زراعت کے حوالے سے تین متنازع بلوں کی منظوری, بھارت میں کسانوں کا احتجاج جاری

سچ ٹی وی  |  Sep 28, 2020

ملک کی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں اتوار کو حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے شدید احتجاج کے باوجود حکومت نے قوانین کے مسودوں کو منظور کروالیا۔

بھارت میں تین متنازع قوانین کسانوں کے لیے بڑی تبدیلی لے کر آئے ہیں اور ان کی وجہ سے ملک کی پارلیمان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی ہے، ان پر شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں اور دیہات کی سڑکوں پر آگیا ہے۔

بھارتی کسانوں کا کہنا ہے کہ نئے قوانین سے ان کا زرعی اشیا کی قیمتوں کے تعین کا اختیار متاثر ہوگا جبکہ بڑے ریٹیلرز قیمتوں کو کنٹرول کریں گے۔

کسانوں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صدر رام ناتھ کووند کی جانب سے ان قوانین کی منظوری سے کسانوں میں مزید افراتفری پھیلنے کا امکان ہے۔

ان قوانین کی منظوری کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت پنجاب میں ایک اہم سیاسی حمایتی سے محروم ہوگئے ہیں، حزب اختلاف کی اہم جماعت کانگریس نے کسانوں کی جانب سے ان بلوں کے خلاف مظاہروں کی حمایت کی تھی۔

 پارلیمان کے مون سون اجلاس میں بی جے پی حکومت نے ملک میں زراعت کے متعلق تین بلوں کو منظور کیا تھا، حزب اختلاف، خاص طور پر کانگریس نے ان قوانین کی شدید مخالفت کی تھی اور انہیںکسان مخالف قرار دیا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ آزادی کے بعد سے زراعت کے شعبے میں کی جانے والی یہ سب سے بڑی اصلاح ہے لیکن حزب اختلاف کے ساتھ بی جے پی کی اتحادی پارٹی اکالی دل نے بھی اس کی مخالفت کی ہے اور ان کی ایک وزیر اور اکالی رہنما ہرسمرت کور بادل نے تو اس معاملے پر گزشتہ دنوں اپنے عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔

بلوں سے متعلق وزیراعظم نریندر مودی نے ٹویٹ کیا تھا کہ بڑھی ہوئی ایم ایس پی کسانوں کو مضبوط کرے گی اور ان کی آمدنی کو دگنا کرنے میں مدد کرے گی۔

حزب اختلاف کی جماعتیں یہ الزام عائد کر رہی ہے کہ حکومتی جماعت نے پارلیمانی قواعد و ضوبط کی خلاف ورزری کرتے ہوئے ان قوانین کو منظور کروایا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پارلیمان میں پیش کیے جانے سے قبل ان مسودہ قوانین کو متعلقہ کمیٹیوں میں بحث کے لیے بھیجنے کے جائز مطالبے کو بھی حکومتی بینچوں نے نظر انداز کر دیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More