آبنائے ہرمز میں ’پراجیکٹ فریڈم‘ اور تہران سے مثبت بات چیت: ٹرمپ نے ایران تنازع اور حملوں کے امکان پر کیا کہا؟

بی بی سی اردو  |  May 04, 2026

AFP via Getty Images

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ پیر سے آبنائے ہرمز سے پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو باہر نکالنے میں مدد کرے گا۔

انھوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا: ’ایران، مشرق وسطیٰ اور امریکہ کی بھلائی کے لیے، ہم نے ان ممالک کو بتایا ہے کہ ہم اُن کے جہازوں کو اُن محدود آبی راستوں سے محفوظ طریقے سے باہر لے جائیں گے، تاکہ وہ آزادانہ اور مؤثر انداز میں اپنے کاروبار کو جاری رکھ سکیں۔‘

تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ممالک کی بات کی جا رہی ہے۔

اسے ’پراجیکٹ فریڈم‘ قرار دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اس عمل میں کسی بھی قسم کی مداخلت ہوئی تو ’سختی سے نمٹا جائے گا۔‘

فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے اس اہم بحری گزر گاہ سے آمدورفت کو بہت محدود کر دیا ہے۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی بھی نافذ کر رکھی ہے۔

اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکی نمائندے ایران کے ساتھ ’نہایت مثبت‘ بات چیت کر رہے ہیں اور یہ مذاکرات ’سب کے لیے کسی نہایت مثبت نتیجے‘ تک پہنچ سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ کارروائی امریکہ، ایران اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کی جانب سے ’انسانی ہمدردی کا ایک اشارہ‘ ہو گی، تاہم انھوں نے ممالک کے نام نہیں بتائے۔ امریکی صدر نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ تہران کے ساتھ تعاون کس طرح جائے گا۔

ٹرمپ کے مطابق ’انھوں نے کہا کہ وہ کسی بھی صورت اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے جب تک علاقہ جہاز رانی کے لیے محفوظ نہ ہو جائے۔ جہازوں کی نقل و حرکت کا مقصد صرف ان لوگوں، کمپنیوں اور ممالک کو آزادی دلانا ہے جنھوں نے بالکل کوئی غلط کام نہیں کیا۔‘

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ ’پراجیکٹ فریڈم‘ میں 15 ہزار اہلکار، گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائرز اور 100 سے زائد طیارے شامل ہوں گے۔

ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے اندازاً 20 ہزار جہاز ران خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔ رسد میں کمی اور جہاز رانوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر اثرات کے بارے میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) عموماً اس آبنائے سے گزرتا ہے اور اس تنازع نے عالمی توانائی کی قیمتوں کو تیزی سے بڑھا دیا ہے۔

اتوار کی رات، یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹرانسپورٹیشن آپریشن (یو کے ایم ٹی او) نے اطلاع دی کہ آبنائے ہرمز میں ایک ٹینکر ’نامعلوم میزائل‘ سے نشانہ بنایا گیا، تاہم عملہ محفوظ رہا۔

پاکستان نے امریکی ناکہ بندی سے متاثرہ ایران کے لیے تجارتی راہداری کھولنے کا فیصلہ کیوں کیا؟آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگیں کتنی خطرناک ہیں اور انھیں ہٹانا اتنا مشکل کیوں؟جنگ میں پھنسے بچوں کی کہانیاں: ’میں کاغذی ہوائی جہازوں کے پیچھے بھاگنا چاہتا ہوں، اصلی جہازوں سے چھپنا نہیں‘کیا روایتی طاقتوں کا زوال پاکستان جیسی ’درمیانی طاقتوں‘ کو عالمی منظرنامے پر آگے لا رہا ہے؟BBC

ٹرمپ کا یہ اعلان اس کے بعد سامنے آیا جب ایران سے منسلک سرکاری میڈیا نے کہا کہ تہران کو اپنے تازہ ترین امن منصوبے پر امریکہ کا جواب موصول ہو گیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا کہ ایران کے مطابق یہ جواب پاکستان کے ذریعے پہنچایا گیا اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکہ نے تا حال باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس نے ایران کو جواب دیا ہے۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اتوار کو اسرائیل کے کان نیوز کو بتایا کہ یہ منصوبہ ان کے لیے ناقابل قبول ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، تہران کے 14 نکاتی امن منصوبے میں واشنگٹن سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ایران کی سرحدوں کے قریب سے اپنی افواج واپس بلائے اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرے۔ اور لبنان میں اسرائیلی کارروائی سمیت ہر قسم کی جنگ بند کی جائے۔

اس میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان 30 دن کے اندر ایک معاہدہ طے پائے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے مزید کہا کہ اس منصوبے میں دونوں متحارب فریقوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ موجودہ جنگ بندی کو توسیع دینے کے بجائے ’جنگ کے خاتمے‘ پر توجہ دیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے حوالے سے سرکاری میڈیا نے کہا کہ ’اس مرحلے پر ہم جوہری ہتھیاروں پر مذاکرات نہیں کریں گے‘ حالانکہ یہی واشنگٹن کا بنیادی مطالبہ ہے۔

ایران بارہا اس بات کی تردید کر چکا ہے کہ وہ جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ اس کا پروگرام صرف پُر امن مقاصد کے لیے ہے۔ اگرچہ ایران ہی وہ واحد غیر جوہری ریاست ہے جس نے تقریباً ہتھیاروں کے درجے تک یورینیم افزودہ کیا ہوا ہے۔

سنیچر کے روز ٹرمپ نے تصدیق کی کہ واشنگٹن کو ایران کا تازہ ترین امن منصوبہ موصول ہو چکا ہے۔

ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ وہ اس منصوبے کا جائزہ لیں گے، لیکن یہ کہ وہ ’تصور بھی نہیں کر سکتے کہ یہ قابلِ قبول ہوگا کیونکہ انھوں (ایران) نے گذشتہ 47 برسوں میں انسانیت اور دنیا کے ساتھ جو کچھ کیا ہے، اس کی اب تک اتنی بڑی قیمت ادا نہیں کی۔‘

سنیچر کے روز بعد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انھیں ’معاہدے کے خدوخال‘ سے آگاہ کیا گیا ہے اور ’اب وہ مجھے تحریری طور پر بتائیں گے کہ معاہدے کے الفاظ کیا ہیں۔‘

بی بی سی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا ایران کے اندر اہداف کے خلاف فوجی حملے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں؟ اس کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ ’اس کا امکان ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’اگر وہ کوئی برا رویہ اختیار کریں، اگر وہ کوئی برا کام کریں تو۔ لیکن فی الحال ہم دیکھیں گے۔‘

امریکی صدر مکمل طور پر تنازع سے علیحدہ ہونے کے خواہاں نظر نہیں آئے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم جا نہیں رہے‘ اور ’ہم یہ کام کریں گے تاکہ کسی کو دو یا پانچ سال بعد دوبارہ واپس نہ آنا پڑے۔‘

ایرانی سرکاری اداروں نے کہا کہ تہران کی تازہ ترین پیشکش نو نکاتی امریکی منصوبے کے جواب میں تھی، جس میں دو ماہ کی جنگ بندی کا تصور پیش کیا گیا تھا۔

’کیا ٹرمپ ذہنی طور پر کمانڈر اِن چیف ہونے کے لیے موزوں ہیں؟‘: ایران جنگ پر چھ گھنٹے طویل سماعت میں سخت جملوں کا تبادلہایرانی سفارت خانوں نے دورانِ جنگ ’ایکس‘ کو ہتھیار کیسے بنایا؟’تین دن گزر گئے، ابھی تک کوئی کنواں نہیں پھٹا‘: کیا ایران میں تیل کے کنویں واقعی بند ہونے کے قریب ہیں؟ایران جنگ: خلیجی ممالک میں سوشل میڈیا پوسٹس کا نتیجہ قید، شہریت کی منسوخی یا ملک بدری کی شکل میں کیوں نکل رہا ہےایران میں فیصلے کون کر رہا ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More