Getty Imagesایس-400 سسٹم مجموعی طور پر 16 فوجی ٹرک نما گاڑیوں پر مشتمل ہوتا ہے جن میں لانچرز، ریڈیر یونٹس، کنٹرول سینٹر اور ٹیکنیکل سپورٹ کی سہولیات موجود ہوتی ہیں (فائل فوٹو)
انڈین خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق مئی کے اوائل میں چوتھا روسی ساختہ میزائل شکن دفاعی نظام ایس-400 انڈیا پہنچ جائے گا۔
اس رپورٹ کے مطابق انڈین فضائیہ کے ماہرین رواں ماہ کے دوران اس فضائی دفاعی نظام کی جانچ کر چکے ہیں اور اسے گذشتہ ہفتے روس سے روانہ بھی کیا جا چکا ہے۔
پی ٹی آئی اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابقیہ دفاعی نظام انڈیا اور پاکستان کے دوران گذشتہ سال لڑی جانے والی جنگ کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر انڈیا پہنچے گا۔
پی ٹی آئی کے مطابق اس دفاعی نظام کو پاکستان سے ملنے والی مغربی سرحد پر فضائی دفاع کو مضبوط کرنے کی غرض سے راجستھان سیکٹر میں نصب کیے جانے کی توقع ہے۔
انڈیا نے ایس-400 فضائی دفاعی نظام کے لیے کم اور زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے 280 میزائل بھی خریدے ہیں۔
یاد رہے کہ مئی 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازع کے دوران پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے آدم پور میں ایس-400 دفاعی نظام کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم بعدازاں انڈین فضائیہ نے اس دعوے کی تردید کی تھی۔
انڈیا نے سنہ 2018 میں روس سے پانچ ارب ڈالر مالیت کے پانچ ایس-400 دفاعی نظام خرینے کا معاہدہ کیا تھا۔ اس دفاعی نظام کے تین یونٹ پہلے ہی انڈیا کو مل چکے ہیں جبکہ چوتھے یونٹ کی آمد اب آئندہ ماہ متوقع ہے۔
روس، یوکرین جنگ اور روسی ہتھیاروں کی خریداری پر عائد پابندیوں کے سبب انڈیا کوایس-400 کے مزید دو یونٹس کی فراہمی میں تاخیر ہوئی ہے۔
اس سلسلے کا پانچواں یونٹ رواں سال کے اواخر تک ملنے کی توقع ہے جسے چین سے ملنے والی مشرقی سرحد پر نصب کیا جائے گا۔
پہلے ملنے والے دو ایس-400 دفاعی نظام پنجاب، گجرات-راجستھان سیکٹرز میں نصب کیے گئے ہیں جبکہ تیسرا یونٹ مغربی بنگال میں عسکری لحاظ سے اہم سلی گوڑی کوریڈور کے تحفظ کے لیے نصب کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایس-400 کی میزائلوں سے حفاظت اور ڈرونز کو تباہ کرنے کی صلاحیت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے شارٹ رینج کے 12 پینٹ سیر فضائی دفاعی نطام خریدنے کا منصوبہ بھی موجود ہے۔ پینٹ سیر نظام میں 12 میزائل اور ہائی کیلیبر کی ایک گن نصب ہوتی ہے۔
اس کی رینج دو سے تین کلومیٹر ہوتی ہے اور یہ ڈرونز اور قریب آ جانے والے پروجیکٹائلز کر تباہ کرنے میں موثر ثابت ہوتی ہے۔
مئی 2025 کی لڑائی میں ’گیم چینجر‘ ایس-400 سے متعلق کیا دعوے ہوئے؟Getty Imagesفائل فوٹو
مئی 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والے جنگ میں اس فضائی دفاعی نظام کا نام بہت مرتبہ سننے کو ملا تھا۔
پاکستان کی جانب سے ایس 400 کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا جبکہ انڈیا نے دعویٰ کیا کہ اس دفاعی نظام کی مدد سے پاکستانی طیاروں کو مار گرایا گیا۔
اگست 2025 میں انڈیا کے ایئر چیف اے پی سنگھ نے مئی کی لڑائی کے دوران روسی ساختہ فضائی دفاعی نظام ایس 400 کی مدد سے پاکستانی جنگی طیارے گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔
اے پی سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ ’اکثر (پاکستانی) جنگی طیارے ایس 400 کی مدد سے مار گرائے گئے۔ ہم نے مجموعی طور پر پانچ جنگی طیارے اور ایک بڑا طیارہ مار گرایا۔‘
انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایک پاکستانی طیارے کو ’300 کلومیٹر کی دوری سے مار گرایا گیا۔ یہ زمین سے فضا تک گرائے جانے والا سب سے طویل فاصلہ ہے۔‘
تاہم پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایک بھی پاکستانی طیارے کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی کوئی تباہ ہوا ہے۔‘
پاکستان کی جانب سے رفال سمیت انڈین جنگی طیارے گرانے کا دعویٰ دہراتے ہوئے خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر سوال سچ کا ہے تو دونوں فریقین آزادانہ جائزے کے لیے اپنے طیاروں کی انونٹریز کو منظر عام پر لائیں۔‘
اے پی سنگھ نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی لڑاکا طیاروں نے ’ہمارے فضائی دفاعی نظام کو عبور کرنے کی کوشش کی لیکن ہمارے ایئر ڈیفنس سسٹم نے عمدہ کارکردگی دکھائی۔ ایس 400 سسٹم، جو ہم نے حال ہی میں خریدا ہے، ایک گیم چینجر ثابت ہوا ہے۔ اس سسٹم کی رینج نے ان کے طیاروں کو ہتھیاروں سے دور رکھا ہے۔‘
انڈین ایئر چیف کا دعویٰ تھا کہ انڈیا کی افواج نے اپنے اسی دفاعی نظام کی مدد سے پاکستان میں عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
تاہم ماضی میں پاکستانی فوج کی جانب سے اس نوعیت کے دعوؤں کی بارہا تردید کی گئی ہے۔
اسی طرح 14 اگست 2025 کو پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان فضائیہ کے ونگ کمانڈر ملک رضوان الحق افتخار کو عسکری اعزاز دینے کے بعد حاضرین کے سامنے اُن کا تعارف کچھ اِن الفاظ میں کروایا تھا کہ ’انھوں نے ایس 400 کو تباہ کیا ہے۔‘
ایس-400 کن صلاحتیوں کا حامل ہے؟BBCایس 400 کے کام کرنے کا طریقہ کار
دفاعی ماہرین کے مطابق ایس-400 سسٹم مجموعی طور پر 16 فوجی ٹرک نما گاڑیوں پر مشتمل ہوتا ہے جن میں لانچرز، ریڈیر یونٹس ، کنٹرول سینٹر اور ٹیکنیکل سپورٹ کی سہولیات موجود ہوتی ہیں۔۔
یہ جدید فضائی دفاعی نظام 600 کلومیٹر کی دوری تک فضائی خطرے کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ اس میں چار طرح کے میزائل نصب ہوتے ہیں جو 400 کلومیٹر کی دوری تک اپنے ہدف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ دفاعی نظام دشمن کے جنگی جہاز، بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو تباہ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
اسے انڈیا کے اسلحہ خانے میں ایک انتہائی موثر دفاعی ہتھیار قرار دیا جاتا ہے۔ 27 مارچ کو انڈین وزیر دفاع کی سربراہی میں ڈیفنس ایکویزیشن کونسل نے ملک کے فضائی دفائی نظام کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مزید پانچ ایس-400 دفاعی نظام خریدنے کی منظوری دی تھی۔
سنہ 2020 میں چین سے سرحدی ٹکراؤ کے بعد انڈیا کسی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنی فضائی صلاحیت میں اضافہ کرتا رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایس-400 کی نئی یونٹوں کا مقصد دشمن کے جنگی جہازوں ڈرونز اور میزائلوں کا بروقت پتہ لگا کر انھیں تباہ کرنے کی فضائیہ کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
فضائی دفاعی نظام ہوتا کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟Getty Imagesروس کی جانب سے انڈیا کو اب تک ایس 400 کے تین یونٹس فراہم کیے جا چکے ہیں (فائل فوٹو)
فضائی دفاعی نظام ایک ایسا فوجی نظام ہے جو کسی ملک کی فضائی حدود کو دشمن کے طیاروں، میزائلوں، ڈرونز اور دیگر فضائی خطرات سے محفوظ رکھتا ہے۔
یہ نظام ریڈار، سینسرز، میزائل اور گن سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے فضائی خطرات کا پتہ لگاتا ہے، ٹریک کرتا ہے اور ان کا مقابلہ کرتا ہے۔فضائی دفاعی نظام کو یا تو جامد (مستقل طور پر تعینات) یا موبائل (موو ایبل) تعینات کیا جا سکتا ہے اور یہ چھوٹے ڈرون سے لے کر بیلسٹک میزائل جیسے بڑے خطرات کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس کا بنیادی مقصد شہری علاقوں، فوجی اڈوں اور اہم ڈھانچوں کو فضائی حملوں سے بچانا ہے۔
فضائی دفاعی نظام چار اہم حصوں میں کام کرتا ہے۔ ریڈار اور سینسر دشمن کے طیاروں، میزائلوں اور ڈرونز کا پتہ لگاتے ہیں۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر ڈیٹا پر کارروائی کرتا ہے اور ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔
’اِنھوں نے ایس 400 تباہ کیا ہے‘: پاکستانی فضائیہ کے آٹھ پائلٹس کے لیے تیسرا بڑا فوجی اعزازآپریشن ’بنیان مرصوص کا آغاز کرنے والے فتح میزائل‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟انڈیا تسلیم نہیں کرتا لیکن جنگ بندی امریکی ثالثی میں ہوئی، لڑائی میں پاکستان کو کوئی بیرونی مدد حاصل نہیں تھی: جنرل ساحر شمشاد کا بی بی سی کو انٹرویو
ہتھیاروں کے نظام خطرات کو روکتے ہیں جبکہ موبائل یونٹس تیزی سے تعیناتی کو قابل بناتے ہیں جو اسے میدان جنگ میں انتہائی موثر بناتے ہیں۔
فضائی دفاعی نظام متعدد مراحل میں کام کرتا ہے، بشمول خطرے کا پتہ لگانا، خطرے کا سراغ لگانا اور بالآخر اسے نقصان پہنچانے سے پہلے ختم کرنا۔
جدید ٹیکنالوجی اور آپریشنز ہر مرحلے پر بہت اہمیت رکھتے ہیں۔
پہلے مرحلے میں ریڈار اور دیگر سینسر ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے فضائی خطرات کا پتہ لگایا جاتا ہے۔ ریڈار ایک بنیادی آلہ ہے جو برقی مقناطیسی لہروں کو بھیجتا ہے اور دشمن کے طیارے یا میزائل کی واپسی سے ان کی پوزیشن کا پتہ لگاتا ہے۔
طویل، درمیانے اور مختصر فاصلے کے ریڈار کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک سینسرز اور انفراریڈ سینسرز دشمن کے طیاروں سے خارج ہونے والے سگنلز کے ذریعے ان کے مقام کا پتا لگاتے ہیں۔
اس مرحلے میں خطرے کی رفتار، خطرے کی قسم جیسے کہ حملے میں کس قسم کا ڈرون، یا طیارہ، یا میزائل استعمال کیا گیا، کا پتہ لگایا جاتا ہے۔
دوسرے مرحلے میں خطرے سے باخبر رہنا شامل ہے، جو حملہ آور ہونے والے آلات کی نقل و حرکت، راستے اور دیگر سرگرمیوں جیسے ڈرون، میزائل یا لڑاکا طیاروں کے بارے میں درست معلومات اکھٹی کی جاتی ہیں۔
ریڈار، لیزر رینج فائنڈرز اور ڈیٹا لنک نیٹ ورکس کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ دشمن کے طیاروں یا میزائلوں کی رفتار، اونچائی اور سمت کو مانیٹر کیا جا سکے۔
تھریٹ ٹریکنگ انتہائی ضروری ہے کیونکہ کسی حملے یا جنگ کے دوران ٹریکنگ سسٹم نہ صرف دشمن کی طرف سے فائر کیے گئے میزائلوں، ڈرونز یا لڑاکا طیاروں کو بلکہ اس کے اپنے لڑاکا طیاروں یا میزائلوں کو بھی ٹریک کرتا ہے۔
اس لیے یہ ضروری ہے کہ ٹریکنگ سسٹم فول پروف اور قابل اعتماد ہو تاکہ آلات یا میزائل یا لڑاکا طیاروں کو کسی قسم کے نقصان سے بچا جا سکے۔
مسلسل ٹریکنگ کے بعد خطرے کو بروقت ختم کرنا ہوتا ہے۔
انڈیا کا فضائی دفاعی نظام کتنا طاقتور ہے؟Getty Imagesروس میں ہونے والی فوجی پریڈ میں ایس 400 کی نمائش کی جاتی ہے (فائل فوٹو)
آئیے بات کرتے ہیں انڈیا کے فضائی دفاعی نظام ایس 400 کی، جسے انڈین فوج سدرشن چکر کے نام سے مخاطب کرتی ہے۔
انڈیا کا فضائی دفاعی نظام اپنی متعدد پرتوں اور نظاموں کے تنوع کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ روسی، اسرائیلی اور دیسی ٹیکنالوجیز کا مرکب ہے جو اسے اپنے پڑوسیوں سے زیادہ موثر بناتا ہے۔
2018 میں انڈیا نے روس سے پانچ ایس 400 میزائل سسٹم خریدنے پر اتفاق کیا۔
اس کا موازنہ امریکہ کے اعلیٰ پیٹریاٹ میزائل ایئر ڈیفنس سسٹم سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ معاہدہ انڈیا اور روس کے درمیان 5.43 ارب ڈالر میں ہوا تھا۔
ایس 400 ایک موبائل سسٹم ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسے سڑک کے ذریعے منتقل کیا جا سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آرڈر ملنے کے بعد اسے پانچ سے 10 منٹ کے اندر تعینات کیا جا سکتا ہے۔
انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ایس 400 کے علاوہ انڈیا کے پاس براک-8 اور مقامی آکاش میزائل سسٹم بھی ہیں جو فضائی دفاع میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سپائیڈر اور ایگلا جیسے نظام کو مختصر فاصلے کے خطرات سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ایس-400 اور سخوئی 57 طیاروں کے معاہدے: چار برس بعد پوتن کا دورۂ انڈیا جس پر امریکہ کی بھی نظریں ہوں گیروسی ساختہ ایس 400 میزائل سسٹم کتنا کارگر ہے اور کیا یہ انڈیا کو خطے میں برتری دلوا پائے گا؟’اِنھوں نے ایس 400 تباہ کیا ہے‘: پاکستانی فضائیہ کے آٹھ پائلٹس کے لیے تیسرا بڑا فوجی اعزازانڈیا تسلیم نہیں کرتا لیکن جنگ بندی امریکی ثالثی میں ہوئی، لڑائی میں پاکستان کو کوئی بیرونی مدد حاصل نہیں تھی: جنرل ساحر شمشاد کا بی بی سی کو انٹرویوپاکستان اور انڈیا کی فوجی طاقت کا موازنہ: لاکھوں کی فوج سے جدید طیاروں، بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز تکرفال بمقابلہ جے 10 سی: پاکستانی اور انڈین جنگی طیاروں کی وہ ’ڈاگ فائٹ‘ جس پر دنیا بھر کی نظریں ہیں