’پی ایس ایل کی رونق بڑھانے کا شکریہ کرس لین‘

اردو نیوز  |  Mar 16, 2020

پاکستان سپر لیگ سیزن فائیو میں مختلف ٹیموں کے غیر ملکی کھلاڑیوں کی جانب سے پی ایس ایل چھوڑنے کے اعلان کے بعد اب لاہور قلند کے کھلاڑی کرس لین  نے بھی اپنے ملک آسڑیلیا جانے کا اعلان کر دیا ہے۔

لاہور قلندر اور کراچی کنگز کے درمیان سیمی فائنل کھیلا جانا ہے مگر کرس لین کا کہنا ہے کہ سیمی فائنل میں شرکت نہیں کریں گے جو لاہور قلندر کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ گذشتہ میچ میں کرس لین نے 55 گیندوں پر سینچری سکور کی تھی۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے غیر ملکی کھلاڑیوں کو یہ آپشن دیا تھا کہ موجودہ صورتِ حال میں اپنے وطن واپس جا سکتے ہیں جس کے بعد ہر ٹیم میں سے کچھ کھلاڑیوں نے بقیہ میچز نہ کھیلنے کا اعلان کیا تھا۔

اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر کرس لین نے لکھا کہ ’مجھے پی ایس ایل میں بہت مزہ آیا ہے مگر موجودہ صورتِ حال میں مجھے گھر واپس جانا پڑ رہا ہے۔‘

کرس لین کے اس اعلان کے بعد ٹوئٹر پر صارفین اپنا ردِعمل دے رہے ہیں۔

معاذ آصف نامی ٹوئٹر صارف نے کرس لین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’امید ہے کہ اگلے سال بھی آئیں گے۔‘

ایک اور صارف نور فاطمہ نے کرس لین کے اس اعلان پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ لین لاہور قلندر کو چھوڑ کر واپس اپنے ملک جا رہے ہیں۔

آکاش ضمیر نامی صارف نے لکھا کہ ’کرس لین! پی ایس ایل کی رونق بڑھانے کا شکریہ، آپ کو یاد رکھا جائے گا۔‘

حسنین شاہ نامی ٹوئٹر صارف نے کہا کہ گذشتہ میچ میں لاہور قلندر کو جتوانے والے کرس لین اپنے ملک آسٹریلیا واپس جا رہے ہیں۔‘

کرس لین، ڈیوڈ ویزے اور پرسنا کی وطن واپسی کے بعد لاہور قلندرز کے پاس اب بین ڈنک، سمت پٹیل اور ڈین ویلاس بطور غیر ملکی پلیئرز موجود ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان سپر لیگ سیزن فائیو میں شریک دیگر ٹیموں کے غیر ملکی کھلاڑی پہلے ہی اپنے ملکوں کو واپس جا چکے ہیں جن میں ملتان سلطانز کے روسو، جیمز وینس اور کراچی کنگز کے ایلکس ہیلز شامل ہیں۔

پشاور زلمی کے سب سے زیادہ کھلاڑی اپنے ملک واپس جا چکے ہیں جن میں ٹوم بینٹن، کارلوس بریتھویٹ، لیم ڈوسن، جیمز فوسٹر (کوچ)، لیوس گری گوری اور لیم لیونگ سٹون جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹر سے جیسن روئے اور ٹیمل ملز شامل ہیں۔ 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More