Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

Phool khilte rahein zindgi ki raah mein
Phool khilte rahein zindgi ki raah mein, hassi chamakti rahe aapki nigaah mein
Kadam kadam par mile khushi ki bahar aapko, Dil deta hai yehi dua baar-baar aapko.
شراب
کیوں ڈھونڈتا پھرتا ہے پینے کو تو شراب
حرام شے ہے یہ اِسکی کوئی جگہ ہی نہیں
تیرے قریب آکے بڑی الجھنوں میں ہوں میں دشمنوں میں ہوں کہ ترے دوستوں میں ہوں
تیرے قریب آکے بڑی الجھنوں میں ہوں
میں دشمنوں میں ہوں کہ ترے دوستوں میں ہوں
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
Lost my paradise
Lost my paradise And I got no look Even her last
A pain from the past Is still alive In my heart
The one who cares for you
The one who cares for you
Her complete self she shares for you.
اقبال کا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
اب تیرا بھی دور آنے کو ہے اے فقرِ غیّور
کھا گئی روحِ فرنگی کو ہوائے سیم و زر
اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے
اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے
کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے

عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے

وہ مرحلہ ہے کہ اب سیل خوں پہ راضی ہیں
ہم اس زمین کو شاداب دیکھنے کے لیے

جو ہو سکے تو ذرا شہ سوار لوٹ کے آئیں
پیادگاں کو ظفر یاب دیکھنے کے لیے

کہاں ہے تو کہ یہاں جل رہے ہیں صدیوں سے
چراغ دیدہ و محراب دیکھنے کے لیے
تم جاؤ بڑے شوق سے منہ موڑ کے جاؤ
تم جاؤ بڑے شوق سے منہ موڑ کے جاؤ
افسوس نہیں دل کو مرے توڑ کے جاؤ
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے اک کھیل ہے اورنگ سلیماں مرے نزدیک اک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے جز نام نہیں صورت عالم مجھے منظور جز وہم نہیں ہستیٔ اشیا مرے آگے ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے سچ کہتے ہو خودبین و خود آرا ہوں نہ کیوں ہوں بیٹھا ہے بت آئنہ سیما مرے آگے پھر دیکھیے انداز گل افشانیٔ گفتار رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے نفرت کا گماں گزرے ہے میں رشک سے گزرا کیوں کر کہوں لو نام نہ ان کا مرے آگے ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام مجنوں کو برا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے آئی شب ہجراں کی تمنا مرے آگے ہے موجزن اک قلزم خوں کاش یہی ہو
آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا
غالبؔ کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
ہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے

پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا
زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے

مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ
کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے

ہمیشہ رنگ زمانہ بدلتا رہتا ہے
سفید رنگ ہیں آخر سیاہ مو کرتے

لٹاتے دولت دنیا کو میکدے میں ہم
طلائی ساغر مے نقرئی سبو کرتے

ہمیشہ میں نے گریباں کو چاک چاک کیا
تمام عمر رفوگر رہے رفو کرتے

جو دیکھتے تری زنجیر زلف کا عالم
اسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے

بیاض گردن جاناں کو صبح کہتے جو ہم
ستارۂ سحری تکمۂ گلو کرتے

یہ کعبے سے نہیں بے وجہ نسبت رخ یار
یہ بے سبب نہیں مردے کو قبلہ رو کرتے

سکھاتے نالۂ شبگیر کو در اندازی
غم فراق کا اس چرخ کو عدو کرتے

وہ جان جاں نہیں آتا تو موت ہی آتی
دل و جگر کو کہاں تک بھلا لہو کرتے

نہ پوچھ عالم برگشتہ طالعی آتشؔ
برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے
Apni Baton Mn Mere Naam Ke Hawle Likhna Ay Dost
Apni Baton Mn Mere Naam Ke Hawle Likhna Ay Dost
Mn Tujse Door Hn Khud Ko Sanbhale Rkhna
Waqt ke samandar ko tair kar jana hai
Waqt ke samandar ko tair kar jana hai,
Fir ek din kanaaron pe aakar doob jana hai...
Tere Ishq Ka Yeh Kitna Haseen Ehsas Hai
Tere Ishq Ka Yeh Kitna Haseen Ehsas Hai,
Lagta Hai Jaise Tu Har Pal Mere Paas Hai
رہا کر مجھے یا سزا دے اے قاضی
رہا کر مجھے یا سزا دے اے قاضی کوئی فیصلہ تو سنا دے اے قاضی
اسیری میں جینا ہے توہین میری مجھے دار پر تو چڑھا دے اے قاضی
دلوں سے خوف خالق کا گیا
دلوں سے خوف خالق کا گیا تو زلزلے آئے زمیں پر بوجھ پاپوں کا بڑھا تو زلزلے آئے
خدا نے جن کے ماتھوں پر لگائی مہر سارِق کی رِعایا نے اُنْھیں حاکم چنا تو زلزلے آئے
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیونکر
اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیونکر
مجھے معلوم کیا وہ رازداں تیرا ہے یا میرا
یہ ہے خلاصۂ علم قلندری کہ حیات
یہ ہے خلاصۂ علم قلندری کہ حیات
خدنگ جستہ ہے لیکن کماں سے دور نہیں
خود سے مایوس ہو کے بیٹھا ہوں
خود سے مایوس ہو کے بیٹھا ہوں
آج ہر شخص مر گیا ہوگا

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.