’ایسا لگا جیسے فضا سے بمباری کی گئی ہو‘: کوئٹہ میں شٹل ٹرین پر خودکش حملے کے عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

بی بی سی اردو  |  May 25, 2026

Getty Imagesحکام نے اس خودکش حملے میں تاحال 14 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے

کوئٹہ میں اتوار (25 مئی) کے روز پاکستان ریلوے کی شٹل سروس پر حملے نے جن 14 خاندانوں کو سوگوار کیا اُن میں سے ایک راشد جاوید ہیں، جن کے بڑے بھائی خالد جاوید عسکریت پسندوں کے اس حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

راشد جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ بھائی کی ناگہانی موت اُن کے خاندان کے لیے ایک ’بڑا صدمہ‘ ہے۔

اتوار کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے اس خودکش حملے میں، حکام کے مطابق، فرنٹیئر کور (ایف سی) کے تین اہلکاروں سمیت 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق بہت سے شدید زخمی تاحال ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کو مجید بریگیڈ کے خودکش حملہ آور نے سرانجام دیا۔

اس واقعے کے فوری بعد کوئٹہ میں وفاق اور بلوچستان کے حکام کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’ریاست دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید موثر اور سخت انداز میں جاری رکھی جائیں گی۔‘

Reutersدھماکے کے نتیجے میں شٹل سروس کی متعدد بوگیاں تباہ ہوئیں اور پٹری سے اُتر گئیں’خالد جاوید اپنے خاندان کے واحد کفیل تھے‘

اس حملے میں ہلاک ہونے والے خالد جاوید کا تعلق کوئٹہ سے تھا اور وہ کچھ عرصہ قبل ہی بینک کی ملازمت سے ریٹائر ہوئے تھے۔

وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ چمن پھاٹک کے قریب فقیر آباد نامی علاقے کے رہائشی تھی۔ جس عمارت کے فلیٹ میں وہ مقیم تھے وہ دھماکے سے شدید متاثر ہوئی ہے۔

ان کے چچازاد بھائی طارق عزیز نے بتایا کہ دھماکے کے وقت خالد جاوید، اُن کی اہلیہ اور دو کمسن بچے اپنے فلیٹ میں تھے جبکہ دو بچے کسی رشتہ دار کے گھر گئے ہوئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ زوردار دھماکے کے بعد عمارت کا ملبہ اس خاندان پر آ گرا جس کے باعث خالد جاوید زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ اُن کی اہلیہ گھر میں موجود دونوں بچے زخمی ہوئے۔

خالد جاوید کے بھائی راشد جاوید نے بتایا کہ خالد ’اپنے اہلخانہ کے واحد کفیل تھے۔ اس واقعے نے اُن کے بچوں سے باپ کا سہارا ہمیشہ کے لیے چھین لیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’یہ ہمارے خاندان بالخصوص بھائی کے بچوں کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ کی مرضی اِسی میں تھی۔‘

دھماکے کے بعد عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟EPAاس دھماکے کے نتیجے میں متعدد گھروں کو نقصان پہنچا

ایکسپریس ٹی وی سے وابستہ کوئٹہ کے سینیئر صحافی عرفان رانا کا گھر جائے وقوعہ کے قریب واقع ہے۔ وہ اُن لوگوں میں شامل تھے جو کہ دھماکے کے بعد سب سے پہلے اس مقام پر پہنچے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس نے ریلوے شٹل سروس کی تین بوگیوں کو نہ صرف پٹڑی سے اُتار دیا بلکہ دو بوگیاں دھماکے کی شدت کی وجہ سے اُلٹ گئیں۔‘

’ایسا لگ رہا تھا کہ اس دھماکے کے لیے بہت زیادہ بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا کیونکہ اس کی شدت کے اثرات ریلوے کی بوگیوں پر بہت نمایاں تھے۔ دھماکے نے ریل کی پٹڑی کے قریب واقع آبادی میں بھی بہت سے گھروں اور رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔‘

عرفان رانا نے بتایا کہ ’اس دھماکے نے نہ صرف ایک بڑی عمارت کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا بلکہ اس سے بعض گھر مکمل طور پر زمین بوس ہوئے جبکہ درجنوں گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔‘

انھوں نے کہا کہ جہاں لوگوں کے گھروں کے گرنے سے ان کے اندر موجود گاڑیوں اور دیگر اشیا کو نقصان پہنچا وہیں ’جن لوگوں کی گاڑیاں سڑک پر کھڑی تھیں، وہ دھماکے کی وجہ سے لگنے والی آگ کی لپیٹ میں آگئیں۔ اس کے نتیجے میں درجنوں گاڑیاں مکمل طور پر جل گئیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ یہ مناظر ایسے ہی تھے ’جیسے ہم غزہ یا ایران میں بمباری کے بعد اپنی ٹی وی یا موبائل فونز کی سکرین پر دیکھتے ہیں۔۔۔ یوں لگ رہا تھا جیسے فضا سے بمباری ہوئی ہو۔‘

Reutersمتعدد شہریوں کی گاڑیاں بھی اس حملے کی نذر ہوئیں

عرفان رانا کے مطابق کوئٹہ میں طویل عرصے سے ایسے واقعات کی رپورٹنگ کے دوران انھوں نے تباہی کے زیادہ اثرات یا تو اس دھماکے میں دیکھے یا اس سے قبل 2013 میں ہزارہ ٹاؤن کی مارکیٹ میں دیکھے تھے جس میں بارود سے بھرے ایک واٹر ٹینکر کو اڑایا گیا تھا۔

عبدالباسط انھی گھروں کے ایک رہائشی ہیں جو کہ اس دھماکے میں متاثر ہوئے۔ اس دھماکے میں وہ معمولی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’صبح آٹھ بجے کے قریب ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کے بعد قیامت کا منظر تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے گھر تباہ ہوگئے، لوگ زخمی ہو گئے اور تباہی کے مناظر آپ کے سامنے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں کیسی تباہی مچ گئی ہے۔‘

عبدالباسط نے کہا کہ ’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ گاڑیوں کی کتنی تباہی ہوئی ہے۔ یہ تمام گاڑیاں انھی لوگوں کی ہیں جو کہ اس محلے میں رہائش پذیر تھے۔‘

کوئٹہ میں ٹرین پر خودکش حملے میں ایک درجن سے زیادہ ہلاکتیں: ’زوردار دھماکہ ہوا، گھر کے سارے شیشے ٹوٹ گئے اور دروازے کھڑکیاں گر گئیں‘کالعدم تنظیم بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب کون ہیں؟جعفر ایکسپریس پر حملہ کیسے ہوا؟ شدت پسندوں سے لڑنے والے پولیس اہلکار کے مغوی بننے سے فرار تک کی کہانیبلوچستان میں شدت پسندوں کا ٹرین پر حملہ: بی ایل اے کیا ہے اور اس کی قیادت سرداروں سے متوسط طبقے تک کیسے پہنچی؟

ایک اور عینی شاہد فیاض احمد نے بتایا کہ اس علاقے میں ’نہ صرف لوگوں کے گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا بلکہ گھروں کے ملبے گرنے سے بہت سارے لوگ زخمی بھی ہوئے۔‘

ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ’ہم حیران ہیں کہ ہم بچ کیسے گئے۔‘

انھوں نے میڈیا کے نمائندوں کو اپنا گھر دکھاتے ہوئے کہا کہ ’اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے گھر میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن گھر میں تباہی کے مناظر آپ خود دیکھ سکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ دھماکے کے بعد ’جب میرے ہوش و حواس بحال ہوئے تو میں اپنی والدہ اور بچوں کی آوازیں سن رہا تھا جو کہ مدد کے لیے پکار رہے تھے۔ میں نے خود ان کو گھر سے باہر نکالا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ گاڑیوں میں لگی آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ یہاں سے گزرنا مشکل ہو رہا تھا۔

ہسپتال میں سکیورٹی کے سخت انتظامات، ٹراما سینٹر میں داخلہ ممنوع

عرفان رانا نے بتایا کہ ریسکیو کے اداروں سے پہنچنے سے پہلے زخمیوں کی مدد کے لیے قریب میں واقع سرکاری کالونی کے لوگ پہنچے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ایمبولینسز وغیرہ کے آنے تک لوگ یہاں سے بعض زخمیوں کو مختلف گاڑیوں میں سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر منتقل کرتے رہے۔

چونکہ سول ہسپتال کوئٹہ جائے وقوعہ سے سب سے قریب واقع ہے اس لیے زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے وہاں منتقل کیا گیا۔

عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ سرکاری طور پر زخمیوں کی جو تعداد بتائی گئی ان کی تعداد بتائی گئی تعداد سے بہت زیادہ تھی۔

جب میڈیا کے نمائندے سول ہسپتال کوئٹہ پہنچے تو انھوں نے پہلی مرتبہ یہ دیکھا پولیس کے علاوہ ہسپتال میں دیگر سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

میڈیا کے نمائندوں نے ٹراما سینٹر کے اندر جانے اور وہاں عملے سے مصدقہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن ان کو ٹراما سینٹر میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

ایک خاتون صحافی نے بتایا کہ انھوں نے سول ہسپتال کے مردہ خانہ کے عملے سے معلومات حاصل کرنے کے لیے وہاں جانے کی کوشش کی لیکن ان کو اندر جانے نہیں دیا گیا لیکن انھوں نے دیکھا کہ وہاں ’لاشوں کی بڑی تعداد منتقل کی جا رہی تھی۔‘

EPA’شٹل سروس کی بوگیوں کو جعفر ایکسپریس کا حصہ بننا تھا‘

کوئٹہ میں ریلویز کے حکام کے مطابق شٹل سروس کی بوگیوں کو کوئٹہ کے ریلوے سٹیشن پر جعفر ایکسپریس کا حصہ بننا تھا اور اس کے بعد جعفر ایکسپریس کو اپنی منزل مقصود کی جانب روانہ ہونا تھا۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے ٹرینیں بالخصوص جعفر ایکسپریس حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔

چونکہ کورونا وبا اور حالات کی خرابی کی وجہ سے جعفر ایکسپریس سندھ اور پنجاب کے راستے پشاور تک روزانہ کی بنیاد چلنے والی واحد ٹرین رہ گئی ہے، اس لیے اس پر اب تک درجنوں چھوٹے اور بڑے حملے ہوئے ہیں۔

گذشتہ سال مارچ کے مہینے میں ضلع کچھی کے علاقے بولان میں مسلح افراد نے جعفر ایکسپریس کو یرغمال بنایا تھا جبکہ نومبر 2024 میں اس کے مسافروں کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

وفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی کے مطابق اتوار کے روز کوئٹہ کینٹ سے ریلوے سٹیشن جانے والی شٹل سروس کو جس مقام پر بم حملے کا نشانہ بنایا گیا، وہ شہر میں چمن پھاٹک سے چند سو فٹ کے فاصلے پر واقع ہے۔

چمن پھاٹک ریلوے سٹیشن کوئٹہ کے ساتھ شمال میں میر جعفرخان جمال روڈ پر ریلوے کی پٹڑی پر واقع ایک کراسنگ پوائنٹ ہے۔ چونکہ یہ کراسنگ کوئٹہ اور افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن کے درمیان ریلوے کی پٹڑی پر واقع ہے اس لیے یہ علاقہ چمن پھاٹک کے نام سے مشہور ہے۔

چمن پھاٹک کا شمار شہر کے وسطی علاقوں میں ہوتا ہے اور اس کے مشرق میں صرف چند سو میٹر کے فاصلے پر گورنر ہاؤس اور سول سیکریٹریٹ سمیت دیگر اہم سرکاری دفاتر واقع ہیں۔

چمن پھاٹک سے جنوب میں کوئٹہ کے ریلوے سٹیشن کی حدود شروع ہوتی ہیں۔ جبکہ اس کے مغرب میں چند سو فٹ کے فاصلے پر کوئٹہ کا تحصیل آفس، پولیس کے دو بڑے دفاتر، ایف سی کا میس جبکہ اس کے قریب ہی مغرب کی جانب کوئٹہ شہر کا سب سے بڑا سپورٹس کمپلیکس ایوب سٹیڈیم واقع ہے۔

اس علاقے میں ماضی میں بھی بم دھماکے اور دستی بم حملے ہوتے رہے ہیں لیکن اتوار کو شٹل سروس کے قریب جو دھماکہ ہوا وہ اس علاقے میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا دھماکہ تھا۔

Reuters’مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا‘

اس واقعے کے فورا بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کوئٹہ پہنچے تھے اور انھوں نے یہاں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی صدارت میں ہوئے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی تھی۔

ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں اس واقعے کی مذمت کی گئی جبکہ امن و امان کی مجموعی صورتحال اور دھماکے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں آئی جی بلوچستان پولیس محمد طاہر خان نے چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے دھماکے کی ابتدائی رپورٹ پیش کی اور واقعے سے متعلق ہونے والی پیش رفت پر بریفنگ دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا تھا کہ ’دہشت گردوں کو منطقی انجام‘ تک پہنچایا جائے گا اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر اور سخت انداز میں جاری رکھی جائیں گی۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ واقعے میں مارے جانے والے لوگوں کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور حکومت ہر سطح پر ان کی معاونت جاری رکھے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت اس دکھ کی گھڑی میں بلوچستان حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

کوئٹہ میں ٹرین پر خودکش حملے میں ایک درجن سے زیادہ ہلاکتیں: ’زوردار دھماکہ ہوا، گھر کے سارے شیشے ٹوٹ گئے اور دروازے کھڑکیاں گر گئیں‘کالعدم تنظیم بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب کون ہیں؟مجید بریگیڈ کیا ہے اور امریکہ کی جانب سے اسے ’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیے جانے کا کیا مطلب ہے؟جعفر ایکسپریس پر حملہ کیسے ہوا؟ شدت پسندوں سے لڑنے والے پولیس اہلکار کے مغوی بننے سے فرار تک کی کہانیبلوچستان میں شدت پسندوں کا ٹرین پر حملہ: بی ایل اے کیا ہے اور اس کی قیادت سرداروں سے متوسط طبقے تک کیسے پہنچی؟
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More