وزیراعظم کا نواز شریف کے لندن کے ہوٹل میں کھانا کھانے کی تصویر پر نوٹس، اہم ہدایات جاری

روزنامہ اوصاف  |  Jan 13, 2020

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) گذشتہ روز سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں لندن کے ایک ہوٹل میں موجود ہیں۔تصویر میں نواز شریف کے ہمراہ شہباز شریف،اسحاق ڈار اور دونوں صاحبزادے حسین نواز اور حسن نواز بھی موجود ہیں،چونکہ نواز شریف ضمانت پر رہا ہیں اور علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں لہذا اس تصویر نے سب کو حیران کر دیا ہے تاہم اب وزیراعظم عمران خان نے اس کا نوٹس لے لیا ہے۔ وزیراعظم نے نواز شریف کی ہوٹل میں کھانا کھانے کی تصویر پر نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد کو ٹیلیفون کیا ہے۔عمران خان نے یاسمین راشد سے استفسار کیا کہ باہر جا کر وہ کھانا کھا رہے ہیں،یہ بیمار ہیں یا تندرست؟۔ وزیراعظم نے یہ بھی پوچھا کہ نواز شریف کی رپورٹس آئیں یا نہیں؟۔ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے نواز شریف کی فوری رپورٹس منگوائیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس منگوا کر حقائق سامنے لائیں۔اس سے قبل وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے نواز شریف پر تنقید کی۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ لندن کے aسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں ہونے والی ملاقات کے مناظر۔فواد چوہدری نے مزید کہا کہ کھاؤ پیو بیماری کا علاج انتہائی انہماک سے جاری ہے اور سارے مریض بہتر محسوس کر رہے ہیں۔جب کہ دوسری جانب ،شریف فیملی کاکہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی تعداد ابھی تک متوازن نہیں ہو سکی ہے۔کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے کہا تھا کہ نواز شریف کی طبیعت بدستور ناساز ہے اور رپورٹس میں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حسین نواز نے کہا تھا کہ ڈاکٹرز نے نوازشریف کی صحت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، نئے سال کی چھٹیوں کے بعد ہیماٹالوجی والوں سے ملاقات ہوگی۔لندن کے ھسپتال کے انتہائ نگہداشت یونٹ میں ہونیوالی ملاقات کے مناظر۔۔۔ کھاؤ پیو بیماری کا علاج انتہائ انہماک سے جاری ہے اور سارے مریض بہتر محسوس کر رہے ہیں۔ pic.twitter.com/pl6Z2hlXw6

— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) January 13, 2020
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More