Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے
اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے
زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے

یہ ہنستا ہوا چاند یہ پر نور ستارے
تابندہ و پایندہ ہیں ذروں کے سہارے

حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے
ارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے

ہر صبح مری صبح پہ روتی رہی شبنم
ہر رات مری رات پہ ہنستے رہے تارے

کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں
کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
مسکرا کر چلو کھلکھلا کر چلو
مسکرا کر چلو کھلکھلا کر چلو
دل کسی کا مگر نہ دکھا کر چلو
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے
اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے
کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے

عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے

وہ مرحلہ ہے کہ اب سیل خوں پہ راضی ہیں
ہم اس زمین کو شاداب دیکھنے کے لیے

جو ہو سکے تو ذرا شہ سوار لوٹ کے آئیں
پیادگاں کو ظفر یاب دیکھنے کے لیے

کہاں ہے تو کہ یہاں جل رہے ہیں صدیوں سے
چراغ دیدہ و محراب دیکھنے کے لیے
تو دل شکن ہے پر یارو
تو دل شکن ہے پر یارو
عقل سچی تھی عشق جھوٹا تھا
خوشیوں بھرا ہر سال تمہارا ہو یہ آج یہ کل تمہارا ہو
خوشیوں بھرا ہر سال تمہارا ہو یہ آج یہ کل تمہارا ہو
کریں جو چاند ستارے گفتگو تو باتوں میں بھی انکی
Main Tera Muntazir Hoon Mujhy Muskura K Mil
Main Tera Muntazir Hoon Mujhy Muskura K Mil
Kab Tak Tujhy Talaash Kroon Ab Aa K Mil
Qaafley Se Bhrosa Uthana Para
Qaafley Se Bhrosa Uthana Para
Apna Rasta Mujhe Khud Banana Para
Hum Ne Tujhe Dekha Nahi Kya Eid Manaen
Hum Ne Tujhe Dekha Nahi Kya Eid Manaen
jis ne tujhe dekha ho use Eid Mubarak
چاند کی دُوری
چاند کی دُوری ! وہ تیرے پاس
اب شرما کر نہ کہہ دینا ! تارے توڑ لاؤ
کسی اور کا اس کو ہونے نہ دوں گا
کسی اور کا اس کو ہونے نہ دوں گا یہ پیمان اپنا نبھانے چلا ہوں
اسے صرف اپنا بنا کر میں جہاں بھر سے جھگڑا مٹانے چلا ہوں
بحث کیوں ہے کافر و دیں دار کی
بحث کیوں ہے کافر و دیں دار کی
سب ہے قدرت داور دوار کی
خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئے
خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئے
یہ تماشا اب سر بازار ہونا چاہئے

خواب کی تعبیر پر اصرار ہے جن کو ابھی
پہلے ان کو خواب سے بیدار ہونا چاہئے

ڈوب کر مرنا بھی اسلوب محبت ہو تو ہو
وہ جو دریا ہے تو اس کو پار ہونا چاہئے

اب وہی کرنے لگے دیدار سے آگے کی بات
جو کبھی کہتے تھے بس دیدار ہونا چاہئے

بات پوری ہے ادھوری چاہئے اے جان جاں
کام آساں ہے اسے دشوار ہونا چاہئے

دوستی کے نام پر کیجے نہ کیونکر دشمنی
کچھ نہ کچھ آخر طریق کار ہونا چاہئے

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔ
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہئے
بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے
بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے
اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے

چمک رہا ہے افق تک غبار تیرہ شبی
کوئی چراغ سفر پر روانہ ہو گیا ہے

ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی
ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے

غرض کہ پوچھتے کیا ہو مآل سوختگاں
تمام جلنا جلانا فسانہ ہو گیا ہے

فضائے شوق میں اس کی بساط ہی کیا تھی
پرند اپنے پروں کا نشانہ ہو گیا ہے

کسی نے دیکھے ہیں پت جھڑ میں پھول کھلتے ہوئے
دل اپنی خوش نظری میں دوانہ ہو گیا ہے
Each Year Your Birthday Reminds Me That I Really Want To Say
Each Year Your Birthday Reminds Me, That I Really Want To Say
I'm Very Glad I Know You, I Think Of You Each Day.
Mat Kar Nahin Nahin Ye Wakat Ni Nahin Ka
Mat Kar Nahin Nahin Ye Wakat Ni Nahin Ka,
Tery Is Nahin Nahin Ne Ham Ko Chora Ni Kahin Ka
They speak lies in this manner
They speak lies in this manner
Like it is an obligation
ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم
ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم
کسی کے ڈر سے تقاضا نہیں بدلتے ہم

ہزار زیر قدم راستہ ہو خاروں کا
جو چل پڑیں تو ارادہ نہیں بدلتے ہم

اسی لیے تو نہیں معتبر زمانے میں
کہ رنگ صورت دنیا نہیں بدلتے ہم

ہوا کو دیکھ کے جالبؔ مثال ہم عصراں
بجا یہ زعم ہمارا نہیں بدلتے ہم
ہر سال ہی آتا ہے یہ اِک خوشگوار دن
ہر سال ہی آتا ہے یہ اِک خوشگوار دن
دعا ہے یہ ہم سب کی کہ آتا رہے سدا

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.