Getty Images
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سنیچر کو خلیجی مُمالک، ترکی، مصر اور پاکستان کے رہنماؤں سے ایران کے حوالے سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ اس ’پیچیدہ معاملے‘ کے حل کے بعد ’تمام مُمالک کو کم از کم مشترکہ طور پر ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنے چاہییں۔‘
دیکھا جائے تو پیر کو ٹروتھ سوشل پر امریکی صدر ٹرمپ کی پوسٹ کے دو حصے تھے۔ پہلے حصے میں انھوں بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں ’اچھی پیش رفت‘ ہو رہی ہے: ’یہ یا تو سب کے لیے ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ ہوگا ہی نہیں، اور پھر دوبارہ محاذِ جنگ اور فائرنگ کی طرف واپسی ہو گی، لیکن پہلے سے بھی زیادہ بڑی اور طاقتوراور کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا۔‘
تاہم، صد ٹرمپ کی تروتھ کا دوسرا اور بڑا حصہ معاہدہ ابراہیمی اور دیگر ممالک کا اس کا حصہ بننے کی خواہش پر مبنی تھا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کی سنیچر کے روز سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، قطر کے وزیرِاعظم محمد بن عبدالرحمن آل ثانی، پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر، ترک صدر رجب طیب اردوغان، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے گفتگو کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ ’اس پیچیدہ معاملے کو ایک مربوط شکل دینے کی تمام امریکی کوششوں کے بعد یہ لازم ہونا چاہیے کہ یہ تمام ممالک کم از کم بیک وقت معاہدہ ابراہیمیپر دستخط کریں۔‘
اس سے قبل گذشتہ روز بھی صدر ٹرمپ نے جہاں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں تو وہیں انھوں نے ’مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک‘ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے تاریخی ابراہیمی معاہدوں کا حصہ بن سکتے ہیں۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر اس وقت مزید توجہ کا مرکز بنا جب بعد ازاں ایکس پر امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے بھی اس کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تنازع ختم ہونے پر اگر نتیجتاً خطے کے عرب اور مسلم اتحادی ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائیں تو یہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے لیے سب سے موثر معاہدہ ہو گا۔
اگرچہ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کسی ملک کا نام نہیں لیا تاہم گراہم نے اس سلسلے میں سعودی عرب، قطر اور پاکستان کا ذکر کیا ہے۔ گراہم نے اپنے پیغام میں خبردار کیا کہ اگر ان ممالک نے ایسا نہ کیا تو ’ہمارے مستقبل کے تعلقات پر اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔‘
اسی تنبیہ کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے جہاں پاکستانی، سعودی اور قطری صارفین اس پر ردعمل دے رہے ہیں۔ اکثر لوگوں نے گراہم پر تنقید کی ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کیسے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
تاہم اس معاملے پر مزید بات کرنے سے پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے اپنی تازہ ترین ٹروتھ سوشل پوسٹ میں کیا کہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کیا کہا؟
ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں جہاں صدر ٹرمپ نے دیگر اسلامی ممالک کے معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کیا وہیں یہ بھی لکھا کہ ’یہ ممکن ہے کہ ایک یا دو ممالک کے پاس ایسا نہ کرنے کی کوئی وجہ ہو اور اسے قبول کیا جائے گا۔ تاہم زیادہ تر کو اس معاہدے کو ایران کے ساتھ معاہدے سے کہیں زیادہ تاریخی واقعہ بنانے کے لیے تیار اور آمادہ ہونا چاہیے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ معاہدہ ابراہیمی متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش، سوڈان اور قازقستان کے لیے مالی، معاشی اور سماجی لحاظ سے فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔
انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ معاہدہ ابراہیمی دیگر ممالک کے لیے ’مزید بہتر‘ ثابت ہوں گے اور پانچ ہزار سالوں میں پہلی بار مشرقِ وسطیٰ میں حقیقی طاقت، مضبوطی اور امن لائیں گے۔ یہ ایک ایسا معاہدہ ہوگا جس کا احترام دنیا میں کہیں بھی کیے گئے کسی بھی معاہدے سے زیادہ ہوگا۔‘
صرف یہی نہیں امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کرنے کا ’آغاز سعودی عرب اور قطر کے فوری دستخط سے ہونا چاہیے اور دیگر سب کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے۔‘
امریکی صدر کے مطابق انھوں نے سنیچر کو ہونے والی گفتگو میں رہنماؤں کو بتایا تھا کہ تہران کے ساتھ کسی معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد ’ایران کو معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بنانے میں انھیں فخر ہوگا۔‘
’لہٰذا، میں لازمی طور پر درخواست کر رہا ہوں کہ تمام ممالک فوراً معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کریں اور اگر ایران امریکہ کے صدر کے طور پر میرے ساتھ معاہدے پر دستخط کرتا ہے تو انھیں بھی اس بے مثال عالمی اتحاد کا حصہ بنانا ایک اعزاز ہوگا۔‘
’اس بیان کے ذریعے میں اپنے نمائندوں کو کہہ رہا ہوں کہ وہ ان ممالک کے تاریخی معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کے عمل کو شروع کریں اور مکمل کریں۔‘
صدر ٹرمپ کے اس بیان پر باضابطہ طور پر پاکستان سمیت کسی ملک کا ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن اس سے قبل لنڈسے گراہم کی اس سے متعلق سوشل میڈیا پر تنبیہ پر شدید ردِ عمل سامنے آیا تھا۔
پاکستان، انڈیا جنگ سے ایران، امریکہ مذاکرات تک: فیلڈ مارشل عاصم منیر عالمی سیاست کا اہم کردار کیسے بنے؟کیا انڈیا، متحدہ عرب امارات میں دفاعی شراکت داری کا اعلان پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدے کا جواب ہے؟ٹرمپ کا بیان، اسرائیلی تحفظات اور تہران کا پاکستان کو پیغام: ایران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ معاہدے کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی اتحاد کی بازگشت: ’صدر اردوغان کی سوچ ہے کہ وسیع پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی جائے‘لنزے گراہم کی تنبیہ پر مسلم ممالک میں اظہار برہمی
لنزے گراہم کا پیغام خاص طور پر سعودی عرب، پاکستان اور قطر میں توجہ حاصل کر رہا ہے۔ رپبلکن پارٹی کے سینیٹر گراہم کو ٹرمپ کے اہم اتحادیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اپنے پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’اگر واقعی ان مذاکرات کے نتیجے میں ایران کے تنازع کے خاتمے کے ساتھ خطے میں ہمارے عرب اور مسلم اتحادی ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے پر متفق ہو جاتے ہیں تو یہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے سب سے اہم معاہدوں میں سے ایک بن جائے گا۔‘
انھوں نے سعودی عرب، قطر اور پاکستان کا نام لے کر کہا کہ ان کا ’ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونا خطے اور دنیا کے لیے بڑی تبدیلی ثابت ہو گا۔ یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک غیر معمولی قدم ہے۔‘
’سعودی عرب اور دیگر ممالک کے لیے اب وقت ہے کہ نئے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے لیے جرات مندانہ قدم اٹھائیں۔ جیسا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے۔‘
گراہم کو توقع ہے کہ یہ ممالک ’ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہوں گے جس سے عرب اسرائیل تنازع ختم ہو جائے گا۔‘
انھوں نے خبردار بھی کیا کہ اگر یہ ممالک ٹرمپ کی تجویز سے انکار کرتے ہیں تو ’اس کے ہمارے مستقبل کے تعلقات پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے اور امن کا حصول ناقابل قبول ہو گا۔ تاریخ اسے مِس کیلکولیشن یعنی (غلطی) کے طور پر یاد رکھے گی۔‘
اگرچہ سعودی عرب یا پاکستان کی طرف سے اب تک باقاعدہ طور پر گراہم کے پیغام پر ردعمل نہیں کیا گیا تاہم اس پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ دونوں ملک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے اور متحدہ عرب امارات کے برعکس ان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
ایکس پر پاکستانی صحافی حامد میر نے کہا کہ کچھ دن قبل گراہم پاکستان کے خلاف ’زہر اُگل رہے تھے۔ اچانک وہ پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں۔ وہ ایک کھیل کھیل رہے ہیں۔‘ ادھر صحافی عاصمہ شیرازی نے کہا کہ گراہم ’دن میں خواب دیکھ رہے ہیں۔‘
سعودی صارف عبدالاسلام صالح نے لکھا کہ سعودی عرب نے 22 مئی 2026 کو دو ریاستی حل کے لیے بین الاقوامی اتحاد قائم کیا ہے۔ انھوں نے گراہم سے پوچھا کہ ’آپ کو یہ مشورہ دینے کی ترغیب کس نے دی کہ ہم ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہوں؟ آپ ہم پر کوئی احسان کر رہے ہیں یا ہمارے فیصلوں کا تعین کر رہے ہیں؟‘
’مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ہمارا مؤقف کسی سودے بازی کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی دھمکیاں یا ترغیبات اسے متاثر کر سکتی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو گا، اس کے بغیر امن ممکن نہیں ہو گا۔ یہ وہ موقف ہے جس کا ہم دنیا کے سامنے اعلان کر چکے ہیں اور یہی ہماری اس پیش رفت کا بنیادی اصول ہے جس کی حمایت 165 ممالک کر چکے ہیں۔‘
ایک سعودی صارف نے لکھا کہ سعودی عرب اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرے گا، نہ کہ ’لنزے گراہم کی نئے مشرق وسطیٰ کے بارے میں تصورات کی بنیاد پر۔‘
کیا یہ تجویز قبل عمل ہو گی؟
مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر دانی سیترینوفیتش کی رائے میں اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہونے کی توقعات غلط ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس تناظر میں یہ ممکن نہیں کہ ’مسئلہ فلسطین کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا جائے۔۔۔ اس توقع کو بار بار دہرانے سے مشرق وسطیٰ کی تزویراتی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔‘
ان کا خیال ہے کہ ’کسی نہ کسی مرحلے پر اسرائیلی پالیسی سازوں اور عوام دونوں کو ایک بنیادی حقیقت کا سامنا کرنا ہو گا: عرب دنیا کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا، خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ، غالباً فلسطینی معاملے پر بامعنی پیش رفت کا تقاضا کرے گا۔ محض علامتی اقدامات نہیں بلکہ ٹھوس سیاسی پیش رفت۔‘
تھنک ٹینک کارنیگی انڈوومنٹ سے منسلک ارون ڈیوڈ مِلر کی رائے میں ’بہت کم کوئی دلیل اتنی کمزور معلوم ہوتی ہے۔ خلیجی ممالک کی توجہ سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہو گی۔‘
’امارات نے تنہا یہ قدم اٹھایا ہے اور چند ہی ممالک اس کی پیروی کریں گے۔ موجودہ اسرائیلی حکومت کو دیکھتے ہوئے یہ باور کرنا کہ اب تعلقات کو معمول پر لانا ممکن ہے، ناقابلِ یقین معلوم ہوتا ہے۔‘
دریں اثنا پاکستانی صحافی ظفر نقوی چاہتے ہیں کہ اس پر پاکستان سرکاری طور پر جواب دے کیونکہ ’یہ تو بہت خطرناک اشارے ہیں۔‘
یاد رہے کہ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپریل میں اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’کینسر زدہ‘ قرار دیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ ’معصوم شہری اسرائیلی کارروائیوں میں مارے جا رہے ہیں، پہلے غزہ، پھر ایران اور اب لبنان میں خونریزی کا نہ رُکنے والا سلسلہ جاری ہے۔‘
اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان کے وزیرِ دفاع کی جانب سے اسرائیل کی تباہی کی اپیل نہایت اشتعال انگیز ہے۔ یہ ایسا بیان ہے جسے کسی بھی حکومت کی جانب سے قابلِ برداشت نہیں سمجھا جا سکتا، خاص طور پر ایسی حکومت کی طرف سے جو خود کو امن کے لیے غیر جانب دار ثالث قرار دیتی ہو۔‘
پاکستان اور سعودی عرب کی طرح قطر بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ یاد رہے کہ ستمبر 2025 کے دوران اسرائیل نے قطر میں حماس کے خلاف ڈرون حملہ کیا تھا۔
2020 میں ایک انٹرویو کے دوران قطری وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کے لیے ضروری ہو گا کہ پہلے ایسی فلسطینی ریاست قائم کی جائے تو فلسطینیوں کے لیے قابل قبول ہو۔
لنزے گراہم کی جنگ میں شامل نہ ہونے پر ’ریاض کو دھمکی‘: سعودی عرب امریکی و اسرائیلی فوجی کارروائی کا حصہ بننے سے کیوں گریز کر رہا ہے؟ٹرمپ کا بیان، اسرائیلی تحفظات اور تہران کا پاکستان کو پیغام: ایران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ معاہدے کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی اتحاد کی بازگشت: ’صدر اردوغان کی سوچ ہے کہ وسیع پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی جائے‘کیا انڈیا، متحدہ عرب امارات میں دفاعی شراکت داری کا اعلان پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدے کا جواب ہے؟لنزے گراہم کی جنگ میں شامل نہ ہونے پر ’ریاض کو دھمکی‘: سعودی عرب امریکی و اسرائیلی فوجی کارروائی کا حصہ بننے سے کیوں گریز کر رہا ہے؟’گلف نیٹو‘ کا خواب: خلیجی ممالک کی رقابتیں، امریکی اثر و رسوخ اور پاکستان کا ممکنہ کردار