کرکٹ ٹیم کے ’اثاثے ضبط‘ کرنے کا معمہ

اردو نیوز  |  Jul 28, 2020

غیر ملکی تحقیقاتی کمپنی ’براڈ شیٹ ایل ایل سی‘ نے ریاست پاکستان اور قومی احتساب بیورو کو خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے کمپنی کو واجب الادا تین کروڑ تین لاکھ ڈالرز پر پیش رفت نہ کی تو کمپنی دورہ انگلینڈ پر موجود پاکستان کرکٹ ٹیم کے اثاثوں کو ضبط کرنے کے لیے کارروائی عمل میں لائے گی۔

اس خط نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) میں بھی ہلچل مچا دی ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام معاملے پر مشاورت کر رہے ہیں۔

پی سی بی حکام نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ پر پی سی بی کو براہ راست فریق تو نہیں بنایا گیا لیکن چونکہ معاملہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا ہے اس لیے بورڈ حکام برطانیہ میں موجود اپنی لیگل ٹیم اور اسلام آباد میں حکومتی عہدیداران سے رابطہ میں ہیں۔

پی سی بی کے مطابق ’پاکستان کرکٹ بورڈ ایک خودمختار باڈی ہے اور دیکھا جائے تو یہ ریاست کا اثاثہ نہیں ہے، ہم اس معاملے پر حکومت اور لندن میں پاکستانی ایمبیسی سے رابطے میں ہیں اور اس حوالے سے مشاورت کی جا رہی ہے کہ اس پر کیا اقدامات کیے جانے کی ضرورت ہے۔‘

پی سی بی حکام نے کہا کہ متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد ہی اگر ضرورت ہوئی تو جواب دیا جائے گا ’لیکن اس معاملہ پر پی سی بی کو فریق نہیں بنایا گیا۔‘

خیال رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں براڈ شیٹ ایل ایل سی نامی فرم کو بیرون ملک خصوصاً برطانیہ میں موجود پاکستانیوں کے اثاثوں کے کھوج لگانے کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت 20 فیصد رقم فرم کو دی جانی تھی، تاہم 2003 میں یہ معاہدہ منسوخ کر دیا گیا ۔ بعد ازاں کمپنی نے نیب اور ریاست پاکستان کے خلاف ثالثی کی عدالت سے رجوع کیا اور معاملہ لندن ہائی کورٹ تک پہنچا جہاں پر پاکستان پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا۔

اس معاملے پر قومی احتساب بیورو کے ترجمان سے اردو نیوز نے موقف لینا چاہا تو متعدد ٹیلی فون کالز اور میسجز کے باوجود انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

حذیفہ صدیقی کے مطابق ’قانونی طور پر عدالت کی اجازت کے بغیر کارروائی نہیں ہو سکتی۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)کیا براڈشیٹ ایل ایل سی کا اقدام پاکستان کے لیے باعث شرمندگی ہے؟

بین الاقوامی ثالثی قوانین کے ماہر حذیفہ صدیقی نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی جانب سے کرکٹ ٹیم کے اثاثے ضبط کرنے کی عدالت میں درخواست اور نیب کے قونصل کو بھیجے گئے خط پاکستان کے لیے باعث شرمندگی ہے۔ ’اس سال کے بجٹ میں وزارت خزانے نے نیب کے لیے براڈشیٹ کو ادا کرنے کے رقم رکھی گئی ہے۔‘

 انہوں نے کہا کہ براڈشیٹ نے پاکستان کے خلاف لندن ہائی کورٹ میں کیس کیا ہے جس میں یہ درخواست کی گئی ہے کہ پاکستان کے اثاثے بیچ کر رقم ادا کی جائے، ’براڈشیٹ نے امریکہ میں بھی پاکستان کے اثاثے بیچنے کی درخواست کر رکھی ہے۔ اب اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کمپنی نے پاکستان کرکٹ ٹیم کا بھی ذکر کر دیا ہے جس کا بنیادی مقصد تو پاکستان کے دنیا میں شرمندہ کرنا ہے اور واقعی یہ کسی بھی ملک کے لیے باعث شرمندگی ہے۔‘

حذیفہ صدیقی کے مطابق ’قانونی طور پر جب تک عدالت اس کی اجازت نہیں دے گی کرکٹ ٹیم یا ان کے اثاثوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی اور عدالت اس وقت اس کی اجازت نہیں دے سکتی جب تک پاکستان اپنا جواب نہیں جمع کروائے گا۔‘

’خط کا مقصد یہی ہے کہ کمپنی ایسے اقدامات کریں گی جس سے ملک کی بدنامی ہوگی۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)جب تک عدالت میں یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم پاکستان کا اثاثہ ہیں تب تک عدالت ٹیم کے اثاثوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لانے کی احکامات جاری نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا ’براڈشیٹ کے خط کا مقصد ہی یہی ہے کہ انہوں نے پیغام دیا ہے کہ آپ نے معاملہ زیر التوا رکھا ہوا ہے اور اب ہم وہ اقدامات کریں گے جس سے آپ کے ملک کی بدنامی ہوگی۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More