وزیراعظم کا اربوں روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان، تیل 15 روپے سستا

اردو نیوز  |  Mar 24, 2020

وزیر اعظم عمران خان نے  کورونا وائرس کی وجہ سے بننے والی صورت حال سے نمٹنے کے لیے معاشی پیکیج کا اعلان کر دیا ہے۔

پیکیج میں  لیبر کے لیے دو سو ارب کے امداد کے علاوہ پٹرول اور  ڈیزل کی قیمتوں میں پندرہ روپے فی لیٹر کمی کا اعلان بھی شامل ہے۔

اعلان منگل کو وزیر اعظم عمران خان نے اسلام اباد میں سینیئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

مزید پڑھیںمشہور شخصیات قرنطینہ میں رہ کر کیا کر رہی ہیں؟Node ID: 466586پنجاب میں دو، کشمیر میں تین ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤنNode ID: 466621لاک ڈاون کے دوران کراچی والوں کا جذبہ جنونNode ID: 466711

ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن ایک مشکل فیصلہ تھا۔ 

 دو سو ارب کے پیکیج کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم صوبوں کے ساتھ بھی بات چیت کر رہے ہیں تاکہ اس کو مزید موثر بنایا جا سکے۔

’انڈسٹری، امپورٹ اور ایکسپورٹ کو فوری طور پر سو ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈ دیے جائیں گے۔ سمال اور میڈیم انڈسٹری کے لیے سو ارب روپے رکھے گئے ہیں، آسان اقساط پر قرضے بھی دیے جائیں گے۔‘

عمران خان نے کہا  کہ ڈیڑھ سو ارب روپے کا فنڈ مختص ہے جو چار مہینے میں تین ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے بے روزگار ہونے والے افراد میں تقسیم کیے جائیں گے۔ ’یوٹیلٹی سٹورز کو مزید پچاس ارب روپے دے جا رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پیکیج میں 50  ارب روپے میڈیکل ورکرز کے لیے رکھے گئے ہیں۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں بھی صارفین کو ریلیف دیا جائے گا۔

’تین سو یونٹ خرچ کرنے والے صارف تین مہینے کی قسط میں بل دے سکیں گے۔‘

عمران کا کہنا تھا کہ دوسرے ملکوں اور پاکستان میں کرفیو لگانے میں بہت فرق ہے (فوٹو: سوشل میڈیا)وزیر اعظم نے کہا کہ افراتفری کے بجائے دانش مندی سے کام لینا ہو گا۔ ’امریکہ دو ہزار ارب کا پیکج دے رہا ہے، اس کا بھی حال دیکھ لیں۔‘

اس موقع پر وزیر اعظم نے میڈیا ورکرز کے لیے بھی پیکیج تیار کرنے کا اعلان کیا۔ ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ان سے پوچھے بغیر کوئی فیصلہ نہیں ہوتا۔

کرفیو کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ دوسرے ملکوں اور پاکستان میں کرفیو لگانے میں بہت فرق ہے۔

امیر آدمی کو اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا لیکن غریب بہت متاثر ہو گا

انہوں نے کہا کہ کورونا کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاہم فی الوقت کرفیو نہیں لگایا جائے گا۔

یہ لاک ڈاؤن کی آخری سٹیج ہو گی۔

اگر کرفیو لگانا پڑا تو پہلے پوری تیاری کرنا ہو گی۔ رضاکاروں کی پوری فورس بنانا ہو گی جس کے ذریعے غریبوں کے گھروں تک کھانا پہنچایا جائے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ٹرانسپورٹ بند کرنے سے بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں (فوٹو: سوشل میڈیا)’یہ ٹی ٹوئنٹی کا میچ نہیں ہے، ہو سکتا ہے یہ صورت حال چھ مہینے تک چلی جائے، ہمیں جلدبازی کے بجائے دانش مندانہ فیصلے کرنا ہوں گے‘

ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ بند کرنے سے بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ سپلائی کا سلسلہ رک جائے گا اسی طرح اگر باہر نکلنے والوں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالا گیا تو اس سے وہاں بھی کورونا کا وائرس پھیل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا چین میں پاکستانی طالب علموں کے حوالے سے پاکستان نے جو طریقہ کار اختیار کیا وقت نے اس کو درست ثابت کر دیا ہے۔

شرح سود کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس میں ردو بدل کا فیصلہ سٹیٹ بنک کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ملک میں فیصلے ایلیٹ طبقے کی سہولت کے لیے کیے جاتے رہے ہیں، کسی بھی قسم کا غلط فیصلہ کر کے تباہی نہیں لانا چاہتے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More