Reuters
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان قیام امن کے معاہدے کو آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر حتمی شکل دے دی جائے گی اور اس سلسلے میں ’الیکٹرانک دستخط‘ کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ایکس پر پیغام میں ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکٹرانک دستخط کے بعد ’اگلے ہفتے تکنیکی سطح پر بات چیت ہو گی۔‘
پاکستانی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ یہ تاریخی معاہدہ پائیدار امن کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔‘
دریں اثنا لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل نے جنوبی لبنان میں فضائی حملے کیے ہیں اور 20 مقامات میں لوگوں کے انخلا کا حکم دیا گیا تھا۔
جبکہ ایران کے وزیر خارجہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ لڑائی ختم کرنے کا معاہدہ قریب ہے۔ عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ اس معاہدے میں لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع کے خاتمے کا بھی تصور شامل ہے۔
عراقچی نے کہا کہ اس معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا شامل ہے۔ انھوں نے ایران کے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ اس معاہدے میں ایران پر امریکہ کی ناکہ بندی کا خاتمہ بھی شامل ہے تاہم انھوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت بعد میں شروع ہو گی۔
Reutersلبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل نے جنوبی لبنان میں فضائی حملے کیے ہیں
امریکی حکام نے معاہدے کی کچھ تفصیلات کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ایران کے لیے معاشی فوائد کا انحصار تہران کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر ہو گا۔
امریکہ نے ماضی میں کہا تھا کہ ممکن ہے کہ لبنان اس معاہدے کا حصہ نہ ہو جبکہ اطلاعات کے مطابق ایران اس پر اصرار کر رہا ہے۔
اس جنگ کا آغاز 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہوا تھا۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیج میں امریکہ کے اتحادی ممالک پر حملے کیے اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو عملاً بند کر دیا۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔
آبنائے ہرمز میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرنے کے بعد پائلٹوں کو سمندری ڈرون کی مدد سے کیسے بچایا گیا؟مشرقِ وسطیٰ کو ’نئی شکل دینے کے خواہاں‘ ٹرمپ اور نتین یاہو جو بظاہر ’جنگ کے نتائج پر قابو کھو چکے ہیں‘سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ ایرانی فوجی اڈوں پر امریکی حملوں سے ہونے والے نقصان کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟’کوئی پیغام یا نئی حکمت عملی‘: اسرائیل پر حملے سے ایران دنیا کو کیا بتانا چاہتا ہے؟
اپریل میں جنگ بندی پر اتفاق کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان وقفے وقفے سے حملوں کا تبادلہ ہوتا رہا ہے جس میں اس ہفتے جوابی حملوں کے دو ادوار بھی شامل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ انھوں نے ایران کے خلاف طے شدہ حملے منسوخ کر دیے ہیں۔ ان کے بقول مذاکرات کاروں کے درمیان ایک ’شاندار معاہدہ‘ ہونے جا رہا ہے جو کہ ممکنہ طور پر جلد دستخط کے لیے تیار ہو گا۔
جمعے کو ایرانی میڈیا نے ممکنہ 14 نکاتی معاہدے کی کچھ تفصیلات شائع کیں جن کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ ان نکات کا طے شدہ شرائط سے کوئی تعلق نہیں۔ چند گھنٹوں بعد پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے متن پر اتفاق ہو گیا اور یہ حتمی شکل کے قریب ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں معاہدے کی تازہ شرائط کے حامی اور مخالف دونوں موجود ہیں۔
تاہم انھوں نے مزید کہا کہ کوئی اجتماعی فیصلہ نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ’فی الحال ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔ اگر منظوری دی گئی تو معاہدے پر ڈیجیٹل دستخط کیے جائیں گے۔‘
اسرائیل ان مذاکرات میں شامل نہیں، جن کا مقصد جنگ بندی میں توسیع اور اہم امور پر مذاکرات کا آغاز ہے۔ معاہدے کے بعد ہونے والی بات چیت میں ایران کا جوہری پروگرام بھی شامل ہو گا۔
مغربی ممالک دہائیوں سے ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ایران نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا پروگرام پُرامن مقاصد جیسے تحقیق اور بجلی پیدا کرنے کے لیے ہے۔
Getty Imagesامریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے میں کیا ہو سکتا ہے؟
جمعے کی دوپہر صحافیوں کے ساتھ ایک تفصیلی بریفنگ میں امریکی حکام نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا، اس کے بدلے میں امریکہ ایرانی ساحلوں کی ناکہ بندی ختم کرے گا۔
یہ اقدامات کم و بیش فوری طور پر نافذ ہو جائیں گے۔ اس کے بعد 60 دن کی مذاکراتی مدت ہو گی جس کی توجہ ایران کے افزودہ یورینیئم پر ہو گی۔ افزودہ یورینیئم ایٹم بم بنانے کے لیے ایک اہم جزو ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے۔
امریکی حکام نے کہا کہ اگلے مذاکرات کے نتیجے میں تمام افزودہ یورینیئم کو موقع پر ہی تباہ کیا جائے گا یا پھر ملک سے باہر منتقل کر دیا جائے گا تاہم اس کا درست طریقہ کار ابھی طے ہونا باقی ہے۔
معاشی پہلو کے حوالے سے امریکی حکام نے زور دیا کہ کوئی پیشگی رقم فراہم نہیں کی جائے گی۔ یہ بظاہر اُن ایرانی میڈیا کی خبروں کی تردید ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ایران کے کچھ منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے۔
امریکی حکام نے کہا کہ ایران کو عالمی معیشت میں مرحلہ وار دوبارہ شامل کیا جائے گا، جس میں پابندیاں ہٹانے اور اثاثوں کو ممکنہ طور پر مرحلہ وار بحال کرنے جیسے اقدامات شامل ہوں گے۔
امریکی حکام کے مطابق معاہدے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خطے میں عسکری گروہوں کی مالی معاونت بند کرے جن میں لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثی شامل ہیں۔
امریکی حکام نے زور دیا کہ مفاہمتی یادداشت اعتماد یا وعدوں پر نہیں بلکہ کارکردگی پر مبنی ہے اور ایران کو معاشی فوائد اسی وقت ملیں گے جب اس بات کی تصدیق ہو گی کہ اس نے اپنے وعدوں کے مطابق اقدامات کیے ہیں۔
تمام فریقین کی جانب سے محتاط امید کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ثالثی میں پاکستان اور قطر نے مدد فراہم کی ہے تاہم ابھی کچھ فاصلہ طے کرنا باقی ہے۔ گذشتہ ایک دو ماہ میں اس معاہدے کی مختلف صورتوں کی کئی بار توقع کی گئی مگر بعد کے مراحل میں وہ آگے نہ بڑھ سکیں۔
امریکی حکام کے مطابق اب فرق یہ ہے کہ معاہدے کے مواد کے بارے میں زیادہ امید اور شفافیت موجود ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جیسے ہی مذاکرات کے آخری مراحل مکمل ہوں گے، اس معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے اور اس کا اعلان کیا جائے گا۔
عراقچی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ یہ آنے والے دنوں میں ہو سکتا ہے اور انھیں اس کی امید ہے۔
انھوں نے زور دیا کہ مفاہمتی یادداشت میں پہلا نکتہ ایران کے خلاف امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ ہے۔
جہاں تک آبی گزر گاہ آبنائے ہرمز کا تعلق ہے تو عراقچی نے کہا کہ اس کا انتظام پہلے جیسا نہیں رہے گا۔
آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے بعد ایران نے اس سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول لینے پر اصرار کیا ہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ تمام جہازوں کو آزادانہ گزرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
’کوئی پیغام یا نئی حکمت عملی‘: اسرائیل پر حملے سے ایران دنیا کو کیا بتانا چاہتا ہے؟سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ ایرانی فوجی اڈوں پر امریکی حملوں سے ہونے والے نقصان کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملے: امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں کہاں اور کیوں موجود ہے؟آبنائے ہرمز میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرنے کے بعد پائلٹوں کو سمندری ڈرون کی مدد سے کیسے بچایا گیا؟مشرقِ وسطیٰ کو ’نئی شکل دینے کے خواہاں‘ ٹرمپ اور نتین یاہو جو بظاہر ’جنگ کے نتائج پر قابو کھو چکے ہیں‘ایران اور امریکہ کے بیچ دو ماہ سے جاری ’جنگ بندی‘ مزید کتنا عرصہ برقرار رہ پائے گی؟