ووہان میں کروناکےحقیقی مناظرپرمبنی فلم”76دن”۔

سماء نیوز  |  Sep 16, 2020

تصویر: اے ایف پی

فروری 2020 میں 2 چینی فلمسازوں نے حفاظتی لباس پہنے چین کے شہر ووہان کے اس اسپتالوں میں عکس بندی کی جہاں کرونا سے متاثرہ مریضوں کا بے پناہ رش تھا۔ دل دہلا دینے والے ان مناظرمیں خوف زدہ چینی شہریوں کی افراتفری، اسپتالوں کے دروازے پیٹنا، تھکن سے چورطبی عملہ اور پیاروں کے دیدار کیلئے انتظامیہ سے کی جانے والی منت سماجت شامل ہیں۔

یہ تمام تصاویر اور ویڈیوز نیو یارک سے تعلق رکھنے والے ڈائریکٹرہاؤ وو نے ایڈٹ کرکے ووہان میں 76 روزہ سخت لاک ڈاؤن کے نام پر بنائی جانے والی ڈاکومینٹری ” 76 ڈیز ” میں شامل کیے ہیں جو پیر 14 ستمبر کو ٹورنٹو فلم فیسٹول میں دکھائی گئی۔

یہ کرونا کے مرکز ووہان سے متعلق تھیٹرز میں پیش کی جانے والی پہلی بڑی ڈاکومینٹری ہے۔ دستاویزی فلم کا انحصار ڈاکٹروں اورمریضوں کو اس نئی اوراذیت ناک حقیقت سے نمٹنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھائی جانے والی ویڈیوز پر ہے جس کے پس منظر میں آواز کا استعمال یا انٹرویوزشامل نہیں کیے گئے۔

فلم الزامات اورسیاست سے بڑھ کر انسانی جذبات،مایوسی، امید اور بہادری پرتوجہ مرکوزکررہی ہے جو پوری دنیا میں دہرائی گئی۔ طبی عملہ اپنی فیملیز سے دورمریضوں کے ہاتھ تھام کر انہیں حوصلہ دیتا ہے اورحفاظتی لباس میں ملبوس دونوں ایک دوسرے سے سر ٹکرا کر خلوص کا اظہار کرتے ہیں۔

وو نے اس مقصد کیلئے 2 فلمسازوں سے رابطہ کیا تھا جن میں سے ایک سکیورٹی وجوہات پر اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ نئے چینی سال کے دوران خاندان سے ملنے کیلئے چین جانے پرفلمساز نے اپنی آنکھوں سے لاک ڈاؤن کا مشاہدہ کیاتھا۔

اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے وونے بتایا ” یہ سب عکس بند کرنا بہت اندوہناک تھا، دونوں گر رہے تھے اور وہاں بہت گرمی تھی۔ کئی بار تو فلم ساز ویکسی چین کو قے آتے آتے رہ گئی لیکن انہوں نے اسے روکا کیونکہ یک بار حفاظتی لباس اتار دینے کی صورت میںباہر جانا پڑتا تھااو پھرآپ اندرنہیں آسکتے تھے۔ یہ تجربہ میدان جنگ میں عکسبندی کرنے جیساتھا۔

وونے اس فلم کو ایک ذاتی وجہ کے باعث بھی بنانے میں دلچسپی ظاہرکی کیونکہ کرونا کی وبا کے دوران ان کے دادا کینسر سے وفات پا گئے تھے اوراسپتالوں میں رش ہونے کے باعث انہیں جگہ نہیں مل سکی تھی۔ وو نے بتایا “آغاز میں مجھے چینی حکومت پرغصہ تھا اور میں جاننا چاہتا تھا کہ یہ کس کی غلطی ہے۔لیکن جب وبا پھیلی تو بڑی مصیبت بن گئی۔ امریکا سمیت دوسرے ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آ ئے تو الزام عائد کرنے کی خواہش اس بات میں تبدیل ہوئی کہ بطور انسان اس تمام صورتحال سے گزرنے کا تجربہ کیسے دوسروں کے ساتھ بانٹا جائے”۔

اس دوران چین کے ذرائع ابلاغ پر سخت کنٹرول کے باوجود رسائی حاصل کرنا آسان تھا جبکہ نیو یارک کے اسپتالوں میں عکسبندی قانونی طور پرزیادہ مشکل ثابت ہوئی۔ آغاز میں ووہان کے اسپتالوں نے حفاظی لباس نہ ہونے کے باعث کوریج کرنے والوں کو ویلکم کہا کیونکہ وہ ایسا کرکے امدادی سامان اوررضاکاروں کی توجہ چاہتے تھے۔

فی الحال یہ واضح نہیں کہ ٹورنٹو فلم فیسٹول میں دکھائی جانے والی یہ فلم چین میں بھی دکھائی جا ئے گی یا نہیں۔ کووڈ 19 کے حوالے سے چین پرالزام رہا ہے کہ خبروں کو پہلے دن سے کنٹرول میں رکھا جا رہا ہے اور اس حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ بھی چین پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ وہ صورتحال چھپا رہا ہے۔

وو کے مطابق “مجھے یہ ڈاکیومینٹری چین میں دکھا کر زیادہ خوشی ہوگی کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ کووڈ 19 نے پورے ملک کی نفسیات پر اثرات مرتب کیے ہیں، زیادہ تر چینی فخر محسوس کرتے ہیں کہ انکے ملک نے اس پر قابو پا یا لیکن دوسری جانب یہ ایک نفسیاتی صدمہ بھی ہے”۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More