Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

Qaafley Se Bhrosa Uthana Para
Qaafley Se Bhrosa Uthana Para
Apna Rasta Mujhe Khud Banana Para
راہ دور عشق میں روتا ہے کیا
راہ دور عشق میں روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
Rafta Rafta Hawae'n Rukh Badil Rahi Hain Apna
Rafta Rafta Hawae'n Rukh Badil Rahi Hain Apna
Tum Bhi Sambhal Jao Iss Baarish Say Pehly
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا کوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے وگرنہ خوف بد آموزی عدو کیا ہے چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن ہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز سوائے بادۂ گلفام مشک بو کیا ہے پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار
یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے

رہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے

ہوا ہے شہہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے
پوچھو مجھ سے میرے ملک میں کیا ہے
پوچھو مجھ سے میرے ملک میں کیا ہے
وسائل تو بہت ہیں مگر مہیا ہمیں کیا ہے
Bar Bar Barasnay Se Kia Hasil?
Bar Bar Barasnay Se Kia Hasil?
Ik Bar Baras Jao Muhabbat Ban Kar
تجھ کو بھولا نہیں وہ شخص کہ جو
تجھ کو بھولا نہیں وہ شخص کہ جو
تیری بانہوں میں بھی اکیلا تھا
​Jab Madine ki Faza me Be-qarar Aa Jayega
​Jab Madine ki Faza me Be-qarar Aa Jayega
Tab Naseem-e-Faiz se Dil ko Qarar Aa Jayega
بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے
بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے
اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے

چمک رہا ہے افق تک غبار تیرہ شبی
کوئی چراغ سفر پر روانہ ہو گیا ہے

ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی
ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے

غرض کہ پوچھتے کیا ہو مآل سوختگاں
تمام جلنا جلانا فسانہ ہو گیا ہے

فضائے شوق میں اس کی بساط ہی کیا تھی
پرند اپنے پروں کا نشانہ ہو گیا ہے

کسی نے دیکھے ہیں پت جھڑ میں پھول کھلتے ہوئے
دل اپنی خوش نظری میں دوانہ ہو گیا ہے
Yaad Mehboob Ki Aur Sardi Urooj Ki,
Yaad Mehboob Ki Aur Sardi Urooj Ki,
Dekhte Hain Aaj Humein Kaun Bimar Karta Hai
اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں
اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں
تخت پر بیٹھے ہیں یوں جیسے اترنا ہی نہیں

یوں مہ و انجم کی وادی میں اڑے پھرتے ہیں وہ
خاک کے ذروں پہ جیسے پاؤں دھرنا ہی نہیں

ان کا دعویٰ ہے کہ سورج بھی انہی کا ہے غلام
شب جو ہم پر آئی ہے اس کو گزرنا ہی نہیں

کیا علاج اس کا اگر ہو مدعا ان کا یہی
اہتمام رنگ و بو گلشن میں کرنا ہی نہیں

ظلم سے ہیں برسر پیکار آزادی پسند
ان پہاڑوں میں جہاں پر کوئی جھرنا ہی نہیں

دل بھی ان کے ہیں سیہ خوراک زنداں کی طرح
ان سے اپنا غم بیاں اب ہم کو کرنا ہی نہیں

انتہا کر لیں ستم کی لوگ ابھی ہیں خواب میں
جاگ اٹھے جب لوگ تو ان کو ٹھہرنا ہی نہیں
Ek Chingaari Bechari Kahin Jal Bhuj Rahi Hai
Ek Chingaari Bechari Kahin Jal Bhuj Rahi Hai
Dil Ki Ye Rahdaari Kahin Jal Bhuj Rahi Hai
December Jab Bhai Ata Hai Yehe Anjaam Hota Ha
December Jab Bhai Ata Hai Yehe Anjaam Hota Ha
Kabhi Khansi, Kabhi Nazla, Kabi Zukhaam Hota Ha
Ishq Ne Galib Nakama Kar Diya
Ishq Ne Galib Nakama Kar Diya
Varna Pehle Hum Bhi Dahi Le Aate The
مجھ کو نہیں معلوم
مجھ کو نہیں معلوم حقیقی عشق کا
انجان بے خبر ہوں اور دیکھا نہ کر مجھے
چڑیا چھو چھو کرتی دانے كے لیے
چڑیا چھو چھو کرتی دانے كے لیے
میری دوست روتی ہے برتھ ڈے منانے كے لیے
Wo Bar Bar Es Leye Yaad Atay Hein
Wo Bar Bar Es Leye Yaad Atay Hein
Unhein Hum Kabhi Bhla Ju Na Paye
مدتوں بعد گھر گیا تھا میں
مدتوں بعد گھر گیا تھا میں
جاتے ہی میں وہاں سے ڈر آیا
ملا جو موقع تو روک دوں گا جلالؔ روز حساب تیرا
ملا جو موقع تو روک دوں گا جلالؔ روز حساب تیرا
پڑھوں گا رحمت کا وہ قصیدہ کہ ہنس پڑے گا عتاب تیرا

یہی تو ہیں دو ستون محکم انہیں پہ قائم ہے نظم عالم
یہی تو ہے راز خلد و آدم نگاہ میری شباب تیرا

صبا تصدق ترے نفس پر چمن ترے پیرہن پہ قرباں
نسیم دوشیزگی میں کیسا بسا ہوا ہے شباب تیرا

تمام محفل کے روبرو گو اٹھائیں نظریں ملائیں آنکھیں
سمجھ سکا ایک بھی نہ لیکن سوال میرا جواب تیرا

ہزار شاخیں ادا سے لچکیں ہوا نہ تیرا سا لوچ پیدا
شفق نے کتنے ہی رنگ بدلے ملا نہ رنگ شباب تیرا

ادھر مرا دل تڑپ رہا ہے تری جوانی کی جستجو میں
ادھر مرے دل کی آرزو میں مچل رہا ہے شباب تیرا

کرے گی دونوں کا چاک پردہ رہے گا دونوں کو کر کے رسوا
یہ شورش ذوق دید میری یہ اہتمام حجاب تیرا

جڑیں پہاڑوں کی ٹوٹ جاتیں فلک تو کیا عرش کانپ اٹھتا
اگر میں دل پر نہ روک لیتا تمام زور شباب تیرا

بھلا ہوا جوشؔ نے ہٹایا نگاہ کا چشم تر سے پردہ
بلا سے جاتی رہیں گر آنکھیں کھلا تو بند نقاب تیرا
Aarzo Dil Me Thame Bethen Hain Teri
Aarzo Dil Me Thame Bethen Hain Teri
Dua E Rab Ha Zaib Mil Jaye Sangat Teri

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.