Getty Images
دُبلا ہونا اچھی صحت کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جو بہت سے جدید معاشروں میں عام ہے جسے میڈیا اور بعد میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے فروغ دیا۔
لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ تصویر کا دوسرا رُخ نظر نہ آ رہا ہو، یعنی کیا کوئی شخص ظاہری طور پر دُبلا نظر آ سکتا ہے مگر اس کے جسم میں چھپی ہوئی چربی اس کی صحت کے لیے خطرہ بن رہی ہے؟
یہ چربی آخر ہے کیا، یہ کیوں خطرناک ہے اور اس سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے؟
’دُبلا مگر موٹا‘
انگریزی اصطلاح ’سکینی فیٹ‘ کا لفظی مطلب ’دُبلا مگر موٹا‘ ہے۔ یہ کوئی سائنسی اصطلاح نہیں مگر اسے میڈیا میں ایسے شخص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس کے جسم کے اوپری حصے اور کولہوں کے گرد جلد کے نیچے نسبتاً کم چربی ہو۔
تاہم اس شخص میں عموماً پٹھوں کے مقابلے میں چربی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور وہ بظاہر ’دُبلا‘ نظر آتا ہے۔ مگر بعض اوقات اس کا پیٹ ابھرا ہوا ہوتا ہے اور اس میں اندرونی چربی کی شرح زیادہ ہو سکتی ہے۔
اس قسم کی چھپی ہوئی چربی کو ’ایکٹو‘، ’وسرل‘ یا ’ہڈن‘ کہا جاتا ہے۔ یہ پیٹ کی گہرائی میں موجود ایک تہہ ہوتی ہے جو کئی اندرونی اعضا کو گھیرے رکھتی ہے۔ ان اعضا میں دل، گردے، جگر، پتہ، آنتیں اور لبلبہ شامل ہیں۔
اندرونی چربی کے خطرات
یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں میٹابولک میڈیسن کے پروفیسر اور چربی کے ٹشوز کے افعال اور موٹاپے کے میٹابولک اثرات پر تحقیق کرنے والے گروپ کے شریک سربراہ پروفیسر فریڈرک کارپ کہتے ہیں کہ جسم میں موجود چربی کے ذخائر مختلف افعال انجام دیتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ جسم کے اوپری حصے میں جلد کے نیچے موجود چربی تناؤ کے ہارمونز (ایڈرینالین) کے ردعمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ اس لیے مفید ہے کہ اس سے پٹھوں کو درکار توانائی فراہم ہوتی ہے۔
اس کے برعکس کولہوں اور ٹانگوں کے گرد چربی تناؤ کے ہارمونز کے لیے کم حساس ہوتی ہے اور اسے خارج کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس طرح نچلے حصے کی چربی طویل مدتی ذخیرے کے لیے محفوظ جگہ بن جاتی ہے اور جگر اور لبلبے جیسے اعضا کو نقصان دہ چربی جمع کرنے سے بچاتی ہے۔
دوسری جانب اندرونی چربی اپنے گرد موجود اعضا کی حفاظت کا کام کرتی ہے۔ لیکن جب اس کی مقدار زیادہ ہو جائے تو یہ صحت کے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
پروفیسر کارپ کے مطابق یہ چربی بھی تناؤ کے ہارمونز کے ردعمل میں آتی ہے مگر اپنی جسمانی ساخت اور خون کی گردش کے باعث یہاں سے خارج ہونے والی چربی پہلے جگر تک پہنچتی ہے۔
برطانیہ میں کیمبرج یونیورسٹی میں آبادی کی صحت اور غذائیت کی پروفیسر اور فوڈ ایپیڈیمولوجی پروگرام کی ڈائریکٹر پروفیسر نیتا گاندھی نے بی بی سی کو بتایا کہ اندرونی چربی جِلد کے نیچے موجود چربی سے مختلف رویہ رکھتی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ یہ میٹابولک طور پر متحرک ہوتی ہے اور فیٹی ایسڈز، سوزش پیدا کرنے والے سائٹو کائنز اور ہارمونز خارج کرتی ہے جو جگر پر بوجھ ڈالتے ہیں، انسولین مزاحمت پیدا کرتے ہیں اور شریانوں میں چکنائی جمع ہونے کا سبب بنتے ہیں۔
یہ عمل میٹابولک سنڈروم میں کردار ادا کرتا ہے اور مستقبل میں ٹائپ ٹو ذیابیطس اور قلبی امراض کے خطرے کو بڑھاتا ہے، جو قبل از وقت موت سے جڑے ہوتے ہیں۔
اسی میٹابولک سرگرمی کی وجہ سے اندرونی چربی جلد کے نیچے نظر آنے والی چربی سے زیادہ خطرناک سمجھی جاتی ہے۔
بعض مطالعے دماغی صحت اور اندرونی چربی کے درمیان تعلق کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر 16 سالہ تحقیق، جو بین گریون یونیورسٹی نے کی۔ اس میں یہ سامنے آیا کہ اندرونی چربی میں کمی دماغ کے حجم کو برقرار رکھنے اور درمیانی عمر کے بعد بہتر ذہنی کارکردگی سے جڑی ہوئی ہے۔
چین کی ایک تحقیق میں اندرونی چربی میں اضافے کو دماغ کے سکڑنے اور سوچنے کی رفتار میں کمی سے جوڑا گیا ہے۔
کیا جانوروں کی کلیجی انسانی جگر کی خرابی دور کر سکتی ہے؟پاکستان میں بچوں کے خون میں سیسہ کیسے شامل ہو رہا ہے اور یہ ایک سنگین خطرہ کیوں ہے؟طب کی دنیا کا انوکھا واقعہ جب ایک خاتون بیک وقت دو مردوں سے حاملہ ہوئیںکیا کچے اور پکے ہوئے کھانے کے لیے ایک ہی چھری استعمال کرنے سے پیٹ خراب ہو سکتا ہے؟Getty Imagesآپ کو کیسے پتا چلے گا کہ آپ میں اندرونی چربی زیادہ ہے؟
باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) وزن کو قد پر تقسیم کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔
اندرونی چربی کی پیمائش کے لیے یہ موزوں نہیں ہے۔ ممکن ہے کوئی شخص اس پیمانے کے مطابق نارمل ہو مگر اس کے جسم میں اندرونی چربی جمع ہو۔
ظاہر ہونے والی علامات میں سب سے نمایاں ابھرا ہوا پیٹ ہے۔ تاہم پروفیسر سٹیفن ہیمزفیلڈ کے مطابق کمر کا گھیر ناپنا زیادہ بہتر طریقہ ہے۔
بڑی کمر اس بات کی نشاندہی کر سکتی ہے کہ اعضا کے گرد چربی زیادہ ہے۔
برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق مردوں میں کمر کا گھیر 94 سینٹی میٹر اور خواتین میں 80 سینٹی میٹر سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ ایک اور طریقہ یہ ہے کہ کمر کے گھیر کو قد پر تقسیم کیا جائے۔ اگر نتیجہ 0.4 سے 0.49 کے درمیان ہو تو یہ صحت مند ہے جبکہ 0.5 یا اس سے زیادہ خطرے کی علامت ہے۔
اندرونی چربی کی درست پیمائش کے لیے سی ٹی سکین اور ایم آر آئی کو بھی اچھا معیار سمجھا جاتا ہے، جبکہ ڈیکس سکین نسبتاً کم خرچ ہے۔
عام طور پر موٹاپے یا زیادہ وزن کے شکار افراد میں اندرونی چربی زیادہ پائی جاتی ہے۔ لیکن ایسے افراد میں بھی اس کی مقدار مختلف ہو سکتی ہے۔
پروفیسر ہیمزفیلڈ کے مطابق نارمل وزن والے افراد میں یہ زیادہ عام نہیں مگر عمر کے ساتھ چربی میں اضافہ ہوتا ہے۔
پروفیسر کارپ کہتے ہیں کہ مردوں میں عموماً یہ چربی زیادہ ہوتی ہے لیکن مینوپاز کے بعد خواتین بھی اس سے متاثر ہوتی ہیں۔
Getty Imagesظاہری شکل پر ضرورت سے زیادہ توجہ کا خطرہ
معاشرے میں دُبلے پن کو صحت کی علامت سمجھنے کا رجحان اس بات کی ایک وجہ ہو سکتا ہے کہ لوگ اپنے جسم میں چھپی اندرونی چربی کو نظر انداز کر دیں۔
ماہرین کے مطابق نارمل وزن مگر خراب میٹابولک صحت جیسی اصطلاحات ظاہر کرتی ہیں کہ صرف بی ایم آئی اچھے میٹابولک نظام کی ضمانت نہیں دیتا۔
طرزِ زندگی سے تعلق
پروفیسر کارپ کہتے ہیں کہ شراب نوشی اندرونی چربی پر واضح اثر ڈالتی ہے اور زیادہ چینی کا استعمال بھی اس میں اضافہ کر سکتا ہے، خاص طور پر بچوں میں۔
خوراک کا معیار بھی اندرونی چربی اور مجموعی میٹابولک صحت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔
اب یہ سمجھا جا رہا ہے کہ تمام کیلوریز یکساں نہیں ہوتیں بلکہ خوراک کا مجموعی معیار زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے، چاہے وزن ایک جیسا ہی کیوں نہ ہو۔
اچھی غذائی عادات انسولین اور شوگر کنٹرول، جگر کی صحت، سوزش میں کمی، آنتوں کے نظام کی بہتری اور جسم میں چربی کی بہتر تقسیم میں مدد دیتی ہیں۔
وقت کے ساتھ یہ عوامل چربی کو محفوظ جگہوں جیسے کولہوں اور رانوں میں ذخیرہ کرنے میں مدد دیتے ہیں، نہ کہ اندرونی اعضا کے گرد۔
Getty Images
ماہرین کے مطابق صحت بخش غذا میں روایتی طور طریقے جیسے سبزیوں کا زیادہ استعمال، پھلوں، دالوں، اناج، فائبر، مچھلی، خشک میوہ جات اور قدرتی تیل بہتر ہیں۔ جبکہ ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس، میٹھے مشروبات، سرخ اور پراسیسڈ گوشت اور انتہائی پراسیسڈ غذا نقصان دہ ہے۔
کچھ تحقیقات میں کم حرکت کو اندرونی چربی میں اضافے سے جوڑا گیا ہے۔
سائنس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ صرف شکل و صورت یا وزن کو صحت کا معیار نہیں بنانا چاہیے۔ دُبلے جسم میں چھپی اندرونی چربی ایک خاموش خطرہ ہو سکتی ہے۔
حل یہ ہے کہ جسمانی سرگرمی بڑھائی جائے، پٹھوں کی مقدار میں اضافہ کیا جائے، صحت مند غذا اپنائی جائے اور اگر وزن زیادہ ہو تو اسے کم کیا جائے۔
کیا ہم مرغی کے پنجے کھا سکتے ہیں اور یہ چکن کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں خاص کیوں ہیں؟پاکستان میں بچوں کے خون میں سیسہ کیسے شامل ہو رہا ہے اور یہ ایک سنگین خطرہ کیوں ہے؟کیا کچے اور پکے ہوئے کھانے کے لیے ایک ہی چھری استعمال کرنے سے پیٹ خراب ہو سکتا ہے؟کیا جانوروں کی کلیجی انسانی جگر کی خرابی دور کر سکتی ہے؟طب کی دنیا کا انوکھا واقعہ جب ایک خاتون بیک وقت دو مردوں سے حاملہ ہوئیں