خفیہ قافلے کا 160 کلومیٹر کا سفر: وہ رات جب وینزویلا کا ’افزودہ یورینیم‘ خاموشی سے امریکہ منتقل کیا گیا

بی بی سی اردو  |  Jun 07, 2026

OIEAاس رات اور اس میں برتی جانے والی رازداری کی وجوہات کئی دن بعد سامنے آئیں۔

یہ گذشتہ اپریل کے اواخر کی ایک رات تھی۔

وینزویلا کا ایک فوجی قافلہ مکمل رازداری کے ساتھ 160 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے کراکس کے مضافات میں واقع سائنسی ریسرچ کے ادارے آئی وی آئی سی (وینیزویلا انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ) سے ریاست کارابوبو کی بندرگاہ تک پہنچا۔

اس رات اور اس میں برتی جانے والی رازداری کی وجوہات کئی دن بعد سامنے آئیں۔

اس رات فوجی ایک ایسی گاڑی کے ساتھ تھے جو ایک کنٹینر لے جا رہی تھی۔ اس کنٹینر میں تقریباً 13 کلوگرام اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم تھا، جسے امریکہ منتقل کیا جانا تھا۔

اس کارروائی میں وینزویلا، امریکہ اور برطانیہ کی حکومتوں کے ساتھ ساتھ عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے بھی حصہ لیا جس نے بعد میں بتایا کہ انھوں نے اس عمل کو محفوظ بنانے کے لیے کئی برس تک کام کیا تھا۔

آٹھ مئی کو جاری کیے گئے بیان میں ایجنسی نے کہا کہ ’یہ ایک مشترکہ اور احتیاط سے منصوبہ بندی کی گئی مہم تھی، جسے سخت حفاظتی انتظامات کے تحت انجام دیا گیا، کیونکہ اس قسم کا جوہری مواد اگر غلط ہاتھوں میں چلا جائے تو پھیلاؤ یا سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔‘

اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم (ایچ ای یو) وہ ہوتا ہے جس کی افزودگی 20 فیصد سے زیادہ ہو۔

رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ سے وابستہ نیوکلیئر گروپ کے محقق جیک کروفورڈ کہتے ہیں کہ اس طرح کا یورینیم دنیا بھر میں جوہری ری ایکٹروں میں پرامن مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے جیسے تحقیق یا جوہری آبدوزوں کی نقل و حرکت تاہم اسے ایسے مواد بنانے یا حتیٰ کہ بم بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے جوہری ردِعمل پیدا ہو۔

کروفورڈ نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ ’وہ 13 کلوگرام اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم جو وینزویلا سے نکالا گیا، درحقیقت اس قابل ہے کہ اسے مزید صاف کر کے ایک چھوٹا جوہری ہتھیار بنایا جا سکے۔

ان کے مطابق اگرچہ اس میں یورینیم-235 کی مقدار صرف 20 فیصد سے کچھ زیادہ تھی اور عام طور پر افزودہ یورینیئم کو ہتھیار سازی کے درجے کا تب سمجھا جاتا ہے جب یہ 90 فیصد ہو۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کی منتقلی حالیہ بین الاقوامی کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد پہلے سے یہ خطرہ کم کرنا ہے کہ پرامن استعمال کے لیے رکھا گیا اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم کسی غیر ریاستی گروہ یا ایسی حکومت کے ہاتھ لگ جائے جو جوہری ہتھیار بنانا چاہتی ہو۔‘

وینزویلا کی حکومت کے ایران، روس، کیوبا اور شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات کئی برسوں سے امریکی حکومت کے لیے تشویش کا باعث رہے ہیں۔

بی بی سی ویریفائی نے جن ماہرین سے بات کی ان کے مطابق یہ معاملہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے لیے بھی فکر کا باعث تھا۔

لیکن وینزویلا کے پاس اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم کیسے آیا اور اس نے اسے امریکہ کے حوالے کیوں کیا؟

امن کے لیے ایٹم Bettmann/Getty Imagesوینزویلا نے اپنا تجرباتی ایٹمی ری ایکٹر ایٹمز فار پیس پروگرام کے تناظر میں حاصل کیا، جسے ڈیوائٹ آئزن ہاور حکومت نے فروغ دیا تھا

وینزویلا کے پاس موجود 13 کلوگرام اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم آر وی ون نامی ری ایکٹر میں بطور ایندھن استعمال ہوتا تھا جو لاطینی امریکہ کا پہلا جوہری ری ایکٹر تھا۔

یہ تجرباتی ری ایکٹر 1960 کی دہائی کے شروع میںوینیزویلا کے سائنسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں نصب کیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ 1950 کی دہائی میں امریکی صدر ڈیوائٹ آئزن ہاورکے شروع کیے گئے ایٹمز فار پیس پروگرام کا حصہ تھا۔

آٹھ دسمبر 1953 کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے آئزن ہاور نے کہا کہ جنگی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی جوہری ٹیکنالوجی خطرہ بن چکی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی اب صرف امریکہ تک محدود نہیں رہی اور جیسے جیسے مزید ممالک ایٹمی بم بنانے لگے، خطرہ بھی بڑھتا گیا۔

انھوں نے کہا کہ صرف اس خطرے کو کم کرنا کافی نہیں بلکہ اس ٹیکنالوجی کو انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ کافی نہیں کہ اس ہتھیار کو فوجیوں سے لے لیا جائے، بلکہ اسے ان لوگوں کے حوالے کرنا چاہیے جو اسے جنگی استعمال سے نکال کر امن کے کاموں کے لیے استعمال کر سکیں۔‘

اس کے بعد انھوں نے تجویز دی کہ اقوامِ متحدہ کے تحت ایک جوہری توانائی کی ایجنسی بنائی جائے جو ایسے طریقے تیار کرے جن سے جوہری مواد انسانیت کے پُرامن مقاصد کے لیے استعمال ہو اور طب یا زراعت جیسے شعبوں میں مدد دے۔

خیال یہ تھا کہ جو ممالک جوہری مواد بناتے ہیں وہ اسے اقوامِ متحدہ کی اس ایجنسی کو دیں، جو اسے محفوظ رکھے اور پھر اسے ایسے سائنس دانوں کو دے جو اس کے پُرامن استعمال پر تحقیق کریں۔

آئزن ہاورکی اس تقریر نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے قیام کی بنیاد رکھی، اور اسی کے ساتھ ایٹمز فار پیس پروگرام بھی شروع ہوا، جس کے تحت امریکہ ترقی پذیر ممالک کو تربیت اور ٹیکنالوجی دیتا تھا تاکہ وہ جوہری توانائی کو امن کے مقاصد کے لیے استعمال کریں۔

اس تقریر کے ایک سال سے بھی کم عرصے بعد امریکہ نے اٹامک انرجی ایکٹ میں تبدیلی کی، تاکہ دوسرے ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی اور مواد دیا جا سکے بشرطیکہ وہ وعدہ کریں کہ اسے ہتھیار بنانے کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔

کوکین سمگلنگ اور کارٹیلز سے شراکت کے الزامات: وینزویلا کے رہنما مادورو کے خلاف کیس جو امریکہ میں برسوں سے تیار کیا جا رہا تھا’قلعہ نما گھر، سی آئی اے کا مخبر اور سیف روم تک پہنچنے کی کوشش‘: صدر مادورو کو پکڑنے کے لیے امریکی کارروائی میں کیا کیا ہوا؟صدر ٹرمپ کو ’دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے ذخائر‘ رکھنے والے ملک وینزویلا سے کیا مسئلہ ہے؟’کوه کلنگ‘ کمپلیکس یا کوئی ’نامعلوم مقام‘: ایران میں افزودہ یورینیئم کے ذخائر کہاں ہیں؟

مارچ 1955 میں آئزن ہاورحکومت نے ایک اور قدم اٹھایا اور امریکی اٹامک انرجی کمیشن کو اجازت دی کہ وہ ’آزاد دنیا‘ کے ممالک کو محدود مقدار میں ایسا مواد دے سکے جس سے جوہری ردِعمل پیدا کیا جا سکتا ہو اور ساتھ ہی جوہری ری ایکٹر بنانے میں مدد بھی فراہم کرے۔

ایک سال بعد وینزویلا کی حکومت نے امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک سے تین میگاواٹ کا آر وی ون ری ایکٹر خریدا، جس کا افتتاح 22 نومبر 1960 کو ہوا۔

آر وی ون نے 1991 تک ایک تحقیقی ری ایکٹر کے طور پر کام کیا جس کے بعد اسے جزوی طور پر بند کر دیا گیا۔

وینزویلا کے حکام کے مطابق اسے مکمل طور پر 1997 میں بند کیا گیا جب اس کے ایندھن کا کچھ حصہ نکال لیا گیا جبکہ باقی حصہ سخت حفاظتی انتظامات کے تحت محفوظ رکھا گیا۔

بعد میں اس ری ایکٹر کو تبدیل کر کے ایسے مرکز میں بدل دیا گیا جہاں گیما شعاعوں کے ذریعے طبی آلات اور دیگر اشیا کو جراثیم سے پاک کیا جاتا تھا۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق، جب تک آر وی ون کام کرتا رہا، اس میں استعمال ہونے والا جوہری ایندھن امریکہ اور برطانیہ سے حاصل کیا جاتا رہا۔

مادورو کی گرفتاری سے یورینیم کی منتقلی تکNNSAیورینیم کو پورٹو کابیلو کی بندرگاہ پر لاد کر خفیہ طور پر امریکہ بھیج دیا گیا

اس کارروائی میں حصہ لینے والی برطانوی حکومت نے بی بی سی ویریفائی کے سوالات کے جواب میں کہا کہ وینزویلا کے حکام نے 2017 میں باقی ماندہ جوہری ایندھن نکالنے کی درخواست کی تھی اور اگلے سال عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی درخواست پر برطانیہ اس منصوبہ بندی میں شامل ہوا۔

لیکن تین جنوری کو وینزویلا کے اس وقت کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری نے بظاہر اس بات میں اہم کردار ادا کیا کہ بالآخر یورینیم نکالنے کی یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

سات مئی کو وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مادورو کو گرفتار کرنے کے لیے امریکی فوجی کارروائی کے بڑھتے خطرے نے یہ واضح کر دیا کہ یورینیم نکالنا ضروری ہو گیا ہے، جس کے لیے وینزویلا پہلے سے درخواست کر رہا تھا۔

بیان کے مطابق امریکی فوجی کارروائی سائنسی ریسرچ کے ادارے آئی وی آئی سی کے ہیڈکوارٹر کے قریب تک پہنچ گئی تھی اور پرانے ری ایکٹر سے صرف تقریباً 50 میٹر کے فاصلے پر رہ گئی تھی۔

اس کے بعد اپریل کے آغاز میں یہ خفیہ کارروائی شروع کی گئی جس میں وینزویلا کے حکام، امریکہ کی نیشنل نیوکلیئر سکیورٹی ایڈمنسٹریشن اور برطانوی حکومت نے حصہ لیا۔

وینزویلا کے حکام کے بیان کے مطابق بین القوامی ایجنسی اس بات کیذمہ دار تھی کہ حفاظتی اقدامات کی نگرانی کرے، تکنیکی جانچ پڑتال کرے، ادارہ جاتی طور پر اس عمل میں ساتھ دے اور وینزویلا کے عملے کو تربیت فراہم کرے۔

برطانوی حکام اس بات کے ذمہ دار تھے کہ افزودہ یورینیم کو وینزویلا سے لے جا کر امریکہ کی ریاست جنوبی کیرولائنا میں واقع دریا سوانا کے جوہری مرکز تک منتقل کریں، جہاں اس وقت جوہری مواد کو پروسیس کیا جاتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق، برطانیہ کی نیوکلیئر ڈسمینٹلمنٹ اتھارٹی کے ذیلی ادارے این ٹی ایس نے نے پیسیفک ایگریٹ نامی مال بردار جہاز فراہم کیا جس کے ذریعے یورینیم کو وینزویلا سے باہر لے جایا گیا۔

Vantorبرطانوی جہاز پیسیفک ایگریٹ پہنچا اور وینزویلا سے خاموشی سے روانہ ہوا

اس جہاز نے 11 اپریل کو سیٹلائٹ کے ذریعے اپنا مقام ظاہر کرنا بند کر دیا تھا، اس وقت یہ امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا کے شہر چارلسلیسٹن میں تھا۔

ایک ہفتے بعد یہ پورٹو کابیلو میں لنگر انداز ہوا، جس کی تصدیق بی بی سی ویریفائی نے ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے کی۔

چار مئی کو لی گئی تصاویر میں پیسیفک ایگریٹ کو امریکہ واپسی کے دوران دیکھا جا سکتا ہے اس کے ساتھ ایک اور جہاز بھی تھا جو بظاہر اس کی حفاظت کے لیے تھا۔

آٹھ مئی تک یہ جہاز دوبارہ امریکہ پہنچ چکا تھا جس کی تصدیق اسی دن چارلیسٹن کی بندرگاہ کی تصاویر سے ہوتی ہے۔

برطانیہ کے ادارے آفس آف نیوکیئر ریگیولیشن نے کہا کہ ’یہ ایک بہت منظم کارروائی تھی جس میں انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کو مد نظر رکھا گیا۔‘

امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ایک بیان میں اس کارروائی کی کامیاب تکمیل کی تصدیق کی اور کہا کہ مئی کے آغاز تک این این ایس سے نے ’7,340 کلوگرام سے زیادہ ہتھیار سازی کے درجے کے جوہری مواد کو ہٹا دیا یا اس کی تلفی کی تصدیق کی ہے۔‘

جوہوری توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کے مطابق، اگرچہ 1960 اور 1970 کی دہائی میں بنائے گئے زیادہ تر تحقیقی جوہری ری ایکٹروں کو تجربات کے لیے اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم درکار ہوتا تھا، اب یہی کام کم افزودہ یورینیم (ایل ای یو) سے بھی کیا جا سکتا ہے، جس میں یورینیم-235 کی مقدار 20 فیصد سے کم ہوتی ہے۔

ادارے کے مطابق دنیا بھر میں سو سے زیادہ تحقیقی ری ایکٹرز اور طبی آئسوٹوپ بنانے والی تنصیبات کو اب کم افزودہ یورینیم کے استعمال کے لیے تبدیل کیا جا چکا ہے یا انھیں بند کر دیا گیا ہے۔

اس کے نتیجے میں تقریباً 7,000 کلوگرام اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم واپس حاصل کیا جا چکا ہے، جس میں اب وینزویلا سے نکالا گیا یورینیم بھی شامل ہو گیا ہے۔

کوکین سمگلنگ اور کارٹیلز سے شراکت کے الزامات: وینزویلا کے رہنما مادورو کے خلاف کیس جو امریکہ میں برسوں سے تیار کیا جا رہا تھا’قلعہ نما گھر، سی آئی اے کا مخبر اور سیف روم تک پہنچنے کی کوشش‘: صدر مادورو کو پکڑنے کے لیے امریکی کارروائی میں کیا کیا ہوا؟صدر ٹرمپ کو ’دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے ذخائر‘ رکھنے والے ملک وینزویلا سے کیا مسئلہ ہے؟’کوه کلنگ‘ کمپلیکس یا کوئی ’نامعلوم مقام‘: ایران میں افزودہ یورینیئم کے ذخائر کہاں ہیں؟ ایران کے جوہری پروگرام میں کیا باقی بچا ہے اور کیا یہ اب بھی ایک ’خطرہ‘ ہے؟یورینیم کی افزودگی کا وہ ’خطرناک لمحہ‘ جب یہ مواد تباہ کُن جوہری ہتھیار میں بدل جاتا ہے
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More