Getty Images
امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا امن معاہدہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے ایک سنگین سیاسی بحران بن کر سامنے آیا ہے، کیونکہ یہ بظاہر اُن بنیادوں کو کمزور کرے گا جن پر اُن کا سیاسی کیریئر قائم ہے۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسا شخص جو خود کو واشنگٹن میں طاقت کے ایوانوں کے انتہائی قریب قرار دیتا تھا، اور جس کا دعویٰ تھا کہ وہ امریکی سیاستدانوں پر حقیقی اثر و رسوخ رکھتا ہے، اب اپنے ہی اہم اتحادی (امریکہ) کی جانب سے واضح طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے اور عوامی سطح پر (ٹرمپ کی جانب سے) تحقیر کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ وہ رہنما (نیتن یاہو) جس نے ایران کے ساتھ تصادم کو اسرائیل کی سکیورٹی پالیسی کا مرکزی نکتہ بنایا تھا، وہ اس جنگ کا اختتام ایک ایسے ایران کے ساتھ کیسے کرے گا جو ممکنہ طور پر پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہا ہے؟
سوال یہ بھی ہے کہ اسرائیل کے ’سکیورٹی کے محافظ‘ کے طور پر اُن کی جو سیاسی ساکھ ماضی میں متاثر ہوئی تھی، وہ اس نئی صورتِحال میں کیسے مزید تنزلی سے بچ پائے، جبکہ واشنگٹن اور تہران دونوں کی جانب سے اسرائیل پر یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف حملے بند کرے، وہ بھی ایسے وقت میں جب اسرائیل کے عام انتخابات میں کچھ ہی عرصہ باقی ہے؟
دوراہے پر کھڑے نیتن یاہوGetty Imagesصدر ٹرمپ پراُمید ہیں کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کے بعد خطے میں امن آئے گا اور تیل کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی
نیتن یاہو کو اس وقت جن آپشنز کا سامنا ہے، وہ کسی طرح بھی حوصلہ افزا نہیں ہیں۔
حزبِ اختلاف کے رہنما یائر لاپڈ نے پیر کے روز اسرائیلی پارلیمان میں اس صورتِحال کو کچھ یوں تبصرہ کیا کہ ’یا تو ہمارے سب سے بڑے اتحادی (امریکہ) کے ساتھ براہِ راست اور تباہ کُن تصادم، یا اسرائیلی مفادات کی عاجزانہ پسپائی۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے استعمال کیے گئے سخت اور نازیبا الفاظ پر مبنی اِس تبصرے، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ گذشتہ اتوار کے روز بیروت پر حملے کا حکم دے کر نیتن یاہو نے ناقص فیصلہ سازی کا مظاہرہ کیا، کو اُن کے سیاسی مخالفین اور میڈیا مبصرین نے آڑے ہاتھوں لیا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں صرف چند ماہ باقی ہیں۔
تاہم نیتن یاہو کی اپنی جماعت کے اراکین اور اُن کی حکومتی اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے انتہائی دائیں بازو کے وزرا کے ردعمل بھی اس دباؤ کو ظاہر کرتے ہیں جس کا انھیں (نیتن یاہو) اندرونی طور پر سامنا ہے، خاص طور پر تہران کے اس مطالبے کے بعد کہ جنگ بندی کا اطلاق ’تمام محاذوں پر جاری فوجی کارروائیوں بشمول لبنان‘ پر ہونا چاہیے۔
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیرِ قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے پیر کے روز سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’ٹرمپ کا معاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم کسی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں ہیں جو ہماری سکیورٹی کی ضمانت نہیں دیتا۔‘
نیتن یاہو کی جماعت کے رکنِ پارلیمنٹ آریل کالنر نے کہا ہے کہ ’اسرائیل اپنی حفاظت جاری رکھے گا‘ تاہم انھوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا اس کا مطلب اسرائیلی حملوں کا تسلسل ہے یا نہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم وہی کریں گے جو ہمارے لیے ضروری ہو گا، اور ہمیں امید ہے کہ ہمارے دوست اسے سمجھیں گے۔ کبھی کبھی اتحادیوں کے درمیان اختلافات ہوتے ہیں، اور اتحادیوں کو اس وقت ایک دوسرے کو سمجھنا چاہیے جب وہ خطرے میں ہوں۔‘
سابق موساد افسر اور ایران سے متعلقہ امور کی ماہر سیما شائن کا کہنا ہے کہ ’یہ سمجھنا مشکل ہے کہ امریکیوں نے اس معاہدے کو کیوں قبول کیا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کو لبنان میں فیصلہ سازی کا اختیار دے کر امریکہ دراصل ایران کو یہ موقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ حزب اللہ کی حمایت جاری رکھے اور اس کی پوزیشن لبنانی سیاست میں ایک بڑی قوت کے طور پر برقرار رکھے۔‘
اُن کے مطابق ’اسرائیل اس صورتحال سے خوش نہیں ہے، نہ اسرائیل کے سکیورٹی ادارے اور نہ ہی سیاسی قیادت۔‘
سستا تیل، گیس اور سفارتی فوائد: ایران، امریکہ معاہدے کا ’مرکزی ثالث‘ پاکستان اِس تنازع کے حل سے کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟مشرقِ وسطیٰ کو ’نئی شکل دینے کے خواہاں‘ ٹرمپ اور نتین یاہو جو بظاہر ’جنگ کے نتائج پر قابو کھو چکے ہیں‘اسرائیلی وزیراعظم اور امریکی صدور کی مشکل: ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ’تلخ‘ فون کال سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ٹرمپ نے ایران معاہدہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے کیوں جوڑا اور کیا سعودی عرب اور پاکستان انکار کر سکیں گے؟
پیر کے روز جاری کردہ اپنے بیانات میں نیتن یاہو نے واضح کیا کہ اسرائیلی افواج لبنان، شام اور غزہ کے سکیورٹی زونز میں ’جب تک ضرورت ہو‘ موجود رہیں گی، اور انھیں ان علاقوں سے کسی بھی ممکنہ حملے کے خلاف کارروائی کی مکمل آزادی حاصل رہے گی۔
انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت، چاہے معاہدہ ہو یا نہ ہو، جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
نیتن یاہو نے یہ بیانات ایسے وقت میں دیے ہیں جب لبنانی میڈیا نے جنوبی لبنان میں ایک گاڑی پر اسرائیلی حملے کی خبر دی ہے، اس حملے کو امن معاہدے کے اعلان کے بعد اسرائیل کی جانب سے کیا گیا پہلا مہلک حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے کے جواب میں انھوں نے اسرائیلی افواج پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
سکیورٹی کئی دہائیوں سے نیتن یاہو کے انتخابی بیانیے کا بنیادی ستون رہی ہے، تاہم اب یہ پیغام دینا اُن کے لیے دشوار تر ہوتا جا رہا ہے۔
سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے بعد سے نیتن یاہو کا ردعمل اسرائیلی سکیورٹی پالیسی کو زیادہ جارحانہ رُخ دینے پر مبنی تھا، یعنی خطرات کو محض روکنے کے بجائے پہلے سے بھانپ کر اُن کا سدباب کرنا۔
اس بحران کے حل کے طور پر انھوں نے اسرائیل کو درپیش خطرات کا خاتمہ کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کو بدلنے کی حکمت عملی اپنائی۔
اگرچہ اسرائیلی افواج نے غزہ کے بڑے حصے کو تباہ و برباد کر دیا ہے اور غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اس جنگ میں اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، مگر اس کے باوجود حماس اب بھی علاقے کے تقریباً نصف حصے پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے اور وہاں اپنی طاقت کا اظہار کرتی رہتی ہے۔
دوسری جانب، امریکہ کی ثالثی میں تیار کردہ غزہ امن منصوبہ تاحال تعطل کا شکار ہے، یہ صورتحال اُس وقت بھی برقرار ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کو آٹھ ماہ گزر چکے ہیں۔
خطرے کے دہانے پر موجود حکمتِ عملیGetty Images
نیتن یاہو کے سکیورٹی سے متعلق نئے نقطۂ نظر کے نتیجے میں اسرائیلی افواج نے غزہ، لبنان اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کیا ہے۔
اس اقدام کو اسرائیل کے بہت سے شہریوں کی حمایت حاصل ہے اور اس بات کا امکان کم ہے کہ اسرائیل میں عام انتخابات سے قبل سکیورٹی سے متعلق اس نئے نقطہ نظر کی حمایت کا خاتمہ ہو گا، تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدام اسرائیلی فوجی وسائل اور ریزرو اہلکاروں کو حد سے زیادہ دباؤ میں بھی لے آیا ہے۔
حزب اللہ اور ایرانی حکومت کے ساتھ بارہا ہونے والے تصادم کے باوجود اسرائیل اپنے بنیادی دشمنوں کا خاتمہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس کے برعکس، ان جھڑپوں نے تہران میں زیادہ سخت گیر قیادت کو مضبوط کر دیا ہے، جو امریکہ اور اسرائیل کی طاقت سے کم خوفزدہ ہے اور آبنائے ہرمز کے اُس پار اپنا اثر و رسوخ مزید بڑھا چکی ہے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ اسرائیل کا سب سے بڑا دشمن بظاہر اس کے اہم ترین اتحادی (امریکہ) پر اثر انداز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
اسرائیل انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز کے ایران سے متعلق ماہر ڈینی سیٹرینووِچ کے مطابق 'اسرائیل کی ناکامی اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ تہران کے حوالے سے اپنی حکمتِ عملی کا ازسرنو جائزہ لے۔ ملک کو زیادہ حقیقت پسندانہ اور معتدل ترجیحات وضح کرنا ہوں گی۔'
انھوں نے اخبار ’اسرائیل حیوم‘ کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں کہا ’اسرائیل کی جانب سے کوئی بھی فوجی اقدام، جسے واشنگٹن میں معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش سمجھا جائے، متوقع طور پر سخت امریکی ردعمل کا سامنا کرے گا۔‘
انھوں نے مزید نشاندہی کی کہ ’اوباما دور کے برعکس، جب بنیامین نیتن یاہو کانگریس اور امریکی عوامی رائے عامہ کی حمایت حاصل کر کے وائٹ ہاؤس کو بائی پاس کرنے کی کوشش کر سکتے تھے، اِس وقت (یعنی ٹرمپ کے دور میں) ایسی گنجائش تقریباً موجود نہیں ہے۔‘
اسرائیلی ووٹرز کے سامنے نیتن یاہو کا دیرینہ مؤقف یہ رہا ہے کہ اُن کی پالیسیاں اور سیاسی مہارت علاقائی خطرات کے خلاف بہترین تحفظ فراہم کرتی ہیں، تاہم حالیہ واقعات کی روشنی میں یہ دعویٰ تیزی سے پس منظر میں جا رہا ہے۔
ایران میں حکومت کی ممکنہ تبدیلی نیتن یاہو کے سیاسی تشخص اور انتخابی بیانیے کو سہارا دے سکتی تھی۔
اس کے برعکس، اُن کی نئی سکیورٹی حکمت عملی نے انھیں ایک ایسے انتخاب کے سامنے لا کھڑا کیا ہے جہاں انھیں تصادم یا پسپائی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا، اور حیران کن طور پر یہ کشمکش کسی دشمن کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے ہی سب سے بڑے اتحادی کے ہاتھوں درپیش ہے۔
سستا تیل، گیس اور سفارتی فوائد: ایران، امریکہ معاہدے کا ’مرکزی ثالث‘ پاکستان اِس تنازع کے حل سے کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟ٹرمپ کی خواہش کے راستے میں تہران اور نیتن یاہو کیسے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں؟محمود احمدی نژاد ایران جنگ کا سب سے عجیب معمہ کیسے بنے؟ایرانی کشتیوں کے ’مچھر بیڑے‘ نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کو کیسے مشکل میں ڈالا؟لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز: ایران جنگ میں امریکہ کے فضائی نقصانات سے متعلق کانگریس کی رپورٹ میں کیا ہے؟ٹرمپ کا بیان، اسرائیلی تحفظات اور تہران کا پاکستان کو پیغام: ایران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ معاہدے کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟