کچھ مصری مورخین‘ ناول نگار‘ افسانہ نگار و شعراء

روزنامہ اوصاف  |  Aug 13, 2020

مصری قاری محمد رفعت‘ ڈاکٹر طہٰ حسین کا ذکر قارئین پڑھ چکے ہیں۔ قاری محمد رفعت جب بیمار ہوئے تو مصری حکومت‘ سعودی حکومت‘ پاکستان کی حسین شہید سہروردی حکومت نے ان کا علاج کرانے کی پیشکش کی جسے قاری محمد رفعت نے شکرئیے سے نامنظور کر دیا‘ شدید بیماری کی حالت میں ہی فوت ہوئے۔ جو تقدیر مبرم ہو ‘ اس مقام تک انسان خود بخود پہنچ جاتا ہے۔ڈاکٹر طہٰ حسین کا ذکر ہو رہا ہے۔ تاریخ نویسی میں ان کی سیرت نبویؐ پر تین جلدوں میں عربی کتاب ’’ھامش علی السیرۃ‘‘ کا ذکر  قارئین پڑھ چکے ہیں۔ انہوں نے حضرت ابوبکرؓ وعمرؓ پر ’’الشیخاں‘‘ لکھی‘ حضرت علیؓ اور اولاد علیؓ پر  ’’ علی و بنوہ‘‘ لکھی۔ پاکستانی تعلیمی اداروں میں ایم اے عربی میں ان کا ناول ’’الدعاء الکروان‘‘ داخل نصاب ہے۔ جبکہ عباس محمود العقاد ‘ شاعر و ادیب و مصنف نے خلفائے راشدینؓ اور نمایاں صحابہ کرامؓ پر  ’’العبقریات‘‘ کے نام سے دلچسپ انداز میں تاریخ نویسی کی ہے جس طرح اقبال مشکل تراکیب کو اپنی شاعری میں استعمال کرتے تھے‘ اسی طرح قاہرہ سے تعلق رکھنے والے عباس محمود العقاد بھی مشکل تراکیب کا استعمال کرتے تھے۔ ایک نظم میں انہوں نے لکھا کہ شیطان اعظم افریقہ کے جنگل میں سو رہا ہے۔ شاگردوں نے بے چینی سے پوچھا‘ کہ آپ اتنے مطمئن کیوں ہوگئے ہیں؟ شیطان نے جواب دیا‘ شاگردو‘ جو انسانوں کو فتنہ و فساد کا تحفہ میں نے دینا تھا‘ میں نے یہ کام خود کرنے کی بجائے مسلمان علماء کو سونپ دیا ہے‘ اب یہ علماء آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھاتے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے پر فتویٰ جاری کرکے امت مسلمہ کو تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ لہٰذا یہ علماء (علماء سوء) میرا ہی کام کرتے رہتے ہیں۔ اسی لئے آرام سے نیند پوری کرتا ہوں۔ چلتے چلتے الدکتورۃ عائشہ بنت الشاطئی کا ذکر بھی کرتا چلوں۔ ان کی تاریخ  نویسی میں ان کی  دو عربی کتب کی شہرت ہے‘ -1ازواج النبی (نبیؐ کی ازواج مطہرات)-2 بنات النبی (نبیؐ کی بیٹیاں) یہ دونوں کتب مشرق وسطیٰ کی یونیورسٹیوں میں بی اے اور ایم اے کے لئے داخل نصاب ہیں۔مصر سے تعلق رکھنے والے نجیب محفوظ کا ذکر کرنا بھی مناسب ہوگا۔ وہ سماجی و معاشرتی ریفارمر کے طور پر ناول نویسی کرتے تھے‘ انہیں نوبل انعام دیا گیا تھا۔ قاہرہ سے تعلق رکھتی لبنانی النسل کو ’’میئی زیادہ‘‘ قاہرہ کی ثقافتی و علمی زندگی کا مرکز و محور تھی کچھ مدت وہ بیروت میں اور کچھ مدت قاہرہ میں رہتی۔ بہت مالدار خاندان سے تعلق رکھتی۔ ساری عمر شادی نہیں کی۔ حسن وجمال کا پیکر اور ذہانت و فطانت کا چلتا پھرتا اشرافیہ جسم‘ جتنے بھی مشہور مصر کے دانشور‘ اہل قلم‘ اسکالرز تھے اس کے دستر خوان پر جمع رہتے کچھ تو اس پر عاشق بھی تھے۔ مگر خود میئی زیادہ لبنانی النسل‘ امریکہ میں مقیم ’’الادب المھجر‘‘ کے بانی جبران خلیل جبران کی عاشق زار تھی۔ آج بیروت اجڑ چکا ہے مگر بیروت کبھی دنیائے عرب کا دل و دماغ ہوتا تھا۔ بیروت کی جامعہ بیروت جسے عرف عام میں امریکن یونیورسٹی کہا جاتا تھا‘ علم و ادب کا گہوارہ تھی‘ مگر آج یہی بیروت المناک حالت کا نام ہے۔کلاسیکل عربی ادب میں لطفی‘ منفلوطی کا نمایاں نام ہے‘ ان کی کتاب ’’العبرات‘‘ (آنسو) ہمارے تعلیمی اداروں میں داخل نصاب ہے۔ وہ جدیدیت‘ مغربیت کے خلاف شمشیر برہنہ ہے۔ ان کا سقوط غرناطہ پر لکھا ہوا مواد قاری کے آنسوئوں کا محرک ہو جاتا ہے۔ مگر یہ قدیمی معاشرے کا تجزیہ نگار دائیں بازو کے دانشوروں میں شمار ہوتا ہے۔سید قطب شہید کا شمار اخوان المسلمون کے علماء میں ہوتا ہے۔ ان کی تفسیر قرآنی ’’فی ظلال القرآن‘‘ بہت مقبول ہوئی جیسے مولانا مودی کی تفہیم القرآن مقبول ہوئی مگر مجھے سید قطب شہید سے تعارف بطور تنقید نگار حاصل ہوا تھا۔ ہمارے ایم اے عربی میں تنقید نگاری شامل نصاب تھی۔ دمشق سے تعلق رکھنے والے استاذ عبدالرحمان قلہ نے سید قطب  شہید کو تنقیدی عالم کے طور پر پیش کیا‘ ان کی لکھی ہوئی کتاب سے ہی بنگالی شاعر ٹائیگور سے واقفیت حاصل ہوئی سید قطب کو جمال عبدالناصر کے عہد میں جب پھانسی کی سزا دی گئی تو موت کے دروازے پر کھڑے سید قطب مسکراتے ہوئے مرتبہ شہادت پر فائز ہوگیا۔ام کلثوم کا ذکر ہوچکا کہ وہ قاہرہ کے حدیقہ ازبکیہ میں ہر ماہ موسیقی شو کرتی تھی جس میں عربی نغمہ سرائی کے عشاق مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر سے ایک رات کے لئے آتے یوں ام کلثوم کو بھی کافی آمدن ہو جاتی ام کلثوم جن شعراء کا کلام پیش کرتی ان میں ایک شاعر احمد رامی بھی تھے۔ دیگر شعراء سے یوں ممتاز کہ وہ اپنی شاعری کو بطور خاص ام کلثوم کے لئے لکھتے‘ اسی کو دیتے‘ گویا وہ عاشق ام کلثوم ہوں۔ اس کا جواب ام کلثوم کی طرف سے یہ تھا کہ جب بھی شو ہوتا‘ ام کلثوم پہلی صف میں احمد رامی کی نشست کا اہتمام کرتی‘ احمد رامی کے سامنے ان کا کلام پیش ہوتا‘ جب احمد رامی فوت ہوگئے تو ام کلثوم نے وفاء کے طور پر خالی کرسی پر احمد رامی کا فوٹو رکھنا شروع کر دیا‘ ادبی محبت و موسیقی کا یہ دلچسپ تجربہ  مصری تاریخ میں قابل احترام ہے۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More