بین الاقوامی ادارے فچ نے مجموعی اقتصادی حالت کو مستحکم قرار دیتے ہوئے پاکستان کی ساورن ریٹنگ بی نیگٹو برقرار رکھی

روزنامہ اوصاف  |  Jan 14, 2020

اسلام آباد (ویب ڈیسک) کریڈٹ ریٹنگ کے بین الاقوامی ادارے فچ نے مجموعی اقتصادی حالت کو مستحکم قرار دیتے ہوئے پاکستان کی ساورن ریٹنگ بی نیگٹو برقرار رکھی ۔پیر کو ادارے کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کے نتیجے میں بیرونی ادائیگیوں کے معاملے پر صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔ ادارے نے جاری مالی سال کے دوران جی ڈی پی کی شرح سے حسابات جاریہ کا خسارہ 2.1فیصد اور 2020-21ء میں 1.9 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے ۔ ریٹنگ ایجنسی نے سٹیٹ بینک کی جانب سے لچکدار ایکسچینج ریٹ کی پالیسی اپنانے کی بھی تعریف کی ۔ ادارے نے کہا آئی ایم ایف کے پہلے کامیاب جائزہ سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں اصلاحات کا ایجنڈا کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے ، حکومت سرکاری اخراجات کو مضبوط بنا رہی ہے ، محصولات و ٹیکس کی بنیاد اور وسعت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس کیساتھ ساتھ معیشت کو دستاویزی بنانے میں بھی پیشرفت دیکھنے میں آئی ہے ۔ مالیاتی ڈسپلن کی بھی تائید کی گئی ہے اور اس ضمن میں حالیہ متعارف کردہ پبلک فنانشل مینجمنٹ ایکٹ کا حوالہ دیا گیا ہے ۔ فچ نے کہا اس ایکٹ کے بعد پاکستان کی حکومت نے مرکزی بینک سے قرضہ لینے کا سلسلہ ترک کیا ہے ۔ حکومت نے کاروبار میں سہولیات فراہم کرنے کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں جس کے نتیجے میں عالمی بینک کی کاروبار میں آسانیوں کے حوالے سے بین الاقوامی فہرست میں پاکستان 136ویں سے 108ویں پوزیشن پر آگیاہے ۔ ادارے نے کہا موجودہ پالیسیوں کے تسلسل سے بیرونی خطرات کم ہو جائیں گے جبکہ زری اور مالی استحکام کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام اور پالیسی ایکشن نے معاشی خرابیوں کو دور کیا ہے ۔مالی خسارہ کم ہوا ہے اور زرمبادلہ ذخائر بڑھے ہیں۔اندرونی سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونے کے باعث دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے ، تجارت اور سکیورٹی کے ماحول میں بہتری کی وجہ سے معاشی آؤٹ لک بہتر ہونے کی امید ہے ۔ مرکزی بینک کی لچکدار فارن ایکسچینج ریٹ پالیسی کے باعث غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے اضافے میں مدد ملی ہے ۔روپے کی قیمت میں گراوٹ اور انرجی ٹیرف میں اضافے کی وجہ سے پاکستان میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح 2019 میں 6.8 فیصد تھی جو کہ نئے مالی سال میں 11 اعشاریہ 3 فیصد تک پہنچ سکتی ہے ۔رواں مالی سال کے آخر میں مہنگائی میں کمی کا امکان ہے ۔ مالیاتی خسارہ حکومتی ہدف ساڑھے سات فیصد سے بڑھ جائے گا۔ خسارہ جی ڈی پی کا 7.9 فیصد رہنے کا خدشہ ہے ۔رواں مالی سال کے آخر میں شرح سود میں کمی کا امکان ہے ۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More