگی ہی میں یہ آلہ ایک نجی مجموعے میں چلا گیا۔
اسطرلاب کئی تہوں پر مشتمل دھات کے بنے ہوئے چپٹے آلات ہوتے ہیں۔ اس کی تہیں آپس میں جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ ماضی میں ان آلات کا استعمال وقت معلوم کرنے، ستاروں کی نقشہ بندی، کعبے کی سمت معلوم کرنے اور آسمان کی گردش جانچنے کے لیے کیا جاتا تھا۔
آکسفورڈ سینٹر فار ہسٹری آف سائنس، میڈیسن اینڈ ٹیکنالوجی سے وابستہ ڈاکٹر فیدریکا گیگانتے کہتی ہیں کہ یہ آلات تھری ڈی دنیا کی ٹو ڈی تصویر پیش کرتے ہیں، میں ان کا موازنہ آج کے سمارٹ فونز سے کرتی ہوں کیونکہ ان سے بے شمار کام لیے جا سکتے ہیں۔
ان کے مطابق آپ ان آلات کا استعمال کر کے ’غروب اور طلوعِ آفتاب کا وقت، کسی عمارت کی اونچائی، کنویں کی گہرائی، فاصلے کا حساب لگا سکتے ہیں اور یہاں تک کہ ان کی مدد سے مستقبل کی پیشگوئی بھی کی جاتی تھی۔‘
ڈاکٹر گیگانتے کا کہنا ہے کہ ماضی میں ان کی مدد سے زائچے بھی تیار کیے جاتے تھے۔
Courtesy Sotheby'sماضی میں ان آلات کا استعمال وقت معلوم کرنے، ستاروں کی نقشہ بندی، کعبے کی سمت معلوم کرنے اور آسمان کی گردش جانچنے کے لیے کیا جاتا تھا
اس طرح کے آلات پہلی بار دوسری صدی قبلِ مسیح میں قدیم یونان میں تیار کیے گئے اور آٹھویں صدی تک یہ اسلامی دنیا میں پھیل گئے۔ اس کے بعد کی صدیوں میں عراق، ایران، شمالی افریقہ اور اندلس (موجودہ سپین) میں یہ بڑے پیمانے پر تیار کیے جاتے۔
یہ خاص اسطرلاب 17ویں صدی کے اوائل میں لاہور میں تیار کیا گیا تھا۔ اس زمانے میں مغلیہ دنیا میں لاہور ان آلات کی تیاری کا ایک نمایاں مرکز بن چکا تھا۔ یہ آلہ دو بھائیوں قائم محمد اور محمد مقیم نے ایک مغل امیر کے لیے تیار کیا۔
ان دونوں بھائیوں کا تعلق نام نہاد ’لاہور سکول‘ سے تھا جو اس زمانے میں اسطرلاب سازی کے سب سے مشہور مراکز میں سے ایک تھا۔ یہ ہنر ایک ہی خاندان کے اندر منتقل کیا جاتا تھا۔
ان بھائیوں نے مشترکہ طور پر صرف دو اسطرلاب تیار کیے تھے۔ دوسرا آلہ عراق کے ایک عجائب گھر میں محفوظ ہے۔ یہ اسطرلاب آقا افضل کے لیے تیار کیا گیا تھا، جو اس دور میں لاہور کے انتظامی امور کے نگران تھے۔
آقا افضل کا تعلق ایران کے شہر اصفہان سے تھا اور انھوں نے مغل شہنشاہوں جہانگیر اور شاہ جہاں کے دور میں کئی اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ اس آلے کا غیرمعمولی حجم اور شان و شوکت اس کے سرپرست کے بلند مقام کی عکاسی کرتی ہے۔
عجائب گھر سے نوادرات چوری کرنا کتنا آسان ہے؟’نوادرات برسوں سے پاکستان واپسی کے منتظر‘لندن کے ہوٹل میں کیے گئے خفیہ آپریشن میں کروڑوں کے نوادرات چوری کرنے والے کیسے پکڑے گئے؟مصر کا گرینڈ میوزیم جہاں آج سے فرعون توت عنخ آمون کے مدفون خزانے پہلی بار نمائش کے لیے پیش ہوں گے AFP via Getty Imagesیہ اسطرلاب آقا افضل کے لیے تیار کیا گیا تھا، جو اس دور میں لاہور کے انتظامی امور کے نگران تھے
بینڈکٹ کارٹر کے مطابق ’اس آلے کا وزن 8.2 کلوگرام اور اس کا قطر تقریباً 30 سینٹی میٹر ہے جبکہ اونچائی لگ بھگ 46 سینٹی میٹرہے جو 17ویں میں انڈیا میں تیار کیے جانے والے عام اسطرلاب سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔‘
سوتھبیز کے مطابق اس آلے میں 94 شہروں کے نام ان کے طول و عرض البلد کے ساتھ درج ہیں جبکہ 38 ستاروں کی نشاندہی کرنے والے کانٹے نہایت نفیس پھول دار نقش و نگار سے جڑے ہوئے ہیں۔
کارٹر کے مطابق اس درجے کی باریکی لاہور سکول کی غیرمعمولی مہارت کی عکاس ہے، جو اُس وقت ’اپنے عروج پر‘ تھی۔ اس آلے میں فنی درستی، عملی افادیت اور جمالیاتی حسن کو اس طرح یکجا کیا گیا کہ یہ اسے مشرقِ وسطیٰ میں بنائے گئے اس ہی طرز کے بعض قدیم نمونوں سے ممتاز بناتا ہے۔
اس آلے سے مغل دربار میں پائے جانے والے وسیع تر سائنسی رجحان کی بھی عکاسی ہوتی ہے، جہاں حکمراں اور امرا فلکیات اور علمِ نجوم میں ہونے والی پیش رفت میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔
Getty Imagesمہاراجہ سوائی مان سنگھ دوم (دائیں) نے یہ آلہ اپنی اہلیہ مہارانی گائیتری دیوی (بائیں) کو دیا تھا
ڈاکٹر گیگانتے کہتی ہیں کہ ’یہ نہ صرف بڑا، خوبصورت اور وزنی ہے بلکہ اتنا غیرمعمولی حد تک درست بھی ہے کہ کسی فلکی جسم کی بلندی کا عین زاویہ بتا سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق غالباً اس کے مقابلے کا واحد آلہ فارس کے شاہ عباس دوم کے لیے تیار کیا گیا اسطرلاب ہے۔
سوتھبیز کا کہنا ہے کہ اس آلہ کی بہترین حالت اور شاہی پس منظر کے باعث یہ عجائب گھروں اور اس طرح کی چیزیں جمع کرنے کے شوقین افراد کے لیے دلچسپی کا باعث ہو سکتا ہے۔
اس کی متوقع قیمت 15 سے 25 لاکھ پاؤنڈ (تقریباً 20 سے34 لاکھ ڈالر) کے درمیان لگائی جا رہی ہے۔ یہ رقم پاکستانی کرنسی میں 56 کروڑ سے 94 کروڑ کے درمیان بنتی ہے۔
فی الوقت اس طرح کے سب سے مہنگے آلے کی فروخت کا ریکارڈ ایک عثمانی اسطرلاب کے پاس ہے، جو سلطان بایزید دوم کے لیے تیار کیا گیا تھا اور اس سے کہیں چھوٹا تھا۔ 2014 میں وہ اسطرلاب تقریباً 10 لاکھ پاؤنڈ سے کچھ کم قیمت پر فروخت ہوا تھا۔
یہ اسطرلاب 24 سے 29 اپریل تک سوتھبیز کی لندن گیلریوں میں نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔
پولیس نے پانچ گھنٹے تالاب میں چھپے رہنے والے انتہائی مطلوب چور کو کیسے پکڑا؟تین ہزار سال قدیم سونے کے بریسلیٹ کی چوری اور ہزاروں ڈالر میں فروخت: ’فرعون دور کا خزانہ ہمیشہ کے لیے گُم ہو گیا‘البیرونی: ’قرآن کے حکم‘ پر وقت کو قید کرنے کی جستجو کرنے والے سائنسدانریاضی دان محمد ابن موسیٰ الخوارزمی، جن کے کام کو ’خطرناک‘ اور ’جادو‘ گردانا گیاتین عظیم مسلمان ریاضی دان جن کا کام یورپی سائنسدانوں کو صدیوں بعد سمجھ آیاالکندی: ’سمندروں اور بادلوں کا علم رکھنے والے‘ عرب کے پہلے فلسفی