وزیر اعظم کی ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس

نوائے وقت  |  Feb 15, 2020

پاکستان اور ترکی نے مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کشمیری بھائیوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق پرامن طور پر حل ہونا چاہئے، دونوں ممالک بین الاقوامی سطح پر ایک دوسرے کے موقف کے حامی ہیں اور کل کی طرح آج بھی ساتھ کھڑے ہیں، پاکستان سیاحت اور تعمیرات سمیت مختلف شعبوں کی ترقی کیلئے ترکی کے تجربات سے استفادہ کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے جمعہ کو یہاں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں ترک صدر کو پاکستان آمد پر دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں، آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر طیب اردوان کے خطاب کو پاکستانی عوام نے بے حد سراہا ، وہ پاکستان میں اتنے مقبول ہیں کہ اگر الیکشن لڑیں تو وہ کلین سویپ کر جائیں۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستانی قوم کی طرف سے کشمیریوں پر ظلم کیخلاف آواز اٹھانے پر ترک صدر کا شکر گزار ہوں، مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ کشمیریوں کو آٹھ لاکھ بھارتی فوج نے چھ ماہ سے زائد عرصہ سے محصور کر رکھا ہے، کشمیری قیادت جیلوں میں بند ہے، نوجوانوں کو گھروں سے اٹھایا جا رہا ہے، مواصلات کا بلیک آئوٹ ہے اور پوری وادی میں خوف طاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر پاکستان اوربھارت کے درمیان ایک متنازعہ علاقہ ہے، اس حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں جن کے مطابق کشمیر کے عوام کو ان کا حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن بھارت نے ان کے بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج پاکستان اور ترکی کے درمیان سٹرٹیجک اکنامک کونسل کے حوالے سے ایم او یو پر دستخط کئے گئے ہیں، اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کے نئے دور کی عکاسی ہوتی ہے۔ پاک ترک معاہدے دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں جبکہ ان سے پاکستان کو خصوصی طور پر فائدہ ہو گا کیونکہ جن شعبوں میں معاہدے کئے گئے ہیں پاکستان ان میں ترقی کا خواہاں ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے متعلق مسائل پر ترکی کے موقف کی حمایت کرتے ہیں، ترکی نے بھی مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کے ساتھ ساتھ ایف اے ٹی ایف کے پلیٹ فارم پر بھی پاکستان کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، بین الاقوامی معاملات پر پاکستان اورترکی کا یکساں موقف ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست اور معیشت کے علاوہ ثقافت، میڈیا اور فلم انڈسٹری میں بھی تعاون کو آگے بڑھایا جائے گا۔ ترکی کی فلمی صنعت کافی ترقی کر چکی ہے، اسلامو فوبیا کیخلاف ترک فلم انڈسٹری سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تحریک خلافت کے بعد پاکستان اورترکی کے درمیان خصوصی رشتہ قائم ہے، یہ تعلق صدیوں پر محیط ہے، ترکی نے اس خطے پر 600 سال حکومت بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رجب طیب اردوان کے دورہ میں پاکستان اور ترکی کے مابین تعلقات روزبروز بڑھتے گئے۔ ترکی نے صدر رجب طیب اردوان کی قیادت میں ترکی کی منازل طے کی ہیں، ہم بھی ترکی کی ترقی کے تجربات سے سیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان بھی اسی طرح کے حالات کا شکار ہیں جن کا سامنا ترکی کو کرنا پڑا۔ پاکستان کو بھی اسی طرح غیر ملکی قرضوں کا سامنا ہے جس طرح ترکی کو تھا۔ ترکی بھی کبھی پاکستان کا مقروض ملک تھا، رجب طیب اردوان نے اسے غیر ملکی قرضوں کے چنگل سے نکالا اور معیشت کو ترقی دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیاحت کے شعبے میں ترکی سے استفادہ کریں گے، ترکی سیاحت سے سالانہ 35 ارب ڈالر کماتا ہے، اسی طرح تعمیرات کے شعبے میں بھی ترکی وسیع تجربہ رکھتا ہے، ہمیں آج سستے مکانات کی تعمیر کی ضرورت ہے۔ اس شعبہ میں بھی ترکی کے تجربات سے استفادہ کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہیں، اس مقصد کیلئے ملک میں انڈسٹرلائزیشن کی ضرورت ہے، اس حوالے سے ترکی کے صنعتی شعبہ میں ترقی کے تجربہ سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے، مجھے تین سال بعد پاکستان کا دورہ کرنے پر دلی مسرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطح کی سٹرٹیجک تعاون کونسل کا اجلاس دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا ثبوت ہے۔ اس دوران ہم نے پاکستان اور ترکی کے درمیان تعلقات کے مختلف پہلوئوں پر بات چیت کی جبکہ مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان 13 معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں جو پاک۔ترک قریبی تعلقات کا مظہر ہیں، ہم تعلیم، مواصلات، صحت، ثقافت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں، وزیراعظم عمران خان دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کیلئے کوشاں ہیں، امید ہے کہ وہ کاروبار کیلئے ماحول کو مزید بہتر بنانے میں کامیاب ہوں گے۔ ترک صدر نے کہا کہ ترکی پاکستان کے ساتھ کل کی طرح آج بھی کھڑا ہے، ترکی میں زلزلے سے نقصانات پر صدر سے لیکر عام آدمی تک سب نے دلی ہمدردی کا اظہار کیا جس سے محبت کے تعلق کا اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دہشت گردی کیخلاف جدوجہد میں پاکستان کی حمایت حاصل رہی ہے، دہشت گرد تنظیموں کیخلاف اقدامات پر وزیراعظم عمران خان کا شکر گزار ہوں ۔ ترک صدر نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی شعبوں میں تعاون گہری دوستی کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم برادر ملک پاکستان اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات کو بڑھانے کے خواہاں ہیں، ترکی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے اور ہمیں یکطرفہ اقدامات کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کی خراب ہونے والی صورتحال پر انتہائی تشویش ہے، ہم مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قرارداوں اور کشمیری بھائیوں کی خواہشات کے مطابق پرامن حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن، علاقائی استحکام اور دہشت گردی کیخلاف پاکستان کا کردار قابل تحسین ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More