Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

تجھ کو بھولا نہیں وہ شخص کہ جو
تجھ کو بھولا نہیں وہ شخص کہ جو
تیری بانہوں میں بھی اکیلا تھا
اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے
اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے
کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے

عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے

وہ مرحلہ ہے کہ اب سیل خوں پہ راضی ہیں
ہم اس زمین کو شاداب دیکھنے کے لیے

جو ہو سکے تو ذرا شہ سوار لوٹ کے آئیں
پیادگاں کو ظفر یاب دیکھنے کے لیے

کہاں ہے تو کہ یہاں جل رہے ہیں صدیوں سے
چراغ دیدہ و محراب دیکھنے کے لیے
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
Kux Dastaras To Hai Takdir Ki Kitabat Me
Kux Dastaras To Hai Takdir Ki Kitabat Me
Jo Badalni Hoti Hai Khuda Ki Ibadat Me
قرب جاناں کا نہ مے خانے کا موسم آیا
قرب جاناں کا نہ مے خانے کا موسم آیا
پھر سے بے صرفہ اجڑ جانے کا موسم آیا

کنج غربت میں کبھی گوشۂ زنداں میں تھے ہم
جان جاں جب بھی ترے آنے کا موسم آیا

اب لہو رونے کی خواہش نہ لہو ہونے کی
دل زندہ ترے مر جانے کا موسم آیا

کوچۂ یار سے ہر فصل میں گزرے ہیں مگر
شاید اب جاں سے گزر جانے کا موسم آیا

کوئی زنجیر کوئی حرف خرد لے آیا
فصل گل آئی کہ دیوانے کا موسم آیا

سیل خوں شہر کی گلیوں میں در آیا ہے فرازؔ
اور تو خوش ہے کہ گھر جانے کا موسم آیا
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
The one who cares for you
The one who cares for you
Her complete self she shares for you.
Dulhan Ke Laal Jode Me Tu Kaisi Lagegi
Dulhan Ke Laal Jode Me Tu Kaisi Lagegi
Khawon Me Jaisa Maine Deka Bilkul Vaisi Lagegi
دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے

زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

تمہارے شہیدوں میں داخل ہوئے ہیں
گل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے

بہار آئی ہے نشہ میں جھومتے ہیں
مریدان پیر مغاں کیسے کیسے

عجب کیا چھٹا روح سے جامۂ تن
لٹے راہ میں کارواں کیسے کیسے

تپ ہجر کی کاہشوں نے کئے ہیں
جدا پوست سے استخواں کیسے کیسے

نہ مڑ کر بھی بے درد قاتل نے دیکھا
تڑپتے رہے نیم جاں کیسے کیسے

نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارا
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے

بہار گلستاں کی ہے آمد آمد
خوشی پھرتے ہیں باغباں کیسے کیسے

توجہ نے تیری ہمارے مسیحا
توانا کئے ناتواں کیسے کیسے

دل و دیدۂ اہل عالم میں گھر ہے
تمہارے لیے ہیں مکاں کیسے کیسے

غم و غصہ و رنج و اندوہ و حرماں
ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے

ترے کلک قدرت کے قربان آنکھیں
دکھائے ہیں خوش رو جواں کیسے کیسے

کرے جس قدر شکر نعمت وہ کم ہے
مزے لوٹتی ہے زباں کیسے کیسے
Rehna Pal Pal Dhyan Mein
Rehna Pal Pal Dhyan Mein
Milna Eid Ke Eid Mein
تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے
تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے
کچھ بھنور ڈوب گئے پانی میں چکراتے ہوئے

ہم نے تو رات کو دانتوں سے پکڑ کر رکھا
چھینا جھپٹی میں افق کھلتا گیا جاتے ہوئے

میں نہ ہوں گا تو خزاں کیسے کٹے گی تیری
شوخ پتے نے کہا شاخ سے مرجھاتے ہوئے

حسرتیں اپنی بلکتیں نہ یتیموں کی طرح
ہم کو آواز ہی دے لیتے ذرا جاتے ہوئے

سی لیے ہونٹ وہ پاکیزہ نگاہیں سن کر
میلی ہو جاتی ہے آواز بھی دہراتے ہوئے
پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو
پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو
رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ
Zara Lab Hila Day Agar To Hai Zindah
Zara Lab Hila Day Agar To Hai Zindah
Koi To Sada Day Agar To Hai Zindah
اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں
اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں
تخت پر بیٹھے ہیں یوں جیسے اترنا ہی نہیں

یوں مہ و انجم کی وادی میں اڑے پھرتے ہیں وہ
خاک کے ذروں پہ جیسے پاؤں دھرنا ہی نہیں

ان کا دعویٰ ہے کہ سورج بھی انہی کا ہے غلام
شب جو ہم پر آئی ہے اس کو گزرنا ہی نہیں

کیا علاج اس کا اگر ہو مدعا ان کا یہی
اہتمام رنگ و بو گلشن میں کرنا ہی نہیں

ظلم سے ہیں برسر پیکار آزادی پسند
ان پہاڑوں میں جہاں پر کوئی جھرنا ہی نہیں

دل بھی ان کے ہیں سیہ خوراک زنداں کی طرح
ان سے اپنا غم بیاں اب ہم کو کرنا ہی نہیں

انتہا کر لیں ستم کی لوگ ابھی ہیں خواب میں
جاگ اٹھے جب لوگ تو ان کو ٹھہرنا ہی نہیں
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر
تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہا
تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہا
دل میں ترے وہ ذوق محبت نہیں رہا

پھر نغمہ ہائے قم تو فضا میں ہیں گونجتے
تو ہی حریف ذوق سماعت نہیں رہا

آئیں کہاں سے آنکھ میں آتش چکانیاں
دل آشنائے سوز محبت نہیں رہا

گل ہائے حسن یار میں دامن کش نظر
میں اب حریص گلشن جنت نہیں رہا

شاید جنوں ہے مائل فرزانگی مرا
میں وہ نہیں وہ عالم وحشت نہیں رہا

ممنون ہوں میں تیرا بہت مرگ ناگہاں
میں اب اسیر گردش قسمت نہیں رہا

جلوہ گہہ خیال میں وہ آ گئے ہیں آج
لو میں رہین زحمت خلوت نہیں رہا

کیا فائدہ ہے دعوئے عشق حسین سے
سر میں اگر وہ شوق شہادت نہیں رہا
Tere Furaq Mai Taras Gai Hai Tere Furaq K Wasty
Tere Furaq Mai Taras Gai Hai, Tere Furaq K Wasty
Ghum Bhut Hai Zindgi Mai Pr, Tere Hijar K Waste Te
زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا
زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا
طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی
Happiness is far away
Happiness is far away
from the mills of my pain
تم ہتھیلی کو مرے پیار کی مہندی سے رنگو
تم ہتھیلی کو مرے پیار کی مہندی سے رنگو
اپنی آنکھوں میں مرے نام کا کاجل کر دو

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.