Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

Tere Ishq Ka Yeh Kitna Haseen Ehsas Hai
Tere Ishq Ka Yeh Kitna Haseen Ehsas Hai,
Lagta Hai Jaise Tu Har Pal Mere Paas Hai
Aai Eid Wa Dil Mine Nahi Kuch Hwa e Eid
Aai Eid Wa Dil Mine Nahi Kuch Hwa e Eid
Ay Kaash Mere Paas Tu Aata Baja e eid
Each Year Your Birthday Reminds Me That I Really Want To Say
Each Year Your Birthday Reminds Me, That I Really Want To Say
I'm Very Glad I Know You, I Think Of You Each Day.
خوشیوں بھرا ہر سال تمہارا ہو یہ آج یہ کل تمہارا ہو
خوشیوں بھرا ہر سال تمہارا ہو یہ آج یہ کل تمہارا ہو
کریں جو چاند ستارے گفتگو تو باتوں میں بھی انکی
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
Khushi Hai Sab Ko Roz-e-Eid Ki Yaan
Khushi Hai Sab Ko Roz-e-Eid Ki Yaan
hue hain mil ke baham ashna khush
ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم
ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم
کسی کے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلوم

یقیں تو یہ ہے وہ خط کا جواب لکھیں گے
مگر نوشتۂ قسمت کسی کو کیا معلوم

بظاہر ان کو حیا دار لوگ سمجھے ہیں
حیا میں جو ہے شرارت کسی کو کیا معلوم

قدم قدم پہ تمہارے ہمارے دل کی طرح
بسی ہوئی ہے قیامت کسی کو کیا معلوم

یہ رنج و عیش ہوئے ہجر و وصل میں ہم کو
کہاں ہے دوزخ و جنت کسی کو کیا معلوم

جو سخت بات سنے دل تو ٹوٹ جاتا ہے
اس آئینے کی نزاکت کسی کو کیا معلوم

کیا کریں وہ سنانے کو پیار کی باتیں
انہیں ہے مجھ سے عداوت کسی کو کیا معلوم

خدا کرے نہ پھنسے دام عشق میں کوئی
اٹھائی ہے جو مصیبت کسی کو کیا معلوم

ابھی تو فتنے ہی برپا کئے ہیں عالم میں
اٹھائیں گے وہ قیامت کسی کو کیا معلوم

جناب داغؔ کے مشرب کو ہم سے تو پوچھو
چھپے ہوئے ہیں یہ حضرت کسی کو کیا معلوم
Nahi Dikha Ajj Shab Asman Main Sitara Kahin Par
Nahi Dikha Ajj Shab Asman Main Sitara Kahin Par
Kar Baithy Hain Woh Ajj Kesi Ka Nazra Kahin Par
Ye Raat Sard Hawa Aur Judai Ka Aalam Jatoi
Ye Raat Sard Hawa Aur Judai Ka Aalam Jatoi
Gumaan Hota Hy Is Bar December Mar Dalay Ga
اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا
اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا
جس پر تیرا نام لکھا ہے اس تارے کو ڈھونڈوں گا

تم بھی ہر شب دیا جلا کر پلکوں کی دہلیز پہ رکھنا
میں بھی روز اک خواب تمہارے شہر کی جانب بھیجوں گا

ہجر کے دریا میں تم پڑھنا لہروں کی تحریریں بھی
پانی کی ہر سطر پہ میں کچھ دل کی باتیں لکھوں گا

جس تنہا سے پیڑ کے نیچے ہم بارش میں بھیگے تھے
تم بھی اس کو چھو کے گزرنا میں بھی اس سے لپٹوں گا

خواب مسافر لمحوں کے ہیں ساتھ کہاں تک جائیں گے
تم نے بالکل ٹھیک کہا ہے میں بھی اب کچھ سوچوں گا

بادل اوڑھ کے گزروں گا میں تیرے گھر کے آنگن سے
قوس قزح کے سب رنگوں میں تجھ کو بھیگا دیکھوں گا

بے موسم بارش کی صورت دیر تلک اور دور تلک
تیرے دیار حسن پہ میں بھی کن من کن من برسوں گا

شرم سے دہرا ہو جائے گا کان پڑا وہ بندا بھی
باد صبا کے لہجے میں اک بات میں ایسی پوچھوں گا

صفحہ صفحہ ایک کتاب حسن سی کھلتی جائے گی
اور اسی کی لے میں پھر میں تم کو ازبر کر لوں گا

وقت کے اک کنکر نے جس کو عکسوں میں تقسیم کیا
آب رواں میں کیسے امجدؔ اب وہ چہرہ جوڑوں گا
Main Tera Muntazir Hoon Mujhy Muskura K Mil
Main Tera Muntazir Hoon Mujhy Muskura K Mil
Kab Tak Tujhy Talaash Kroon Ab Aa K Mil
Ishq Ne Galib Nakama Kar Diya
Ishq Ne Galib Nakama Kar Diya
Varna Pehle Hum Bhi Dahi Le Aate The
Ghulaman E Muhammad Ko Sada Baydar Rehna Hai
Ghulaman E Muhammad Ko Sada Baydar Rehna Hai
Abhi Khatm e Nabuwat Par Bohat Hoshiyar Rehna Hai
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
نہ تو زمین کے لیے ہے نہ تو آسمان کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
آئنہ دیکھ کر تسلی ہوئی
آئنہ دیکھ کر تسلی ہوئی
ہم کو اس گھر میں جانتا ہے کوئی
تجھ کو بھولا نہیں وہ شخص کہ جو
تجھ کو بھولا نہیں وہ شخص کہ جو
تیری بانہوں میں بھی اکیلا تھا
بڑھی جو حد سے تو سارے طلسم توڑ گئی
بڑھی جو حد سے تو سارے طلسم توڑ گئی
وہ خوش دلی جو دلوں کو دلوں سے جوڑ گئی

ابد کی راہ پہ بے خواب دھڑکنوں کی دھمک
جو سو گئے انہیں بجھتے جگوں میں چھوڑ گئی

یہ زندگی کی لگن ہے کہ رت جگوں کی ترنگ
جو جاگتے تھے انہی کو یہ دھن جھنجھوڑ گئی

وہ ایک ٹیس جسے تیرا نام یاد رہا
کبھی کبھی تو مرے دل کا ساتھ چھوڑ گئی

رکا رکا ترے لب پر عجب سخن تھا کوئی
تری نگہ بھی جسے نا تمام چھوڑ گئی

فراز دل سے اترتی ہوئی ندی امجدؔ
جہاں جہاں تھا حسیں وادیوں کا موڑ گئی
زمانہ سخت کم آزار ہے بجانِ اسد
زمانہ سخت کم آزار ہے بجانِ اسد
وگرنہ ہم تو توقع زیادہ رکھتے ہیں
آج رو کر تو دکھائے کوئی ایسا رونا
آج رو کر تو دکھائے کوئی ایسا رونا
یاد کر اے دل خاموش وہ اپنا رونا

رقص کرنا کبھی خوابوں کے شبستانوں میں
کبھی یادوں کے ستونوں سے لپٹنا رونا

تجھ سے سیکھے کوئی رونے کا سلیقہ اے ابر
کہیں قطرہ نہ گرانا کہیں دریا رونا

رسم دنیا بھی وہی راہ تمنا بھی وہی
وہی مل بیٹھ کے ہنسنا وہی تنہا رونا

یہ ترا طور سمجھ میں نہیں آیا مشتاقؔ
کبھی ہنستے چلے جانا کبھی اتنا رونا
کیا کیا ہمارے خواب تھے ، جانے کہاں پہ کھو گئے
کیا کیا ہمارے خواب تھے ، جانے کہاں پہ کھو گئے
تم بھی کسی کے ساتھ ہو ، ہم بھی کسی کے ہو گئے

جانے وہ کیوں تھے ، کون تھے ؟ آئے تھے کس لیے یہاں
وہ جو فشار وقت میں ، بوجھ سا ایک دھو گئے

اس کی نظر نے یوں کیا گرد ملال جان کو صاف
اَبْر برس کے جس طرح ، سارے چمن کو دھو گئے

کٹنے سے اور بڑھتی ہے اٹھے ہوئے سرو کی فصیل
اپنے لہو سے اہل دل ، بیج یہ کیسے بو گئے

جن کے بخیر اک پل ، جینا بھی مُحال تھا
شکلیں بھی ان کی بجھ گئیں ، نام بھی ان کے کھو گئے

آنکھوں میں بھر کے رت جگے ، رستوں کو دے کے دوریاں
امجد وہ اپنے ہمسفر ، کیسے مزے سے سو گئے

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.