اپوزیشن کو وزیراعظم کا استعفیٰ نہیں، این آر او چاہیے: سینیٹر فیصل جاوید

ہم نیوز  |  Sep 21, 2020

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو وزیراعظم کا استعفیٰ نہیں، این آراو چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی اے پی سی ہمارے لیے ایک فیسٹیول ہے۔

ہم نیوز کے پروگرام ’نیوز لائن‘ میں میزبان ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار خان کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات میں انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ایک جیسے ہیں اس لیے اکھٹے ہی اچھے لگتے ہیں۔

سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ اپوزیشن نے ہمیشہ این آراو لینے کی کوشش کی ہے لیکن عمران خان نے اپوزیشن کے مطالبات کو مسترد کیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے دعویٰ کیا کہ اگر اپوزیشن کے مطالبات کو مان لیا جاتا تو انہوں نے کچھ نہیں کرنا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کبھی ان کو این آر او نہیں دیں گے۔

سینیٹرفیصل جاوید نے کہا کہ نوازشریف کی تقریرلائیو دکھانے سے وہ خود بے نقاب ہوئے ہیں کیونکہ سب کو اندازہ ہو گیا ہے کہ نواز شریف صحت مند ہیں۔

سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ عمران خان ان لوگوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اگر منی لانڈرنگ نہیں کی تو پھر قانون سازی سے کیا خوف ہے؟

ہم نیوز کے پروگرام نیوز لائن میں شریک دوسرے مہمان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما مصدق ملک نے سوالات کے جوابات میں کہا کہ ہم بھی کہتے ہیں کہ منی لانڈرنگ نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایف اے ٹی ایف قانون کی آڑ میں لوگوں کو غیر محفوظ بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت لوگوں نے کہا کہ بل کو پڑھے بغیر سپورٹ کریں۔

ن لیگ کے مرکزی رہنما مصدق ملک کا کہنا تھا کہ حکومت مسائل پر توجہ دینے کے بجائے گزشتہ دو سال سے صرف چور چور کا نعرہ لگا رہی ہے۔

ہم نیوز کے پروگرام نیوز لائن کی میزبان ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار خان کی جانب سے پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے دعویٰ کیا کہ جمہوریت کے لیے اے پی سی کے اچھے نتائج نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی سی میں شریک تمام جماعتوں نے ہر آپشن پر غور کیا۔

اے پی سی، اپوزیشن کا وزیراعظم عمران خان کے فوری استعفے کا مطالبہ

سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی صاحبزادی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ اے پی سی میں فیصلہ ہوا ہے کہ جنوری میں لانگ مارچ کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More