غریب افراد کے کورونا ٹیسٹ مفت کیے جائیں، شہباز شریف

اردو نیوز  |  Mar 24, 2020

پاکستان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غریب شہریوں کو کورونا وائرس کے مفت ٹیسٹ کی سہولت فراہم کی جائے۔

لاہور میں ویڈیو لنک کے ذریعے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ 'حکومت نے تفتان کے قرنطینہ سینٹر میں بے کوتاہی برتی اور وائرس نے شدت سے حملہ کیا۔'

مزید پڑھیں

شہباز شریف کا برطانوی اخبار کے خلاف مقدمہNode ID: 456121صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف پاکستان پہنچ گئےNode ID: 466371ڈاکٹر اسامہ: ’ہم آپ کو دیکھتے ہیں، آپ کی قدر کرتے ہیں‘Node ID: 466736

'وزیراعظم کو گزارش کرتا ہوں کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلائیں جس میں سارے وزرائے اعلیٰ کو ایک چھت کے نیچے اکھٹا کریں۔'

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ 'ہنگامی بنیادوں پر بیرون ملک سے وینٹی لیٹرز منگوائے جائیں اور ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کو حفاظتی کٹس مہیا کی جائیں۔ ڈاکٹروں کے معاشی مسائل حل کیے جائیں۔ ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکس کی تنخواہیں دو گنی کی جائیں تاکہ وہ یکسوئی سے کام کر سکیں۔ مسلم لیگ ن ڈاکٹروں کے لیے 10 ہزار حفاظتی کٹس حوالے کر رہی ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'لاک ڈاؤن کے دوران خوراک اور ادویات کی فراہمی کا جامع منصوبہ بنایا جائے۔'

'شرح سود کو تین سے چار فیصد تک فوری طور پر کم کیا جائے۔ اس سے حکومت کو 80 ارب روپے کا فائدہ ہو گا۔ اگر آئی ایم ایف نہ مانے تو اسے خیر باد کہہ دیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں تبدیلی کی جائے اور مزید 30 سے 40 لاکھ افراد کو اس میں شامل کریں۔'

شہباز شریف نے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس کی تنخواہ دو گنا کرنے کا مطالبہ کیا (فوٹو: اے ایف پی)

مسلم لیگ ن کے صدر نے کہا کہ 'ای او بی آئی کے فنڈز کو بھی کورونا کے خلاف اقدامات کے لیے استعمال کیا جائے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ترین سطح پر ہیں، تیل کی قیمت کو 70 روپے پر لایا جائے۔ اس سے حکومت کو کوئی نقصان نہیں ہو گا بلکہ مہنگائی کم ہو گی۔'بیت المال کو بھی استعمال کیا جائے۔ پانچ ہزار بجلی اور دو ہزار گیس کے بل والوں کی ادائیگیوں کو ملتوی کر دیں۔ ختم نہیں کر سکتے تو موخر کر دیں۔ میں نیک نیتی سے مشورہ دیتا ہوں کہ میڈیا کو قریب لائیں اور جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کو ضمانت پر رہا کروایا جائے۔'

واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ جوائن کریں

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More