امریکہ میں ٹک ٹاک سمیت دیگر چینی ایپس پر پابندی عائد کرنے پر غور

ہم نیوز  |  Jul 07, 2020

واشنگٹن: امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیونے کہا ہے کہ ٹک ٹاک سمیت دیگر چینی ایپس پر پابندی عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پابندی کی زد میں مشہور ویڈیو ایپ ٹک ٹوک ایپ بھی آئے گی۔ امریکہ میں 2020 کے پہلے تین ماہ میں 315 ملین افراد نے ٹک ٹاک ایپ ڈاون لوڈ کی تھی۔

امریکہ کے قانون سازوں نےصارفین کی جانب سے  ٹک ٹوک استعمال پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چینی قوانین کے بارے میں پریشان ہیں جن کے تحت نجی کمپنیاں کو وہاں کی خفیہ ایجنسیوں کیساتھ تعاون کرنا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

قبل ازیں امریکی کی بحری فوج میں سرکاری موبائل فون رکھنے والے افسران کو ٹک ٹاک کے استعمال سے روک دیا گیا تھا۔

سائبرحملے کے خطرے کی وجہ سے فوجی افسران یا اہلکار جو حکومت کی جانب سے دیا گیا موبائل فون استعمال کرتے ہیں ان کو ویڈیو ایپ ٹک ٹاک استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

امریکہ کی فوج کو خدشہ ہے کہ ایپلیکیشن ٹک ٹاک کی مالک کمپنی مسائل کھڑے کر سکتی ہے۔ مذکورہ کمپنی کی جانب سے مشکوک سرگرمیوں کے اگرچہ فی الحال کوئی شواہد نہیں ہیں لیکن مستقبل میں ہوسکتا ہے کہ یہ کمپنی چین کی حکومت کو فوجیوں کی ایسی معلومات فراہم کرے جو جاسوس بھرتی کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

خیال رہے کہ ٹک ٹاک نے گزشتہ برس امریکہ سے 6 کروڑ 24 لاکھ ڈالر کمائی کی تھی اور یہ دنیا میں ڈاؤن لوڈ ہونے والی تیسری بڑی ایپ ہے۔

چین میں بنائی جانے والی اس ویڈیو ایپ کو دنیا بھر میں اب تک ایک ارب 50 کروڑ سے زائد مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جاچکا ہے اور یہ دنیا کی مقبول ترین ایپ میں شامل ہے۔

بھارت نے چین کے ساتھ لداخ کے مقام پر ہونے والی جھڑپ کے بعد ٹک ٹاک سمیت 59 ایپلیکشنز پر پابندی عائد کر دی ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ٹک ٹوک کو ہانگ کانگ میں بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ 130 کروڑ بھارتیوں کے ذاتی نوعیت کے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے یہ اقدام کیا گیا ہے۔ بھارت نے جن موبائل ایپس پر پابندی عائد کی ہے ان میں ٹک ٹاک، شیئراٹ، یوسی براوزر، کلیش آف کنگز، بیوٹی پلس، ویگو ویڈو، ڈی یو براوزر، لائکی، وڈ میٹ سمیت دیگر 59 ایپس شامل ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More