امریکی صدارتی امیدوار جو بائیڈن کی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پالیسیوں پر تنقید

ہم نیوز  |  Aug 13, 2020

واشنگٹن: 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے نئی دہلی سے پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مسلم فار بائیڈن پلیٹ فارم کے تحت منعقدہ ورچوئل فنڈ ریزنگ کے شرکا سے گفتگو میں جو بائیڈن نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: 

امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور نسلی امتیاز کا اعتراف کرتے ہوئے جو بائیڈن نے یقین دلایا کہ ان کی انتظامیہ میں مسلمانوں کو ہر شعبہ میں نمائندگی ملے گی۔

اس دوران انہوں نے برائی کو روکنے سے متعلق رحمت اللعالمین حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کی حدیث سنائی اور اسلام سے متعلق گہری معلومات کا اظہار کیا۔

ورچوئل فنڈ ریزنگ میں 13 لاکھ امریکی ڈالر اکٹھے کیے گئے۔

دوسری جانب چند روز قبل امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے تجویز دی تھی کہ کورونا وبا کے سبب ملک میں اکتوبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات ملتوی کردیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: 

ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب تک عوام محفوظ طریقےسے ووٹ نہ ڈال سکیں انتخاب کو ملتوی کر دیا جائے۔

انہوں نے کہا کورونا وبا کے دوران پوسٹل بیلٹ سے ہونے والا انتخاب تاریخ کا بدترین فراڈ اورغلط انتخاب ہوگا۔

30 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو سخت نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ انہیں دوبارہ صدارتی انتخاب میں جیتنے سے روکنا چاہتا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق امریکی صدر نے الزام عائد کیا تھا کہ چین خواہش مند ہے کہ آئندہ امریکی صدارتی انتخاب میں ڈیمو کریٹ امیدوار جوبائیڈن کامیاب ہوں۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو لنگڑا قرار دے دیا

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پرکہا تھا کہ وہ چین کے خلاف مختلف آپشنز پرغورکر رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر نے اس سے قبل کہا تھا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے وہ چین سے خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے عالمی ادارہ صحت پر بھی سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے جن میں چین نوازی کا بھی الزام شامل تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More