لوگوں نے بے آواز طیارے کو پرواز کرتے دیکھا!

وائس آف امریکہ اردو  |  May 23, 2020

واشنگٹن — 

پی آئی اے کا طیارہ لاہور سے روانہ ہوا تو اس میں کوئی خرابی نہیں تھی۔ مگر کراچی پہنچ کر رن وے پر اترنے سے چند لمحے پہلے کیا ہوا کہ طیارہ رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا۔ پی آئی اے کے سی ای او ارشد ملک کہتے ہیں اس کا علم تحقیقات کے بعد ہی ہو گا۔ تحقیقات میں وقت تو لگتا ہی ہے۔

مگر یہ کیا؟ اچانک ایک دھماکے کی آواز آئی۔ ارشد نے لپک کر دیکھا تو صرف دو گلی کے فاصلے پر دھواں اٹھتا ہوا نظر آرہا تھا۔

ارشد وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک جہاز رہائشی عمارتوں پر گر گیا تھا اور آگ بھڑک اٹھی تھی۔ ارشد کہتے ہیں چار مکان تباہ ہو گئے اور جلد ہی وہاں امدادی کارکن پہنچ گئے اور لاشیں نکالی جانے لگیں۔

ارشد کہتے ہیں عید کی چھٹیاں ہو گئی ہیں اور بہت سے لوگ گھروں پر تھے۔ گاڑیاں گلی میں کھڑی تھیں اور ان میں بھی آگ لگ گئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ کاظم آباد کے اس علاقے پر سےجہاز معمول کے مطابق گزرتے ہیں اور رن وے ان کے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر ہے۔

حادثے کے بعد سب سے زیادہ جو بات کہی جا رہی ہے وہ ائیر پورٹ کے قریب اس رہائشی کالونی کی تعمیر ہے۔

چوہدری اعظم پی آئی اے کے ایک سابق انجینئیرنگ افسر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس کالونی میں خود پی آئی اے کے عملے کے لوگ بھی مقیم ہیں۔ وہ کہتے ہیں اب سے پہلے کسی کو اس کالونی کی تعمیر پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ جب تک کوئی حادثہ نہ ہو جائے معاملے کی سنگینی کا احساس نہیں ہوتا۔

کہا یہ جا رہا ہے کہ وہاں کئی منزلہ عمارتیں ہیں جو جہازوں کی پرواز میں خطرے کا باعث ہیں۔ ارشد قریشی نے کہا کہ یہ بات درست نہیں۔ ان کی کالونی میں کوئی عمارت تین منزل سے زیادہ بلند نہیں ہے۔ اور ایک پلازہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی مگر حکام نے اس کی تعمیر روک دی، جبکہ میری لینڈ میں مقیم پی آئی اے کے ایک سابق سینئیر اکاؤنٹ افسر عمران عثمانی نے بتایا کہ ان کے اپنے خاندان والے وہاں عسکری میں کئی منزلہ عمارت میں مقیم ہیں۔

عمران عثمانی نے طیارے میں تیکنیکی خرابی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ طیارہ خرابی کے باوجود پرواز بھرے۔ اسلئے اس میں اچانک کوئی خرابی ہوئی اور یہ بھی اچنبھے کی بات ہے کہ اس کے دونوں انجن فیل ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ جہاز دس برس پرانا تھا مگر جہازوں کی عمر میں دس سال زیادہ نہیں ہوتے اور ایک انجن خراب ہو تو جہاز دوسرے انجن کی مدد سے حادثے سے بچ سکتا ہے۔

چوہدری اعظم نے کہا کہ جہاز کے پرواز بھرنے سے پہلے نوز سے ٹیل تک اس کا مکمل معائنہ کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر اچانک اس سے پرندہ ٹکرا جائے تو ایوی ایشن میں اسے موت کہا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ ایک قیاس یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ جہاز سے پرندے ٹکرائے۔ اور اس کے دونوں انجن فیل ہو گئے۔ تاہم، پی آئی اے کے سی ای او ارشد ملک نے کہا ہے کہ حادثے کی اصل وجہ چھان بین کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

ابھی صرف سوال ہیں۔ طیارے میں تیکنیکی خرابی نہیں تھی تو عین اترنے کے وقت اس کے دونوں انجن کیسے فیل ہو گئے۔ کیا رہائشی عمارتیں اس کے لینڈ کرنے کی راہ میں حائل ہوئیں یا پرندوں کا کوئی غول عین لینڈنگ کے وقت طیارے سے ٹکرا گیا۔ کسی بھی سوال کا جواب تین دن سے پہلے ملنا ممکن نہیں، کیونکہ حکام کا کہنا ہے کہ چھان بین کے نتائج تین روز سے پہلے سامنے نہیں آئیں گے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More