افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا ہے کہ ’پاکستان نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور ڈیورنڈ لائن کے قریب کئی مقامات پر فضائی حملے کیے جن میں عام شہریوں کی ہلاکت ہوئی۔‘
ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک اور ایکس پر یہ دعویٰ کرتے ہوئے مبینہ طور پر ان حملوں میں ہلاک ہونے والے چند بچوں کی تصاویر بھی پوسٹ کی ہیں اورلکھا ہے کہ ’گزشتہ رات پاکستانی فوج نے کنڑ، خوست اور پکتیکا صوبوں میں شہریوں کے گھروں پر بمباری کی۔‘
افغان طالبان حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اس دعوے پر اب تک پاکستان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ بی بی سی ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے کیے جانے والے دعووں اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکتا۔
ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں ’11 بچے، ایک خاتون اور ایک عمر رسیدہ شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔‘ بی بی سی ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکتا۔
بی بی سی پشتو سے بات کرتے ہوئے خوست میں طالبان گورنر کے ترجمان نے بتایا کہ صوبے کے سپیرا ضلع کے ایک گاؤں میں نو افراد ہلاک اور دس زخمی ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ مرنے والوں میں بچے اور ایک خاتون بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں بھی تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے جس کی سرحد خوست سے ملتی ہے۔ برمل ضلع کے ایک رہائشی نے بتایا کہ فضائی حملہ صبح ایک بجے کے قریب ہوا۔
پاکستانی حکومت نے ابھی تک ان حملوں یا ہلاکتوں کے دعووں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
افغانستان کا روس کے ساتھ ’تکنیکی فوجی‘ معاہدہ: ’پاکستان دوبارہ حملہ کرنے کی جرات نہ کرے‘، طالبان وزیر دفاعپاکستان اور انڈیا کے الزامات، بی ایل اے کا تذکرہ اور روس کی افغانستان سے جڑی تشویش: اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کے خصوصی اجلاس میں کیا ہوا؟کابل میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر حملے میں ہلاک ہونے والے 269 افراد کے اہلخانہ اپنے سوالوں کا جواب چاہتے ہیںپاکستان کے کابل، قندھار پر فضائی حملے: کیا ان حملوں سے پاکستان اپنے مقاصد حاصل کر پائے گا یا پھر حقیقی جنگ کا خطرہ بڑھے گا؟
صحافی طاہر خان نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ ’پاکستان نے اب تک سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا ہے جبکہ افغان طالبان کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے کنڑ، خوست اور پکتیکا میں فضائی حملے کیے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب تحریک طالبان پاکستان نے پشاور کے قریب ایک سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس میں ایف سی کے جوان ہلاک ہوئے۔‘
اس واقعے پر اب تک پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے موقف سامنے نہیں آیا تاہم سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی اردو کو اس حملے کی تصدیق کی تھی۔
طاہر خان نے لکھا کہ ’افغانستان پر تازہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب چین ارمچی امن عمل کے تحت مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کی کوششیں کر رہا ہے اور منگل کو ہی پاکستان اور افغانستان کے حکام استنبول میں ملاقات کر چکے ہیں۔‘
واضح رہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی گزشتہ کچھ عرصے میں بڑھی ہے جس کے دوران پاکستان نے افغانستان میں متعدد حملے کیے ہیں۔ افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ یہ کارروائیاں ٹی ٹی پی سمیت ان گروہوں کے خلاف کی جا رہی ہیں جو افغانستان میں رہتے ہوئے سرحد پار دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
اسلام آباد افغانستان میں طالبان حکومت پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر حملے کرنے والے عسکریت پسندوں کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے۔ تاہم طالبان حکومت نے بارہا اس کی تردید کی ہے اور اصرار کیا ہے کہ وہ کسی کو بھی کسی دوسرے ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
گزشتہ روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان اور انڈین نمائندوں نے مارچ میں پاکستانی حملوں پر سخت تنقید کی تھی جس کے جواب میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا تھا کہ ’مارچ میں کی گئی کارروائیوں سمیت پاکستان کے تمام اقدامات صرف افغانستان سے سرگرم دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچے کے خلاف تھے، اور ان کا مقصد افغان عوام کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں تھا۔‘ ان کے مطابق ان کارروائیوں میں ’ڈرون ذخیرہ گاہوں، تکنیکی معاونت کے مراکز اور اسلحہ گوداموں کو نشانہ بنایا گیا جو پاکستانی شہریوں پر حملوں میں استعمال ہو رہے تھے۔‘
یاد رہے کہ پاکستان نے رواں سال فروری میں افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت پاک افغان سرحد کے قریب واقع مرکزی شہروں قندھار اور پکتیا میں فضائی حملے کیے ہیں۔ پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے ان مقامات پر دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا۔
اس کے بعد مارچ میں طالبان حکومت کے ترجمان نے الزام عائد کیا تھا کہ کابل میں نشے کے عادی افراد کے بحالی مرکز کو پاکستان کی جانب سے کیے گئے ایک فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے تاہم پاکستان نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فضائی حملے میں کابل اور مشرقی افغان صوبے ننگرہار میں فوجی تنصیبات اور 'دہشت گردوں کے مراکز' کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس حملے میں تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد 269 ہے۔
اس سے قبل طالبان اور پاکستانی فوج کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہی ہیں جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے جانی نقصان ہوا ہے۔ ان جھڑپوں اور تشدد کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان راستے کافی عرصے سے بند ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت بند ہو کر رہ گئی ہے۔
افغانستان کا روس کے ساتھ ’تکنیکی فوجی‘ معاہدہ: ’پاکستان دوبارہ حملہ کرنے کی جرات نہ کرے‘، طالبان وزیر دفاعپاکستان اور انڈیا کے الزامات، بی ایل اے کا تذکرہ اور روس کی افغانستان سے جڑی تشویش: اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کے خصوصی اجلاس میں کیا ہوا؟’گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ‘ رکھنے والے افغان طالبان کے پاس کون سے ہتھیار ہیں اور کیا وہ پاکستان کے خلاف روایتی جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں؟پاکستان کے کابل، قندھار پر فضائی حملے: کیا ان حملوں سے پاکستان اپنے مقاصد حاصل کر پائے گا یا پھر حقیقی جنگ کا خطرہ بڑھے گا؟کابل میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر حملے میں ہلاک ہونے والے 269 افراد کے اہلخانہ اپنے سوالوں کا جواب چاہتے ہیں