عالمی ادارہ صحت نے ماسک پہننے سے متعلق اپنا نکتہ نظر بدل لیا

ڈی ڈبلیو اردو  |  Jun 06, 2020

کورونا وائرس کے بحران کے تناظر میں اقوام متحدہ کے صحت سے متعلق ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے چہرے پر ماسک پہننے سے متعلق اپنے نکتہ کو تبدیل کر لیا ہے۔ انفکیشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اب ڈبلیو ایچ او نے مصروف يا عوامی مقامات پر چہرے پر ماسک پہننے کی سفارش کی ہے۔ یہ تجویز ایسے مقامات کے لیے بھی ہے جہاں لوگوں کے درمیان آپس میں فاصلہ برقرار رکھنا ممکن نہ ہو یا مشکل ہو۔

پاکستان اور بھارت میں کورونا متاثرین کا بتدریج اضافہ

کورونا وائرس کی وبا بھارت اور پاکستان میں بھی اب تیزی سے پھیل رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں ملکوں میں مناسب احتیاطی تدابیر اپنانے کا عام لوگ احساس نہیں کر رہے۔ (06.06.2020)

بھارتی کشمیر میں سو سے زائد حاملہ خواتین کا کورونا ٹیسٹ مثبت

بھارت میں مثبت کورونا وائرس کیسز میں آئے دن اضافہ ہورہا ہے ۔اس وباء نے بھارت کے زیرانتظام جموں و کشمیر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ وادئی کشمیر میں اب تک ایک سو چالیس حاملہ خواتین کے کورونا ٹیسٹ بھی مثبت آئے ہیں ۔ (05.06.2020)

پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد چین سے تجاوز کر گئی

پاکستان میں جب سے عوامی مقامات کھلے ہیں، کورونا وائرس کے کیسز اور اموات کی تعداد میں یکایک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ بڑے چھوٹے شہروں کے بازاروں اور ٹرانسپورٹ کے اڈوں پر لوگوں کا رش ہے۔ (04.06.2020)

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

ڈوئچے ویلے نیوز لیٹر سروس میں خوش آمدید۔ براہ کرم یہاں رجسٹریشن کروائیں۔ (15.11.2018)

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈھانوم گیبریسس نے ایسے مقامات کی مثالوں میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بند اور مصروف مقامات کا ذکر کیا۔ جنیوا میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا، ''جب کبھی عوامی جگہ پر جانے کی ضرورت ہو تو ہم 60 برس سے زائد عمر کے افراد یا ایسے افراد جنہیں طبی مسائل کا سامنا ہے، انہیں میڈیکل ماسک پہننے کی سفارش کرتے ہیں۔‘‘

خیال رہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دنیا بھر میں پھیلاؤ کے باوجود ابھی تک ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا نکتہ نظر یہ تھا کہ چہرے پر ماسک پہننے کی ضرورت صرف انہیں ہے جو بیمار ہیں یا ایسے افراد جو بیماروں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ چہرے کے ماسک کے بڑے پیمانے پر استعمال کی تجویز ابھی تک نہیں دی گئی تھی۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے طبی ماسک سے ہٹ کر عام ماسک کے حوالے سے بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کم از کم تین تہوں پر مشتمل ہونا چاہیے۔

صرف ماسک پر ہی انحصار نہ کیا جائے

ساتھ ہی ڈبلیو ایچ او نے یہ بھی متنبہ کیا ہے کہ اس وباء سے بچنے کے لیے صرف چہرے کے ماسک کو ہی کافی نہ سمجھ لیا جائے اور یہ کہ ماسک ان بہت سی احتیاطی تدابیر میں سے ایک ہے جو کورونا سے بچاؤ کے لیے اختیار کی جانی چاہیيں اور اسے سماجی فاصلے اور صفائی وغیرہ کا متبادل تصور نہیں کرنا چاہیے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس گیبریسس کے بقول اگر لوگ اپنے ماسک کو میلے ہاتھوں سے چھوئیں گے تو اس صورت میں بیمار پڑنے کا خطرہ الٹا زیادہ ہو جائے گا: ''ماسک تحفظ کا ایک غلط احساس بھی پیدا کر سکتے ہیں۔‘‘

 دنيا بھر ميں نئے کورونا وائرس کے متاثرين کی تعداد 6,740,361 ہو گئی ہے۔ ہفتے کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک عالمی سطح پر 394,984 افراد اس وائرس کی وجہ سے ہلاک بھی ہو چکے ہيں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More