BBCسلمیٰ گذشتہ چھ برسوں سے بطور سیکس ورکر کام کر رہی ہیں
’پہلے پتا ہی نہیں تھا کہ اس (بطور سیکس ورکر) کام سے ایسا بھی ہو سکتا ہے، جب پتا چلا تو زندگی برباد ہی تھی۔‘
سلمی (جن کا فرضی نام استعمال کیا جا رہا ہے) پاکستان کے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والی ایک سیکس ورکر ہیں جو پانچ سال سے ایچ آئی وی پازیٹو ہیں۔ اگرچہ وہ اب علاج کروا رہی ہیں تاہم سلمی کے مطابق وہ اب بھی بطور سیکس ورکر کام کر رہی ہیں۔
پاکستان میں دسمبر 2025 تک ایچ آئی وی میں مبتلا مریضوں کی کُل رجسٹرد تعداد 84 ہزار 421 تھی، تاہم نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام اور وفاقی وزیرِ صحت مصطفی کمال کے مطابق ملک میں اندازً تین لاکھ 30 ہزار سے زیادہ ایچ آئی وی کے کیسز موجود ہو سکتے ہیں۔
وزیر صحت کہتے ہیں کہ ’یہ تجزیہ ہے کہ پاکستان کی اس آبادی کو دیکھتے ہوئے ملک میں تین لاکھ 69 ہزار کیسز ہونے چاہییں، یہ ماہرین کا تجزیہ ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ملک میں 84 ہزار سے زیادہ رجسٹرڈ ایچ آئی وی پوزیٹیو کیسز ہیں، جن میں سے صرف 61 ہزار علاج کروا رہے ہیں۔ ’تقریباً 20 ہزار افراد غائب ہیں، یعنی علاج نہیں کروا رہے۔‘
انھوں نے واضح کیا کہ ’اس کی کوئی دوا مارکیٹ میں موجود نہیں ہے، جو بھی دوا لینی ہے وہ سرکار سے لینی ہے، وہ بھی مفت میں۔‘
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب مریضوں کی تعداد لاکھوں میں ہو سکتی ہے تو رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد اتنی کم کیوں ہے؟
حکومتی حکام اور صحت کے شعبے سے منسلک افراد بتاتے ہیں کہ اس وبا سے جُڑا بدنامی کا ڈر اکثر لوگوں کو طبی معائنے سے روکتا ہے۔
یہاں عام لوگوں کی بات ہو رہی ہے لیکن ان میں وہ بھی شامل ہیں جن کا ذریعہ معاش سیکس سے جُڑا ہے، جو کہ ملک میں ایک غیرقانونی کام ہے۔
BBCآؤٹ ریچ ورکرز ایک قحبہ خانے میں ایچ آئی وی کے ٹیسٹ کروا رہی ہیں
صوبہ پنجاب میں شعبہ صحت اور خصوصاً خواتین سیکس ورکرز کو درپیش طبّی مسائل پر کام کرنے والی این جی او باہم فاؤنڈیشن نامی این جی او کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بشریٰ رانی کہتی ہیں: ’اس بیماری کے ساتھ جس بدنامی کو جوڑ دیا گیا ہے، وہ چیز لوگوں کو دوائیوں تک آنے میں روکتی ہے۔‘
’ہم خواتین سیکس ورکرز کے ساتھ کام کرتے ہیں، جن کی رسائی ویسے ہی صحت کی سہولیات تک کم ہے۔ لیکن جو خواتین اور مرد سیکس ورکرز نہیں ہیں، یا جو نشہ نہیں کرتے ان کے لیے بھی علاج کے لیے آگے آنا مشکل ہوتا ہے۔‘
باہم فاؤنڈیشن کے مطابق صرف صرف لاہور اور گجرانوالہ میں 160 سے زیادہ سیکس ورکرز ان کے پاس رجسٹرد ہیں، جو ایچ آئی وی میں مبتلا ہیں۔
اس ادارے نے متعدد سابق خواتین سیکس ورکرز کو ملازمت فراہم کرنے میں معاونت کی ہے اور ان ہی کے ذریعے ہمیں دیگر خواتین سیکس ورکرز تک بھی رسائی ملی۔
بی بی سی اردو نے پنجاب میں ایسی متعدد سیکس ورکرز سے بات کی ہے، جن میں سے کچھ اب یہ کام چھوڑ چکی ہیں اور کچھ دواؤں کا استعمال کرتے ہوئے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سیکس ورکرز اور ان سے جڑے مسائل پاکستان میں ایک حساس موضوع ہے۔ سرکاری طور پر انھیں ’ویمن وِد ہائی رسک بیہیویئر‘ کہا جاتا ہے۔
ان تمام خواتین کا کہنا ہے کہ طبیّ معائنے سے لے کر دواؤں تک پہنچنا ان کے لیے آسان نہیں تھا۔
’تمھیں شرم نہیں آتی، تم بچے پیدا کر رہی ہو‘
خواتین سیکس ورکرز کی شناخت کے تحفظ کے لیے اس تحریر میں انھیں فرضی نام دیے جا رہے ہیں۔
لاہور کے ایک پوش علاقے سے تقریباً 30 منٹ کی مسافت طے کرنے کے بعد ہم شہر کے نواح میں واقع ایک کچی آبادی میں پہنچے، جہاں گلیوں میں گاڑی لے جانے تک کی گنجائش نہیں تھی۔
ایسی ہی گلی کے ایک بوسیدہ سے مکان میں جب ہم تنگ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر کی منزل پر پہنچے تو وہاں تین بچوں کی ماں سلمیٰ کو اپنا منتظر پایا۔
تونسہ: بچوں میں ایچ آئی وی وبا کے پھیلاؤ سے جڑے ہسپتال میں سرنجز کے ایک سے زیادہ بار استعمال کا انکشاف کیمیکل کنٹرول اور سپائکنگ: ’میرے شوہر نے کئی سال تک نشہ آور ادویات دے کر میرا ریپ کیا‘جی بی روڈ کی دلدل میں پھنسی کم عمر سیکس ورکرز: ’روزانہ 12 سے 15 گاہکوں کو سنبھالنا پڑتا تھا‘کیمیکل کنٹرول اور سپائکنگ: ’میرے شوہر نے کئی سال تک نشہ آور ادویات دے کر میرا ریپ کیا‘
سلمیٰ کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ چھ برسوں سے بطور سیکس ورکر کام کر رہی ہیں۔ ’مجھے گذشتہ پانچ برسوں سے معلوم ہے کہ میں ایچ آئی وی پازیٹو ہوں۔‘
ان کے مطابق جب ان میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی تو انھیں لگا کہ ان کی زندگی اب ختم ہو گئی ہے۔
’پہلے پتا ہی نہیں تھا کہ اس (بطور سیکس ورکر) کام سے ایسا بھی ہو سکتا ہے، جب پتا چلا تو زندگی برباد ہی تھی۔‘
سلمیٰ کے مطابق جہاں ان کی پہلی شادی ہوئی تھی وہاں ’سیکس ورک کرنا عام‘ تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ ایچ آئی وی کی تشخیص کے بعدلوگوں کا رویہ ان کے ساتھ بالکل تبدیل ہو گیا تھا۔
’لوگ کہتے تھے ہمارے برتوں میں کھانا نہیں کھانا، ہمارے پاس نہیں بیٹھنا، ہمارا واش روم نہیں استعمال کرنا، ہمارا تولیہ نہیں استعمال کرو۔‘
’میری بڑی بیٹی کو ایچ آئی وی نہیں تھا، لوگ کہتے تھے کہ اس کی بِیٹی کو اس کے پاس سے ہٹالو ورنہ اسے بھی جراثیم لگ جائیں گے۔‘
سلمیٰ نے مزید بتایا کہ ان کی دوسری بیٹی کی پیدائش کے وقت ان کے بیڈ پر ایچ آئی وی پازیٹو لکھ دیا گیا تھا، جس کے بعد انھیں ’کوئی ہاتھ نہیں لگاتا تھا، نرسیں آ کر اُٹھا دیتی تھیں۔ میں سرکاری ہسپتال سے بھاگ گئی تھی اور پھر پرائیویٹ ہسپتال سے ڈلیوری کروائی۔‘
’ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ تمھیں شرم نہیں آتی، تم بچے پیدا کر رہی ہو، میرا بلڈ پریشر اتنا بڑھ گیا تھا کہ میں نے اپنا فون توڑ دیا، اپنی بچی کا سر پھاڑ دیا۔‘
سلمیٰ وہ واحد خاتون سیکس ورکر نہیں جنھیں ابتدائی طور پر ایچ آئی وی کے علاج کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانی پڑی ہوں۔
مہناز کی عمر 40 کے لگ بھگ ہے اور وہ گذشتہ ایک برس سے بطور سیکس ورکر کام کر رہی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ تشخیص کے بعد ڈاکٹر نے انھیں بتایا کہ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ ’یہ ایک غلط عورت ہے۔‘
مہناز نے اپنی کہانی بتاتے ہوئے کہا کہ وہ خوشی سے بطور سیکس ورکر کام نہیں کر رہیں بلکہ ’مجبوری ہے، گھر میں غریبی ہے، بچے ہیں اور آٹھ سال پہلے شوہر بھی چھوڑ گیا تھا۔‘
وہ ماضی میں سعودی عرب میں بطور باورچی بھی کام کر چکی ہیں، لیکن ان کے مطابق وہ اس بیماری کے ساتھ باہر نہیں جا سکتیں۔
تاہم وہ اعتراف کرتی ہیں کہ نو مہینے پہلے اس بیماری کی تشخیص کے بعد اب بھی اپنا کام کر رہی ہیں۔
BBCآؤٹ ریچ ورکرز سیکس ورکرز کو کنڈوم بھی فراہم کرتے ہیںکیا یہ سیکس ورکرز ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتی ہیں؟
سلمیٰ اور مہناز دونوں کا کہنا ہے کہ وہ ایچ آئی وہ کی تشخیص کے بعد بھی بطور سیکس ورکر کام کر رہی ہیں۔
دونوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کنڈوم کا استعمال کرتی ہیں اور دوائیں لے رہی ہیں، جس کے بعد ان کے مطابق سیکس کے ذریعے ایچ آئی وی کا پھیلاؤ رُک جاتا ہے۔
جب ہم نے سلمیٰ سے پوچھا کہ کیا انھیں یہ ڈر نہیں کہ ان کی وجہ سے ایچ آئی وی دیگر لوگوں تک بھی پھیل سکتا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ: ’اب مجھے کافی معلومات ہے، میں اب خود بھی بچ لیتی ہوں کہ میری طرف سے کسی کو پریشانی نہ اُٹھانی پڑے۔‘
مہناز بھی کہتی ہیں کہ ڈاکٹروں نے انھیں بتایا ہے کہ ’اگر میں دوائی استعمال کر رہی ہوں اور کنڈوم استعمال کر رہی ہوں تو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘
ماہرین اور ڈاکٹر بھی یہی کہتے ہیں کہ دواؤں کے استعمال کے ذریعے ایچ آئی وی کو دبایا جا سکتا ہے، جس کے بعد یہ سیکس کے ذریعے نہیں پھیلتا۔
سوشل ورکر اور خواتین سیکس ورکرز کی صحت پر کام کرنے والی بشریٰ رانی اس بات سے اتفاق کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
’اگر ایچ آئی وی پازیٹو خاتون یا مرد اپنا علاج کروا رہے ہیں تو غیرمحفوظ (کنڈوم کے بغیر) سیکس سے بھی اس کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ تاہم ہم پھر بھی سیکس ورکرز کو آگاہ کرتے ہیں کہ وہ کنڈوم کا استعمال کریں۔‘
BBCایک سیکس ورکر ایچ آئی وی کی دوا لے رہی ہیں
بی بی سی اردو نے ان معاملات سے متعلق سوالات کے جوابات جاننے کے لیے ہفتوں تک پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے عہدیداروں سے رابطہ کیا، تاہم متعدد مرتبہ یقین دہانیاں کروائے جانے کے بعد بھی کوئی عہدیدار اس معاملے پر بات کرنے پر راضی نہیں ہوا۔
تاہم نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام سے منسلک ایچ آئی وی سپیشلسٹ ڈاکٹر ملک محمد عمیر نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ’ایچ آئی وی کی دوائیں مفت دستیاب ہیں اور جیسے ہی ایچ آئی وی پازیٹیو مرد یا عورت دوائیں لینا شروع کرتا ہے تو 90 دن کے اندر اس کا وائرس بڑھنا بند ہو جاتا ہے اور وہ پھر پھیلاؤ کا باعث نہیں بنتا۔‘
سیکس ورکرز تک صحت کی سہولیات پہنچانا کتنا مشکل ہے؟
لاہور میں قائم غیرسرکاری ادارے باہم فاؤنڈیشن نے موجودہ سیکس ورکرز تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ان خواتین کا سہارا لیا، جو ماضی میں بطور سیکس ورکر کام کرتی تھیں۔
انھیں ’آؤٹ ریچ‘ یا ’کمیونٹی ورکر‘ کہا جاتا ہے۔ ان کی شناخت کے تحفظ کے لیے انھیں اس تحریر میں فرضی نام دیے گئے ہیں۔
یہ کمیونٹی ورکرز جگہ جگہ جاتی ہیں اور سیکس ورکرز کو دواؤں اور احتیاطی تدابیروں کے حوالے سے تعلیم دیتی ہیں۔
بی بی سی نیوز اردو نے لاہور کے ایک علاقے میں کمیونٹی ورکرز کے ساتھ ایک متوسط علاقے میں ایک گھر کا دورہ بھی کیا، جہاں متعدد سیکس ورکرز موجود تھیں اور انھیں احتیاطی تدابیروں کے بارے میں بتایا جا رہا تھا۔
عام سے نظر آنے والے اس گھر میں باہر جانے کے کئی دروازے تھے۔ چونکہ پاکستان میں سیکس ورک غیرقانونی ہے، اس لیے اس پیشے سے وابستہ لوگوں کو اکثر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چھاپوں کا بھی ڈر رہتا ہے۔
یہاں نوشین (فرضی نام) نامی کمیونٹی ورکر بھی موجود تھیں۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ ’میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں یہ (سیکس ورک) چھوڑ کر اسی کمیونٹی کے لیے کام کروں گی جس کا کبھی میں حصہ تھی۔‘
’مجھے خوشی ہوتی ہے کہ ہماری وجہ سے یہ خواتین ایچ آئی وی سمیت دیگر بیماریوں سے بچ رہی ہیں۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم انھیں کنڈوم دے کر آتے ہیں تو یہ لوگ (ان کے ہینڈلرز) ان بیچاریوں کو وہی ایک کنڈوم سو، سو روپے کا فروخت کر رہے ہوتے ہیں۔‘
تاہم ماضی میں اس کمیونٹی کا حصہ ہونے کے باوجود بھی نوشین بتاتی ہیں کہ سیکس ورکرز تک رسائی حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔
انھوں نے ہمیں بتایا کہ ’یہ بہت مشکل ہے، ان کے جو نیٹ ورک آپریٹرز ہوتے ہیں، نائیکائیں ہیں، وہ ہمیں ان تک رسائی نہیں دیتے۔‘
’ہم ان تک پہنچ بھی جائیں اور ٹیسٹ وغیرہ کرنا چاہیں تو وہ ہمارے سر پر کھڑے رہتے ہیں۔‘
BBCآؤٹ ریچ ورکرز سیکس ورکرز کے گھروں پر جاکر بھی انھیں آگاہی فراہم کرتے ہیں
اکثر نہ صرف سیکس ورکرز تک رسائیمشکل ہوتی ہے بلکہ کمیونٹی ورکرز کے سروں پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہوتا ہے۔
فائزہ نامی کمیونٹی ورکر نے بی بی سی کو بتایا کہ کیونکہ ان کا خود کا بھی ماضی میں تعلق اس کمیونٹی سے رہا ہے اس لیے جہاں ان کے تعلقات ہوتے ہیں، وہاں پہنچنا مشکل نہیں ہوتا۔
تاہم وہ کہتی ہیں کہ سیکس ورکرز کو اعتماد میں لینا اکثر ایک چیلنج ثابت ہوتا ہے۔
’ہم حتی الامکان کوشش کرتے ہیں کہ انھیں ہماری کوئی بات بُری نہ لگے اور ان کی دل آزاری نہ ہو۔‘
تاہم ان کا کہنا ہے کہ انھیں بھی اکثر خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
’کبھی ہمیں کوئی پریشانی محسوس ہو رہی ہو کہ ماحول خراب ہو رہا ہے، کوئی پریشانی ہو سکتی ہے تو ہم اپنا پلان اچانک تبدیل کر لیتے ہیں۔‘
فائزہ کے مطابق لوگ ڈرتے ہیں کہ ہماری ٹیم وہاں آئی ہے، کہیں وہاں چھاپا نہ پڑوا دیں یا میڈیا پر نہ کوئی ویڈیو چل جائے۔
حکومتی اقدامات
سرکاری زبان میں نشے کے عادی افراد اور سیکس ورکرز کو ’پیپل وِد ہائی رسک بیہیویئر‘ کہا جاتا ہے۔
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال ایچ آئی وی کے خلاف حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہیں کہتے ہیں کہ سنہ 2020 میں ملک میں صرف 49 ہزار ایچ آئی وی ٹیسٹنگ سینٹرز تھے اور آج پانچ برس ان کی تعداد 97 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
انھوں نے صحافیوں کو مزید بتایا کہ سنہ 2020 میں ملک بھر میں ایچ آئی وی کے 37 ہزار 944 ٹیسٹ ہوئے تھے، جبکہ سنہ 2025 میں پاکستان میں ایچ آئی وی کے تین لاکھ 74 ہزار 136 ٹیسٹ کیے گئے۔
دوسری طرف نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام سے منسلک ایچ آئی وی سپیشلسٹ ڈاکٹر ملک محمد عمیر کے مطابق لوگ بدنامی کے ڈر سے علاج نہیں کرواتے۔
انھوں نے بتایا کہ ’حکومت نے پورے پاکستان میں ادارے بنا دیے، ہسپتالوں میں ادویات دے دیں لیکن معاشرے میں بدنامی کا خوف لوگوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ علاج نہ کروائیں۔‘
تاہم وہ کہتے ہیں کہ حکومت پاکستان علما، میڈیا اور یونیوسٹیوں کے ساتھ مل کر آگاہی کے لیے کام کر رہی کہ یہ ایک عام بیماری ہے۔
ڈاکٹر عمیر کے مطابق جو لوگ بدنامی سے ڈرتے ہیں ان کے لیے سیلف ٹیسٹنگ کِٹ بھی متعارف کروائی گئی ہے، جس سے گھر میں ٹیسٹنگ کی جاتی ہے اور اگر کوئی ایچ آئی وی پازیٹو ہوتا ہے تو ہمارے پاس آ کر دوائیاں لے سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ لوگوں میں یہ تاثر بھی غلط ہے کہ یہ صرف غلط کاموں سے پھیلتا ہے۔
’یہ بے راہ روی سے بھی پھیلتا ہے لیکن صرف بے راہ روی سے نہیں پھیلتا۔ بلکہ نشے سے بھی پھیلتا ہے، جو لوگ استعمال شدہ سرنجوں کا استعمال کرتے ہیں۔‘
’ہم اپنے پارٹنرز اور آؤٹ ریچ ورکرز کے ساتھ مل کر ہائی رسک اور غیر صحتمند رویوں میں مشغول لوگوں تک پہنچ رہے ہیں۔ ان کی جب ٹیسٹنگ ہوتی ہے تو وہ بھی علاج کے لیے ہمارے پاس آتے ہیں۔‘
ڈاکٹر عمیر کہتے ہیں کہ ایچ آئی وی سے بچاؤ کی پاکستان میں موجود دوائیں یہاں نہیں بنتیں بلکہ بیرون ملک سے آتی ہیں۔
BBCباہم فاؤنڈیشن کے ہیلتھ سینٹر میں ایک سیکس ورکر اور ڈاکٹر کے درمیان گفتگو کا منظر
’یہ وہ ادویات ہیں جو عالمی ادارہ صحت کی منظور شدہ کمپنیاں دیتی ہیں۔ ہائی رسک گروہوں کو دی جانے والی دوائیں انتہائی موثر ہیں، لیکن ہمیں ان کی غیرصحتمند زندگی کو روکنا پڑے گا۔‘
بی بی سی سے بات کرنے والی متعدد سیکس ورکرز کا کہنا ہے کہ انھیں یہ دوائیاں بلا ناغہ مل رہی ہیں۔
تاہم جہاں اس بیماری کے باوجود کچھ خواتین نے سیکس ورک جاری رکھا ہوا ہے، وہیں کچھ خواتین اس کے پھیلاؤ کے ڈر سے کام چھوڑ بھی رہی ہیں۔
ماریہ (فرضی نام) ان ہی میں سے ایک ہیں، جنھوں نے اپنی شادی کے بعد آٹھ برس بطور سیکس ورکر کام کیا ہے۔
’میں نے شروع میں کبھی اپنے کسٹمرز کو نہیں بتایا کہ مجھے ایچ آئی وی ہے اور میں دوائی لے رہی ہوں۔ لیکن پھر میں نے اس ڈر کی وجہ سے یہ کام چھوڑ دیا کہ کہیں میری وجہ سے یہ بیماری کسی اور کو نہ ہو جائے۔‘
افریقی ممالک میں ایڈز: ’ہمیشہ جنسی ساتھیوں سے کنڈوم پہننے کو کہتی ہوں لیکن اکثر وہ انکار کر دیتے ہیں‘وہ سائنسدان جس نے جانیں بچانے کے لیے ایچ آئی وی وائرس اپنے بیگ میں چھپا کر سمگل کیادنیا کی پہلی خاتون جنھوں نے ایچ آئی وی کو ’شکست‘ دیکیمیکل کنٹرول اور سپائکنگ: ’میرے شوہر نے کئی سال تک نشہ آور ادویات دے کر میرا ریپ کیا‘’تم بڑی عمر کی عورت سے کیوں مل رہے ہو‘: عمر میں زیادہ فرق والے جوڑے جو تعلق میں زیادہ لطف محسوس کرتے ہیںوہ دوا جو خواتین کو انجانے میں سیکس کی ’خطرناک لت‘ میں مبتلا کر سکتی ہے