بھارت ’بلاشبہ‘ پاکستان اسٹاک ایکس چینج پر حملے میں ملوّث ہے: عمران خان

العربیہ  |  Jul 01, 2020

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے:’’ انھیں اس بات میں ’کوئی شبہ نہیں‘ کہ بھارت کراچی میں اسٹاک ایکس چینج پر حملے میں ملوّث ہے۔‘‘

دستی بموں سے مسلح چار بندوق برداروں نے سوموار کو کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکس چینج پر حملہ کیا تھا۔ان کے خلاف جوابی کارروائی میں ایک پولیس اہکار اور تین محافظ جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ پولیس کی سریع الحرکت فورس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ان چاروں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے منگل کے روز پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت کا اس حملے میں ہاتھ کارفرما ہے۔گذشتہ دو ماہ سے میری کابینہ کو پتا تھا کہ دہشت گردی کا کوئی حملہ ہوسکتا ہے اور میں نے اس بارے میں اپنے وزراء کو بتا دیا تھا۔ہماری تمام ایجنسیاں ہائی الرٹ تھیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’جو کچھ ممبئی میں ہوا تھا، وہ وہی کچھ کراچی میں کرنا چاہتے تھے، وہ بے یقینی پھیلانا چاہتے تھے۔‘‘ عمران خان بھارت کے تجارتی شہر ممبئی میں 2008ء میں دہشت گردی کے حملوں کا حوالہ دے رہے تھے جن کے نتیجے میں 160 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

لیکن بھارت نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کا کراچی میں دہشت گردی کے حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وزیراعظم پاکستان نے دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنانے کی کوشش میں اپنی جانوں کا نذرانے پیش کرنے والے پولیس کے ایک سب انسپکٹر اور تین سکیورٹی محافظوں کی بہادری کی تعریف کی اور انھیں پاکستان کے ہیرو قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ان اہلکاروں نے اپنی جانیں دے کر دہشت گردی کے ایک بڑے حملے کو ناکام بنایا ہے۔بھارت نے ہمیں عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔حملہ آوروں کے پاس بہت سا گولہ بارود موجود تھا اور وہ لوگوں کو یرغمال بنانا چاہتے تھے۔‘‘

عمران خان نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ ہماری ایجنسیاں پہلے سے ہائی الرٹ تھیں۔ انھوں نے دہشت گردی کے چار حملوں کی سازشوں کو ناکام بنایا ہے۔ان میں دو حملے اسلام آباد کے نواح میں کیے جانے تھے۔ہم مکمل طور پر تیار تھے۔یہ ہمارے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔‘‘انھوں نے سکیورٹی ایجنسیوں کو ان کے شاندار کردار پر بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More