نابینہ لوگوں کو مل گئی ایک نئی اُمید کی کرن

سچ ٹی وی  |  Sep 16, 2020

بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک دہائی سے زائد عرصے تک کام کر کے اس ڈیوائس کو تیار کیا ہے جس میں اسمارٹ فون اسٹائل کے الیکٹرونکس اور دماغ میں نصب کرنے والی مائیکرو الیکٹروڈز کا امتزاج استعمال کیا گیا ہے۔

یہ نظام ابتدائی کلینیکل تحقیق میں بھیڑوں پر مؤثر ثابت ہوا تھا اور اب محققین انسانوں پر پہلے ٹرائل کی تیاری کر رہے ہیں۔

یہ نئی ٹیکنالوجی بصری اعصاب کو پہنچنے والے اس نقصان کو بائی پاس کرجاتی ہے جس کو اندھے پن کا باعث قرار دیا جاتا ہے۔

یہ ڈیوائس ایک کیمرے کی جانب سے اکٹھی کی جانے والی تفصیلات کا ترجمہ کرتی ہے اور اسے ایک وژن پراسیسر یونٹی اور کاسٹیوم سافٹ ویئر کے ذریعے وائر لیس طریقے سے دماغ میں نصب ٹائلز تک پہنچا دیتی ہے۔

یہ ٹائلز تصویر ڈیٹا کو الیکٹریکل لہروں میں بدلتی ہیں جو دماغی نیورونز تک ایسے مائیکرو الیکٹروڈز کے ذریعے پہنچتی ہیں جو انسانی بال سے بھی پتلی ہوتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار مفلوج مریضوں کے ساتھ ساتھ دیگر دماغی امراض کے شکار مریضوں کے لیے بھی مفید ثابت ہوسکے گا۔

فی الحال اس ڈیوائس کو تجرباتی طور پر بنایا گیا ہے، سرمائے کی فراہمی ہوتے ہی اسے کمرشل بنیادوں پر بنانا شروع کردیا جائے گا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More