Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

Ishq Ne Galib Nakama Kar Diya
Ishq Ne Galib Nakama Kar Diya
Varna Pehle Hum Bhi Dahi Le Aate The
Aaj dekha hai tujh ko dair ke bad
Aaj dekha hai tujh ko dair ke bad,
Aaj ka din guzar na jaae kahin.
Kuch To Boly Ga Wo Bhi Jawab M
Kuch To Boly Ga Wo Bhi Jawab Mai
Ya Bat Hai To Chalo Bat Kr Ky Dykhty Hn
چڑھتے چڑھتے کسی پہاڑی پر
چڑھتے چڑھتے کسی پہاڑی پر
اب وہ کروٹ بدل رہی ہوگی
اور اب یہ کہتا ہوں یہ جرم تو روا رکھتا
اور اب یہ کہتا ہوں یہ جرم تو روا رکھتا
میں عمر اپنے لیے بھی تو کچھ بچا رکھتا

خیال صبحوں کرن ساحلوں کی اوٹ سدا
میں موتیوں جڑی بنسی کی لے جگا رکھتا

جب آسماں پہ خداؤں کے لفظ ٹکراتے
میں اپنی سوچ کی بے حرف لو جلا رکھتا

ہوا کے سایوں میں ہجر اور ہجرتوں کے وہ خواب
میں اپنے دل میں وہ سب منزلیں سجا رکھتا

انہیں حدوں تک ابھرتی یہ لہر جس میں ہوں میں
اگر میں سب یہ سمندر بھی وقت کا رکھتا

پلٹ پڑا ہوں شعاعوں کے چیتھڑے اوڑھے
نشیب زینۂ ایام پر عصا رکھتا

یہ کون ہے جو مری زندگی میں آ آ کر
ہے مجھ میں کھوئے مرے جی کو ڈھونڈتا رکھتا

غموں کے سبز تبسم سے کنج مہکے ہیں
سمے کے سم کے ثمر ہیں میں اور کیا رکھتا

کسی خیال میں ہوں یا کسی خلا میں ہوں
کہاں ہوں کوئی جہاں تو مرا پتا رکھتا

جو شکوہ اب ہے یہی ابتدا میں تھا امجدؔ
کریم تھا مری کوشش میں انتہا رکھتا
Africa Main Ek Kaly Shohar Nay
Africa Main Ek Kaly Shohar Nay Apni Kali Biwi Ko Kali Rat Main
Kaly Samandar Kay Pas Bary Pyar Say Pocha Darling Bethi Ho Ya Chali Gai
جہاں دیکھو عشق کے بیمار بیٹھے ہیں
جہاں دیکھو عشق کے بیمار بیٹھے ہیں
ہزاروں مر کر بھی لاکھوں تیار بیٹھے ہیں
Ab Udas Phirte Ho Sardiyon Ki Shamon Mein
Ab Udas Phirte Ho Sardiyon Ki Shamon Mein
Is Tarha To Hota Hai Is Tarha Ke Kamoon Main
Log Ishq Kartay Hain Baray Shor Kay Sath Humne Bhi Kia Bare Zor Kay Sath
Log Ishq Kartay Hain Baray Shor Kay Sath Humne Bhi Kia Bare Zor Kay Sath
Lakin Ab Karain Gay Thoray Ghor Kay Sath Kyunke Kal Usay Dekha Kisi Aur Kay Sath
آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم
آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم
اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ
وہ لوگ میرے بہت پیار کرنے والے تھے
وہ لوگ میرے بہت پیار کرنے والے تھے
گزر گئے ہیں جو موسم گزرنے والے تھے

نئی رتوں میں دکھوں کے بھی سلسلے ہیں نئے
وہ زخم تازہ ہوئے ہیں جو بھرنے والے تھے

یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کی
کہ اب تو جا کے کہیں دن سنورنے والے تھے

ہزار مجھ سے وہ پیمان وصل کرتا رہا
پر اس کے طور طریقے مکرنے والے تھے

تمہیں تو فخر تھا شیرازہ بندیٔ جاں پر
ہمارا کیا ہے کہ ہم تو بکھرنے والے تھے

تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں
وہ رنگ اتر ہی گئے جو اترنے والے تھے

اس ایک چھوٹے سے قصبے پہ ریل ٹھہری نہیں
وہاں بھی چند مسافر اترنے والے تھے
Tujh Ko Nikaal Kar Dekha Hai
Tujh Ko Nikaal Kar Dekha Hai,
Mere Andar Kuch Nahi Bachta
Jabin-E-Naaz Jhukti Hai To Bas Mabood Ke Age
Jabin-E-Naaz Jhukti Hai To Bas Mabood Ke Age
Main Sajda Maa Ko Kar Deta Agar Ye Kufr Na Hota
رہا کر مجھے یا سزا دے اے قاضی
رہا کر مجھے یا سزا دے اے قاضی کوئی فیصلہ تو سنا دے اے قاضی
اسیری میں جینا ہے توہین میری مجھے دار پر تو چڑھا دے اے قاضی
زحال مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں
زحال مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں

شبان ہجراں دراز چوں زلف و روز وصلت چوں عمر کوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم بہ برد تسکیں
کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں

چوں شمع سوزاں چوں ذرہ حیراں ز مہر آں مہ بگشتم آخر
نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں نہ آپ آوے نہ بھیجے پتیاں

بحق آں مہ کہ روز محشر بداد مارا فریب خسروؔ
سپیت من کے دورائے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کی کھتیاں
Each Year Your Birthday Reminds Me That I Really Want To Say
Each Year Your Birthday Reminds Me, That I Really Want To Say
I'm Very Glad I Know You, I Think Of You Each Day.
December Jab Bhai Ata Hai Yehe Anjaam Hota Ha
December Jab Bhai Ata Hai Yehe Anjaam Hota Ha
Kabhi Khansi, Kabhi Nazla, Kabi Zukhaam Hota Ha
Tumhare shehr ka musam bara suhana lage
Tumhare shehr ka musam bara suhana lage,
Main aik sham chura lon agr bora na lage.
اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا
اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا
جس پر تیرا نام لکھا ہے اس تارے کو ڈھونڈوں گا

تم بھی ہر شب دیا جلا کر پلکوں کی دہلیز پہ رکھنا
میں بھی روز اک خواب تمہارے شہر کی جانب بھیجوں گا

ہجر کے دریا میں تم پڑھنا لہروں کی تحریریں بھی
پانی کی ہر سطر پہ میں کچھ دل کی باتیں لکھوں گا

جس تنہا سے پیڑ کے نیچے ہم بارش میں بھیگے تھے
تم بھی اس کو چھو کے گزرنا میں بھی اس سے لپٹوں گا

خواب مسافر لمحوں کے ہیں ساتھ کہاں تک جائیں گے
تم نے بالکل ٹھیک کہا ہے میں بھی اب کچھ سوچوں گا

بادل اوڑھ کے گزروں گا میں تیرے گھر کے آنگن سے
قوس قزح کے سب رنگوں میں تجھ کو بھیگا دیکھوں گا

بے موسم بارش کی صورت دیر تلک اور دور تلک
تیرے دیار حسن پہ میں بھی کن من کن من برسوں گا

شرم سے دہرا ہو جائے گا کان پڑا وہ بندا بھی
باد صبا کے لہجے میں اک بات میں ایسی پوچھوں گا

صفحہ صفحہ ایک کتاب حسن سی کھلتی جائے گی
اور اسی کی لے میں پھر میں تم کو ازبر کر لوں گا

وقت کے اک کنکر نے جس کو عکسوں میں تقسیم کیا
آب رواں میں کیسے امجدؔ اب وہ چہرہ جوڑوں گا
ہنسی آتی ہے
ہنسی آتی ہے مجھے حسرت انسان پر
گناھ کرتا ھے خود ، لعنت بھیجتا ھے شیطان پر

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.