قیدی باہر بیٹھ کر نظام پر ہنس رہا ہو گا: اسلام آباد ہائی کورٹ

وائس آف امریکہ اردو  |  Oct 01, 2020

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نےجسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے بیماری کی غرض سے لند ن جا کر اور عدالت کا سامنا نہ کر کے پورے پاکستانی نظام کی کی تضحیک کی ہے۔

وہ نواز شریف کی ایون فیلڈ ریفرنس میں ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت کر رہے تھے۔ انہون اپنے محسن اختر کیانی نے کہا کہ ملزم کو معلوم ہے کہ وہ سارے نظام کو شکست دے کر گیا ہے۔ وہ وہاں بیٹھ کر اس نظام پر ہنس رہا ہو گا۔

اُنہوں نے کہا کہ عدالت نواز شریف کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہے اس کی تعمیل کیوں نہیں ہوئی؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ پاکستانی ہائی کمیشن کا اہل کار وارنٹ کی تعمیل کرانے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس گیا، لیکن موجود ایک شخص نے وارنٹ وصول کرنے سے انکار کر دیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جتنی مشکلات مجرم کو وارنٹ گرفتاری پہنچانے میں ہو رہی ہے۔ اس عرصے میں کئی سائلین کی داد رسی ہو سکتی تھی۔

اُنہوں نے کہا کہ آئندہ وفاقی حکومت کو بھی یہ خیال رکھنا ہو گا کہ کسی مجرم کو ملک سے باہر جانے کی اجازت کیسے دینی ہے۔

خیال رہے کہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اِن دِنوں علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں۔ اُنہیں لاہور ہائی کورٹ نے نومبر 2019 میں طبی بنیادوں پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

علاوہ ازیں اسلام ہائی کورٹ نے بھی العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم کی سزا چھ ہفتوں کے لیے معطل کر دی تھی۔

حکومت نے نواز شریف کو بیرونِ ملک علاج کے لیے جانے کی غرض سے انڈیمنٹی بانڈ کی شرط رکھی تھی جسے لاہور ہائی کورٹ نے ختم کر دیا تھا۔

عدالت نے بیان حلفی کی بنیاد پر نواز شریف کو چار ہفتوں کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دے دی تھی جس کے بعد نواز شریف 19 نومبر کو لندن روانہ ہوئے تھے۔

مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ میاں نواز شریف جلد پاکستان میں ہوں گے۔ مریم اورنگزیب کا بھی ایک بیان میں کہنا تھا کہ جیسے ہی نواز شریف کو ان کے معالج اجازت دیتے ہیں وہ وطن واپس آ جائیں گے۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹیلی وژن کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ حکومت سابق وزیراعظم کو واپس لانے کی پوری کوشش کرے گی تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک مشکل کام ہو گا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More