انڈین پنجاب میں زہریلی شراب پینے سے 86 ہلاکتیں، تحقیقات کا حکم

اردو نیوز  |  Aug 02, 2020

 انڈین پنجاب میں زہریلی شراب پینے سے مرنے والوں کی تعداد 86 ہوگئی ہے۔ وزیر اعلی امریندر سنگھ نے واقعہ کی خصوصی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے انڈین حکام کے حوالے سے بتایا کہ یہ ہلاکتیں گزشتہ چند دنوں میں ہوئی ہیں۔

انڈین ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق  شمالی ریاست کے تین اضلاع  میں یہ ہلا کتیں ہوئی ہیں۔ پولیس نے اس سلسلے میں 25 افراد کو حراست میں لیا ہے۔

حکام نے سات ایکسائز ڈیپارٹمنٹ اور چھ پولیس اہلکاروں کو معطل کیا ہے۔

ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا گورداسپور ضلعے میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے۔پریس ٹرسٹ کے مطابق امرتسر میں 12 اور ترن ترن ضلعے میں 63 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

حالیہ دنوں میں دیگر اموات پر بھی شبہ ظاہر کیا گیا تھا  لیکن یہ ثابت نہیں ہوسکا کیونکہ لاشوں کا پوسٹمارٹم نہیں کرایا گیا تھا۔ 

ریاستی وزیر اعلی امریندر سنگھ نے ایک بیان میں کہا کہ ’ ہلاکتوں کی خصوصی تحقیقات کا حکم دیا ہے جو بھی قصور وار پایا گیا اسے چھوڑا نہیں جائے گا‘۔

انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایک مشتبہ شخص کی موت امرتسر ضلع میں غیر قانونی شراب پینے سے ہوئی ہے۔ اس کی اہلیہ کو شراب فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ انڈیا میں ہرسال ہزاروں افراد زہریلی شراب پنیے سے ہلاک ہوتے ہیں۔ دیسی طریقے سے بنائی گئی شراب دس روپے لٹر فروخت کی جاتی ہے۔

اس سے قبل انڈیا کی ریات آندھر پردیش میں شراب نہ ملنے پر مبینہ طور پر سینیٹائزر پینے سے دس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انڈیا میں ہرسال ہزاروں افراد زہریلی شراب پنیے سے ہلاک ہوتے ہیں۔(فوٹو اے ایف پی)پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق پولیس کے ایس پی سدھارتھ کوشل کا کہنا ہے کہ مرنے والے چند دنوں سے پانی اور سافٹ ڈرنکس کے ساتھ سینیٹائزر کا استعمال شراب کی جگہ کر رہے تھے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق اس واقعہ کے بعد سے اب تک سات ایکسائز اور چھ پولیس آفیشلز کومعطل کیا جا چکا ہے۔ 

شرومنی اکالی دل کے صدر سکھبیر سنگھ بادل نے ایک بیان میں کہا کہ ’اس ہولناک واقعہ کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیراعلی کوعہدہ چھوڑ دینا چاہیے‘۔

انہو ں نے مزید کہا کہ ’وزیر اعلی کی طرف سے جاری مجسٹریٹ کی سطح پر تحقیقات کے حکم کو ختم کرنا ہوگا۔اس معاملے کی اعلی عدلیہ کے حج سے آزادانہ تحقیقات کرائی جائے‘۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More