رمیز راجہ اور وسیم اکرم نے 92 ورلڈ کپ کی سنہری یادیں تازہ کر دیں

ہم نیوز  |  Mar 25, 2020

اسلام آباد: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم اور سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ نے 1992 ورلڈکپ کی جیت کی سنہری یادیں تازہ کر دیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کی جانب سے ورلڈ کپ جیت کے 28 سال پورے ہونے پر سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں ٹورنامنٹ کے ہیرو وسیم اکرم اور رمیز راجہ نے جیت کے ان لمحات کو دوبارہ سے زندہ کر دیا۔

رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی قیادت میں قومی ٹیم عالمی کپ شروع ہونے سے چند ہفتے قبل ہی آسٹریلیا پہنچ گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ہماری ٹیم نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل تھی اور ہمیں عالمی کپ جیتنے کے حوالے سے کوئی بھی فیورٹ قرار نہیں دے رہا تھا جبکہ ہمارے اپنے ذہنوں میں بھی ایسی کوئی بات نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم کے کپتان عمران خان کا یہ ماننا تھا کہ پاکستان ورلڈ کپ ضرور جیتے گا اور وہ ہمیں بھی اس جذبے کے تحت کھیلنے اور گیم پر فوکس کرنے کا کہتے تھے۔

رمیز راجہ نے بتایا کہ میگا ایونٹ کے آغاز سے قبل ہی ہم  ہر پریکٹس میچز ہارتے چلے گئے یہاں تک کے 40 سال کی عمر سے زائد کھلاڑیوں پر بنی ہوئی ٹیم سے بھی ہمیں شکست ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف جیت نے ہمیں ٹورنامنٹ جیتنے کا جذبہ بھر دیا اور اس میچ میں انضمام الحق کی کارکردگی بھی بے مثال تھی۔

اس موقع پر وسیم اکرم نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت نوجوان کرکٹر میرے لیے عالمی کپ کا ٹورنامنٹ کافی مشکل تھا۔

انہوں نے بتایا کہ تیز گیند کرانے کے چکر میں نو بال اور وائٹ گیندیں زیادہ ہو جاتی تھیں تاہم کپتان عمران خان نے بہت حوصلہ افزائی کی۔

سابق کپتان نے کہا کہ ابتدائی میچوں میں شکست کے باوجود عمران خان کہا کرتے تھے کہ ہم یہ عالمی کپ ضرور جیتیں گے کیونکہ میری نیت صاف ہے اور میں نے غریبوں کے لیے اسپتال بنانا ہے۔

وسیم اکرم نے بتایا کہ ٹیم میں موجود کھلاڑی اعجاز احمد اور مشتاق احمد بہت شرارتی تھے اور وہ دونوں ٹیم کوہنساتے رہتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی کپ کے فائنل میں لگاتار دو گیندوں پر وکٹیں لینا ان کے کیرئیر کی بہترین کارکردگی تھی۔

انہوں نے کہا کہ عالمی کپ جیتتے وقت یہ احساس نہیں تھا کہ ہم نے کوئی بڑا کارنامہ انجام دے دیا مگر جب لاہور ایئرپورٹ پر اترے تو ہوٹل تک لوگ ہی لوگ تھے جو خاص طور پر ہمارا استقبال کرنے آئے تھے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More