نیب نے جنگ گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمن کو گرفتار کر لیا

اردو نیوز  |  Mar 12, 2020

پاکستان کے احتساب کے ادارے نیب نے نجی ٹی وی چینل جیو اور جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل رحمن کو گرفتار کر لیا یے۔

میر شکیل کو نیب کی طرف سے ایک تحریری حکم نامہ 10 مارچ کو جاری کیا گیا تھا کہ وہ ذاتی حیثیت میں 12 مارچ کو نیب کے لاہور دفتر میں پیش ہوں۔ ان کی پیشی کا وقت 3 بجے سہ پہر مختص کیا گیا تھا۔

جب میر شکیل مقررہ وقت پر نیب کے دفتر پہنچے تو اس کے بعد وہ باہر نہیں آئے۔ نیب ترجمان نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے میر شکیل کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیںلاہور کے ٹریفک وارڈنز جھگڑتے کیوں ہیں؟Node ID: 464341ذاتی وجوہات کی بنا پر خاموش تھی: مریم نوازNode ID: 464471آسٹریلوی صحافی سے رشوت مانگنے والا اہلکار گرفتارNode ID: 464481اردو نیوز کو حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق میر شکیل الرحمان سے نیب نے کل 26 سوالات تحریری طور پر پوچھے تھے جن کے انہیں جواب دینا تھے۔

نیب کا یہ سوال نامہ لاہور کے علاقے جوہر ٹاون میں 54 ایسے پلاٹس سے متعلق ہے جو انہوں نے 80 کی دہائی میں خریدے تھے۔

نیب نے اپنے سوال ناموں میں اس وقت کی خریدو فروخت کی ساری تفصیلات بھی مانگی تھیں۔ ایک سوال کے مطابق میر شکیل الرحمان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اس وقت کے وزیر اعلی پنجاب (نواز شریف) نے ان پلاٹس کی خریداری کے معاملے پر ان کی کیسے مدد کی اور قوانین کو ان کے لیے نرم کیا؟

نیب نے میر شکیل الرحمان پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے 54 کنال اراضی خریدنے کے لیے اپنے حق میں قوانین کو نرم کرایا۔

جنگ گروپ کی طرف سے میر شکیل الرحمن کی گرفتاری پر بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق ’میر شکیل کو نجی پراپرٹی کے ایک معاملے پر گرفتار کیا گیا ہے۔‘

میر شکیل الرحمن کو نیب لاہور نے گرفتار کیا ہے (فوٹو: ٹوئٹر)بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’یہ پراپرٹی انہوں نے پرائیوٹ افراد سے خریدی تھی جن کا کسی بھی حکومتی شخصیت سے کوئی تعلق نہیں۔ میر شکیل کو جھوٹے اور من گھڑت الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ ان تمام کیسز کا قانونی دفاع کیا جائے گا۔‘

خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی نیب نے میر شکیل الرحمان کو ایک بار اسی مقدمے میں طلب کیا تھا اور وہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے تھے تاہم دوسری پیشی پر انہیں گرفتار کر لیا۔ 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More