Pavan Jaishwalآریان اساری اپنے گاؤں میں اپنے خاندان کے ساتھ
12 جون 2025 کو جب آریان انڈیا کے شہر احمد آباد پہنچے تو انھوں نے ایک جہاز کو اڑان بھرتے دیکھا۔ 17 سالہ آریان کے لیے یہ ایک دلچسپ منظر تھا، انھوں نے ویڈیو بنانا شروع کر دی۔
دیکھتے ہی دیکھتے چند سیکنڈ میں وہ مسافر طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ ایئر انڈیا کے جہاز میں سوار 241 مسافروں سمیت مجموعی طور پر 260 افراد ہلاک ہو گئے۔
آریان کے موبائل فون سے بنائی گئی یہ ویڈیو حادثے کا واحد اہم ثبوت بن گئی۔
13 جون 2025 کو بی بی سی گجراتی نے آریان کا سراغ لگایا اور ان کا انٹرویو کیا۔ اب ایک سال بعد آریان انڈین گجرات کے ضلع سابَر کانٹھا کے گاؤں خان پور میں رہ رہے ہیں اور انھیں جہازوں کی ویڈیوز بنانے سے ڈر لگتا ہے۔
اپنے والدین اور ایک بہن کے ساتھ گاؤں میں رہنے والے آریان نے حال ہی میں 12 ویں جماعت کا امتحان پاس کیا ہے اور اب کالج جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔
بی بی سی گجراتی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انھوں نے گذشتہ ایک سال کے دوران اپنی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں بات کی، خاص طور پر علاقے میں ملنے والے اپنے نئے نام کا بھی ذکر کیا۔ آج کل ان کے دوست اور آس پاس کے لوگ انہیں ’ویڈیو بوائے‘ کے نام سے جانتے ہیں۔
Pavan Jaishwalآج کل آریان کے دوست اور آس پاس کے لوگ انہیں ’ویڈیو بوائے‘ کے نام سے جانتے ہیں
چاہے شادی کی تقریب ہو یا کالج کا کوئی پروگرام، ویڈیو دیکھنے کے بعد لوگوں کا پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ یہ کیسے بنائی گئی۔
آریان بہت پُر سکون طبیعت کے مالک ہیں اور کم بولتے ہیں۔ انھیں اپنے موبائل فون پر مختلف قسم کی ویڈیوز بنانے کا شوق ہے۔ جب بھی وہ گھر سے باہر نکلتے ہیں تو چھوٹے بڑے واقعات کی ویڈیوز اپنے موبائل فون پر ریکارڈ کرتے ہیں۔
شاید اسی عادت کی وجہ سے انھوں نے ایئر انڈیا کی پرواز 171 کو پیش آنے والے حادثے کی ویڈیو بھی ریکارڈ کر لی۔
آریان نے طیارے کی ویڈیو کیسے بنائی؟Pavan Jaishwalآریان اپنی بہن کے ساتھحد نگاہ میں کمی یا لینڈنگ میں پائلٹ کی غلطی، انڈیا میں طیارہ حادثہ جس نے کئی سوالات جنم دیےمسافر طیارے کی فائر ٹرک سے ٹکر، دو پائلٹس ہلاک: امریکہ کے ایک مصروف ایئرپورٹ پر کیا ہوا؟دو پائلٹس، ایک تابوت اور ہزاروں کلومیٹر کا سفر: جب ایک سابق صدر کی لاش نائجیریا سے خفیہ طور پر صومالیہ لائی گئیکھلونا پستول، کپڑے میں لپٹا گیند اور 600 روپے: انڈین ایئر لائنز کے ہائی جیکرز جو رکنِ اسمبلی بنے
بی بی سی گجراتی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں آریان نے بتایا کہ وہ میگھانی نگر میں اپنے گھر کی چھت پر تھے۔
انھوں نے کہا: ’میں اور میری بہن اسی وقت گاؤں سے بس کے ذریعے آئے تھے۔ میں باہر بالکونی پر کھڑا تھا اور میری بہن اندر کمرے میں تھیں۔ والد اس وقت کام پر گئے ہوئے تھے۔ میں ارد گرد کی عمارتوں کی تصاویر لے رہا تھا۔‘
آریان کا گھر ہوائی اڈے کے رن وے کے بہت قریب واقع ہے۔
انھوں نے بتایا: ’میں نے رن وے سے ایک جہاز کو اڑتے دیکھا اور تجسس کے مارے اس کی ویڈیو بنانا شروع کر دی۔ جہاز تھوڑا اوپر اٹھا اور پھر نیچے آیا، پھر ایک بار اوپر گیا اور آگے جا کر زمین پر گر گیا۔ فوراً آگ لگ گئی اور کچھ ہی لمحوں میں دھواں نظر آنے لگا۔ یہ دیکھ کر میں بہت خوف زدہ ہو گیا۔‘
اس کے بعد وہ فوراً اپنی بہن نیلم اساری کے پاس گئے اور انھیں بتایا کہ جہاز گر گیا ہے۔ جب ان کی بہن نے دیکھا تو سامنے صرف دھواں تھا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نیلم نے کہا: ’میں نے فوری طور پر اپنے والد کو فون کیا۔ وہ کچھ ہی دیر میں گھر آ گئے۔ انھوں نے ہمیں حوصلہ دیا اور کہا کہ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘
اب لوگ آریان کو ’ویڈیو بوائے‘ کہتے ہیں
تاہم، ویڈیو سامنے آنے کے بعد بی بی سی نے پہلے آریان سے رابطہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ویڈیو کے بعد سب سے پہلے ایئرپورٹ انتظامیہ کے کچھ لوگ آئے۔ انھوں نے مجھ سے ویڈیو کے بارے میں معلومات لیں اور پھر بی بی سی گجراتی کی ٹیم نے مجھ سے رابطہ کیا۔‘
اس کے بعد آریان کی ویڈیو وائرل ہو گئی اور وہ راتوں رات میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے۔
ان کے والد مگن بھائی اساری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’آریان پر میڈیا کی بہت زیادہ توجہ تھی، اس لیے ہمیں انھیں احمد آباد سے سابَر کانٹھا میں اپنے گاؤں واپس بھیجنا پڑا۔ وہ میڈیا سے بات کرتے کرتے تھک گئے تھے اور کسی سے بات کرنا بھی پسند نہیں کر رہے تھے، اس لیے ہم انھیں گاؤں لے آئے۔‘
تاہم آریان گاؤں میں بھی کافی مشہور ہو گئے۔ نیلم کہتی ہیں کہ ’سب لوگ انھیں ویڈیو بوائے کے نام سے پکارتے تھے۔‘
آریان اب جہازوں کی ویڈیوز کیوں نہیں بناتے؟BBCآریان اساری کے فون پر ریکارڈ ہونے والا احمد آباد طیارہ حادثہ
آریان نے کہا: ’سب لوگ مجھے کہہ رہے تھے کہ آپ مشہور ہو گئے ہیں۔ میرے اساتذہ نے کہا کہ میں نے بہت اچھا کام کیا ہے، میڈیا کی مدد کی ہے۔ وہ اس حادثے کی تحقیق کر رہے ہیں اور میں ان کی مدد کر رہا ہوں۔ یہ سب سن کر مجھے اچھا لگا لیکن اس واقعے کی وجہ سے مجھے دکھ بھی ہوا۔‘
اس واقعے کے بعد انھوں نے کسی جہاز کی ویڈیو نہیں بنائی۔ وہ کہتے ہیں: ’مجھے ڈر ہے کہ اگر میں کسی جہاز کی ویڈیو بناؤں گا تو وہ دوبارہ گر جائے گا اور لوگ مر جائیں گے، اس لیے میں اب جہازوں کی ویڈیوز نہیں بناتا۔‘
ان کے فون میں آخری ویڈیو احمد آباد سے اپنے گاؤں واپسی کے سفر کی ہے، جس میں انھوں نے ہائی وے کے گرد و نواح کی ہریالی اور گاڑیوں کی ویڈیوز بنائی تھیں۔
وہ کہتے ہیں ’میں حال ہی میں ایک شادی کی تقریب میں گیا تھا اور سب لوگ میرے ارد گرد جمع ہو گئے۔ ہر کوئی مجھ سے ویڈیو کے بارے میں سوال کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ میں بہت مشہور ہو گیا ہوں۔ یہ سب سن کر مجھے اچھا لگتا ہے کہ میں نے کچھ ایسا کیا ہے جو کسی اور نے نہیں کیا۔‘
’ہم اب آسمان کی طرف نہیں دیکھتے‘: جب فضا میں اُڑتا طیارہ اچانک عمارت پر آ گرا’کوئی بھی فضائی حادثہ ہو تو لوگ بغیر تحقیق پائلٹس کو مجرم بنا دیتے ہیں‘جنگ کے دوران مسافر طیاروں کی بھیڑ سنبھالنے والے ’فلائٹ کنٹرولر‘ کیسے کام کرتے ہیں؟ایئر بلیو طیارہ حادثے کے آٹھ متاثرین جنھوں نے بہتر معاوضے کے لیے طویل قانونی جنگ لڑی: ’معاملہ پیسوں کا نہیں انصاف کا تھا‘’جی پی ایس کی خاموش جنگ‘: جو پاکستان سمیت جنگ کے خطرے والے علاقوں میں پروازوں کو متاثر کر رہی ہے