برطانیہ میں شدید سمندری طوفان ساتھ بارشوں کا سلسلہ جاری

بول نیوز  |  Jan 15, 2020

برطانیہ میں شدید سمندری طوفان ساتھ بارشوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے مختلف حصوں میں سمندری طوفان، اسکاٹ لینڈ میں سمندر میں لہر 25 فٹ تک بلند ہوگئی۔

برطانیہ کے مختلف حصوں میں سمندری طوفان برینڈن کے باعث تیز ہواؤں کے ساتھ بارشوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

خیال رہے طوفان اور شدید  ہواؤں کی وجہ سے درخت اُکھڑ گئے اور چھتیں اڑ گئیں ساتھ ہی بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا ہے۔

برطانیہ میں طوفان سے آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے شمال مغربی حصے زیادہ متاثر ہوئے،  جہاں اسکول بند کردیے گئے ہیں اور فیری سروس بھی متاثر ہوئی ہے۔

آئرلینڈ میں بجلی کا نظام درہم برہم ہونے سے 48 ہزار گھروں کو بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ  متعدد پروازیں اور ٹرین سروس بھی معطل کر دی ہے۔

گزشتہ روز پہلے امریکا کے جنوبی اور شمال وسطی حصوں میں طوفان کے باعث لاکھوں افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔

اس سے قبل امریکی جنوبی علاقوں میں طوفان نے تباہی مچادی تھی، اور آندھی، بارش اور سیلاب کے باعث12افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ٹیکساس، لوزیانا سمیت13امریکی ریاستوں میں ڈھائی لاکھ سے زائد صارفین کو بجلی کی فراہمی منقطع تھی۔

یاد رہے کہ مشی گن میں 12انچ تک برف باری کی پیشگوئی کی گئی تھی جبکہ ٹیکساس، اوکلاہوما سمیت مختلف ریاستوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش اور برف باری ہوئی تھی۔

ترکی ،یونان ،آئس لینڈ میں  برف باری کے باعث نظامِ زندگی مشکل ہوگیا

واضح رہے کہ شکاگو میں ایک ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کردی گئی تھی۔

اس سے قبل فلپائن میں سمندری طوفان ’فان فون‘ کے باعث 41 افراد موت کا شکار  ہوگئے تھے۔

 گزشتہ روز قبل فلپائن میں سمندری طوفان کی وجہ سے بہت سے لوگ بے گھر ہو گئے تھے اور ساتھ ہی بہت سی زندگیوں کا بھی بہت نقصان ہوا تھا اور متاثرہ علاقوں میں بجلی اور انٹرنیٹ کا نظام  بحال نہیں ہو سکا تھا۔

یاد رہے طوفان کے باعث بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد اب بھی عارضی کیمپوں میں مقیم تھے، جبکہ طوفان کے دوران لاپتہ ہونے والے 12 افراد کی تلاش بھی جارتھی۔

فلپائن میں طوفان سے 1.6 ملین افراد متاثر ہوئےتھے جبکہ ڈھائی لاکھ سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More