کرونا وائرس کی وبا کے خاتمے کا ابھی کوئی امکان نہیں: عالمی ادارہ صحت

وائس آف امریکہ اردو  |  Jun 30, 2020

واشنگٹن — عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں کرونا وائرس کے شکار لوگوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے۔ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں ہے اور اس کے خاتمے کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈراس عدنان گیبری ایسیس نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمگیر وبا خاتمے کے قریب بھی نہیں ہے اس کا عالم گیر سطح پر پھیلاؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

آج پیر کے روز ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہیلتھ ایجنسی کو پہلی مرتبہ اس وائرس کے بارے میں اطلاع ملنے کے چھ ماہ کل منگل کو پورے ہو جائیں گے۔ ان کے ادارے کو اطلاع ملی تھی کہ چین میں نمونیا کے غیر معمولی کیسز ہوئے ہیں۔ یہی کرونا وائرس کے آغاز کی پہلی علامت تھی۔

چھ مہینے پہلے ہم میں کوئی بھی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ نیا وائرس عالمگیر وبا بن جائے گا۔ اس کے بعد سے عالمی ادارہ صحت نے شکار اور ہلاک ہونے والوں کا پورا ریکارڈ رکھا ہے۔ اسی ریکارڈ کے مطابق اب تک پوری دنیا میں کرونا متاثرین کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ اور ہلاک شدگان کی تعداد پانچ لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔

ٹیڈراس نے کہا کہ اکثر ملک یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم کرونا وائرس کے ساتھ زندگی گذارنے کی کس طرح کی منصوبہ بندی کریں۔ کیونکہ یہ زندگی کا نیا معمول بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے ملکوں نے اس پر بہت حد تک قابو پایا ہے اور پھیلنے کی رفتار کو سست کیا ہے، مگر وہ اس کو مکمل طور سے مٹا نہیں سکے۔ کچھ ملکوں نے جب اپنی معیشت کو کھولا تو انہوں نے دیکھا کہ وائرس کا پھیلاؤ بڑھ گیا۔

ٹیڈراس نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اب بھی تذبذب کا شکار ہیں، کیوں کہ وائرس کے پھیلنے کی گنجائیش موجود ہے۔ ٹھوس حقیقت یہی ہے کہ وائرس ختم ہونے کا نام بھی نہیں لے رہا ہے۔

ٹیڈراس نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت اس ہفتے اپنا اجلاس بلا رہا ہے، جس میں کرونا وائرس کے بارے میں ہونے والی اب تک کی تحقیقات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور ترجیحات کو نئے سرے مرتب کیا جائے گا۔

درجنوں ویکسین ابھی تجرباتی طور پر پہلے سٹیج پر ہیں اور کچھ تجربات کے آخری مرحلے تک پہنچ چکی ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More